Can’t understand Billo Bhutto Zardari. By his own account, the establishment was responsible for his grandfather’s execution and his mother’s assassination. Yet boots are being slobbered over while his harshest attacks are reserved for Bushra Bibi & Imran , whose greatest offence against him was exposing alleged corruption. It seems that, for some, money speaks louder than blood.
کچھ تو پشتون کلچر کی لاج رکھ لیں آپکی والدہ کی عمر کی خواتین ہیں۔ نام لیتے ہوئے کچھ ادب اور تہزیب رکھ لیں۔ انکے بھائی کی وجہ سے آپکو پہچان ملی۔ اتنی احسان فراموشی۔ اتنی روایات کی پستی۔ خدا کی پناہ۔
منصور علی خان نے اگر ابا جی کا دودھ پی رکھا ہے تو ایک پروگرام ڈاکٹر شہباز گل یا ڈاکٹر معید پیرزادہ کیساتھ رکھ لے۔ علیمہ خانم ، نورین خانم غیر سیاسی خواتین ہیں اور صرف عمران خان کی قید تنہائی کے خاتمے اور رہائی کے لیے متحرک ہیں۔ ہم بھی دیکھ لیں گے یہ کیا نشر کرسکتا ہے اور کتنا سچ سن سکتا ہے۔
اگر آپکو لگتا ہے کہ فضل الرحمان صاحب کی بغاوت اصلی بغاوت ہے اور اس کے پیچھے جنرلز نہیں ہیں تو پھر بد قسمتی سے آپ stunted growth کا شکار ہیں۔ اللہ آپ پر رحم کرے۔
یہ بس ایک نیا جرنیلی پراجیکٹ ہے۔ اور کچھ نہیں۔
جرنیلوں تم آؤ گے
اپنی گودڑی اٹھاؤ گے اور چلے جاؤ گے۔ تمہاری نظر اسلام آباد کے ایک ایک سیکٹر پر ہے، تم مونال پر قبضہ چاہتے ہو، تم پورے پاکستان پر قابض ہو۔ مگر یاد رکھو، اقتدار ہمیشہ کے لیے کسی کے پاس نہیں رہتا۔ اس ملک کا اصل مالک عوام ہے، نہ کہ بندوق کے زور پر فیصلے کرنے والے جرنیل۔
تمہاری حکومت اتنی کمزور ہے کہ تم مولانا فضل الرحمٰن کو گرفتار نہیں کر سکتے، اور نہ اکیلے جاوید ہاشمی کو خاموش کرا سکتے ہو۔ مولانا کے لاکھوں پیروکار ہیں، مگر اصل طاقت عوام کی ہے۔
آج میں آپ کو دو کہانیاں سناتا ہوں، جو ہمارے جرنیلوں اور آج کے ملکی حالات کی عکاسی کرتی ہیں۔
پہلی کہانی
آپ کو محمد شاہ رنگیلا اور سائرہ تو یاد ہوگی
ایک وقت تھا جب محمد شاہ رنگیلا دہلی پر حکومت کرتا تھا۔ اسے شراب و شباب سے فرصت نہ تھی۔ نادر شاہ نے دہلی پر حملہ کیا، قتلِ عام کیا، شہر اجاڑ دیا۔ جب محمد شاہ کو بتایا جاتا کہ نادر شاہ دہلی میں داخل ہو چکا ہے تو وہ بے پروائی سے کہتا: “کوئی ایک آدھا شہر لے جائے گا تو کیا ہو جائے گا؟” اور پھر اپنی طوائف سائرہ کی طرف اشارہ کر کے کہتا: “سائراں دے، جھوٹا!” مطلب سائرہ جھولاجھلاتی رہو!
آخرکار نادر شاہ اس تک پہنچ گیا، مگر کہا: “میں تمہیں اپنا بھائی بناتا ہوں، حکومت نہیں لوں گا۔” محمد شاہ کوہِ نور اپنی پگڑی میں چھپا چکا تھا۔ نادر شاہ نے کہا: “ہمارا دستور ہے کہ بھائی بنتے وقت پگڑی بدلی جاتی ہے۔” پگڑی بدلی گئی، اور کوہِ نور بھی چلا گیا۔
دوسری کہانی
ایک ملک میں نیا بادشاہ بنانا تھا۔ لوگوں نے فیصلہ کیا کہ صبح جو پہلا آدمی سامنے آئے گا، اسے بادشاہ بنا دیں گے۔ ایک شخص گودڑی اٹھائے آ رہا تھا، اسے بادشاہ بنا دیا گیا۔
وہ ہر مسئلے کا ایک ہی جواب دیتا: “پکاؤ حلوہ!”
ملک پر حملہ ہوا، تب بھی اس نے کہا: “پکاؤ حلوہ!” وہ کہتا تھا: “تم نہیں جانتے میری گودڑی میں کیا ہے۔” جب دشمن اس تک پہنچ گیا تو اس نے کہا: “میں تو حلوہ کھانے آیا تھا، لوگوں نے مجھے بادشاہ بنا دیا۔” اس نے حلوہ کھایا، اپنی گودڑی اٹھائی اور چلتا بنا۔
جب مشرقی پاکستان میں جنگ چھڑی تو یحییٰ خان کا طرزِ عمل بھی کچھ ایسا ہی تھا۔
آج بھی ہمارے جرنیل اسی ذہنیت کے اسیر دکھائی دیتے ہیں۔ اقتدار آتا ہے، وسائل پر قبضہ ہوتا ہے، حلوہ تقسیم ہوتا ہے، اور پھر گودڑی اٹھا کر رخصت ہو جاتے ہیں۔ نقصان مگر پاکستان کا ہوتا ہے، قیمت عوام ادا کرتے ہیں، اور تاریخ نئے ناموں کے ساتھ پرانی غلطیاں دہراتی رہتی ہے۔ اپنا حلوہ کھاؤ گے اور بھاگ جاؤگے!
آج مخدوم جاوید ہاشمی کی 79 سالگرہ ہے۔ فوجوئیوں نے ان کے گھر پر قبضہ کر کے اور انکی بیٹیوں نواسی اور اہلیہ کو محاصرے میں لے کر سالگرہ کا تحفہ دے دیا ہے۔
دوپہر کو رینجرز کے زیر سایہ مخدوم جاوید ہاشمی کے گھر کے میٹر اور ٹرانسفارمرز لے جا کر اندھیرا کر کر رات 12:30 سے ان کے گھر کو قبضے میں لے لیا ہے۔ صدیوں سے با پردہ گھر کی خواتین کے بیڈ روموں میں گھس چکے ہیں۔
مفاہمت نہ سکھا جبر ناروا سے مجھے
میں سر بکف ہوں لڑا دے کسی بلا سے مجھے!
عمران خان نے آج تک جرنیلوں سے شدید ترین لڑائی ہونے کے باوجود دو باتیں کبھی نہیں کیں
کبھی کمپنی کے شہدا کی تضحیک نہیں کی
کبھی فوج کو جنگیں ہارنے کا طعنہ نہیں دیا
پھر بھی کمپنی عمران خان کی دشمن کیوں ہے سوچیئے؟ مسئلہ شہدا یا فوج کی عزت نہیں مسئلہ اقتدار پہ قبضے کا ہے!
مایوسی کفر ہے میں آپ کو بتا رہا ہوں اندھیری رات تقریباً گزر چکی ہے وہ وقت آ رہا ہے کہ جس حق کے ساتھ ہم کھڑے تھے وہ غالب آ رہا ہے بہت جلد عمران خان رہا ہو کر ہم سب کے درمیان آ رہا ہے
قاسم سوری کا اورلینڈو فلوریڈا میں Release IMRAN KHAN کنونشن سے خطاب
اسحاق ڈار نے زندگی بھر پاکستان کی معیشت لوٹی اور شریفوں اور فوج کے ساتھ مل کر ملک کی ترقی کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی۔ اب اس کے بچے اور ان کے بچے بھی وہی کر رہے ہیں۔
#PAKWatch🇵🇰: Imran Khan's sister, Uzma, calls out the CORRUPT PAKISTANI GOVERNMENT:
"They want to kill Imran Khan. We don’t know what is happening to him in jail. His life is in serious danger."
FREE CAPTAIN PAKISTAN.
جو جیو پر ہوا بہت سنگین غلطی ہے اور اس سے بہت سارے مسلمانوں کی دل شکنی ہوئی۔ لیکن میرا نہیں خیال جیو اور جنگ گروپ نے قصدً یہ غلطی کی۔ غلطی ہوئی۔ اس پر معافی مانگی گئی۔ اس لئے اس پر مزید آگ نہیں بڑھکانی چائیے۔ جب غیر مشروط معافی مانگ لی گئی تو اس معاملے میں معتبر علما اپنا کردار ادا کر یں اور اس معاملے کو حل ہونا چاہیئے ۔
حالانکہ جیو نے ہمارے خلاف عدت اور نکاح کے غلیظ ترین کیسز کی المناک ٹرامیشن رن کی۔ سپیشلی جو گند شاہ زیب خانزادہ کے شو پر کیا گیا وہ شرمناک ہے۔ ہمارے گھروں کی خواتین کے خلاف ٹرامیشنز رن کی۔ جب میں گرفتار تھا تو جہاں ریما صاحبہ بینظیر صاحبہ شہزاد اقبال صاھب نے زمہ دار رپورٹنگ کی۔ وہیں پر جیو جنگ نے انصار عباسی جیسے منافقوں کے زریعے پورا پورا اخبار جھوٹی جعلی خبروں اور ہیڈ لائینز سے بھر دیا۔ ایک چائینہ کا میراثی جو جھوٹا سید بنا ہوا ہے اس کو جھوٹ بولنے پر چھوڑا۔ اور بعد میں جب ان سے پوچھو تو یہ بتاتے ہیں دیکھیں ریما بینظیر شہزاد اقبال آپ کے لئے اچھی بات کرتے رہے۔ لیکن اصل بات نہیں بتاتے کہ پورا پورا نیوز بلیٹن اور پورا پورا اخبار جھوٹ پر مبنی چھاپتے رہے۔ یہ سبھی کو بے وقوف سمجھتے ہیں۔
ان کی تمام تر مکاریوں کے باوجود ہمیں اپنے غم اور تکلیف کو ایک طرف رکھ کر انصاف کے تقاضوں کو مد نظر رکھنا چاہئیے۔
میرے خیال میں غیر مشروط معافی کو قبول کرنا چاہئیے۔ اور اس نازک معاملے پر کسی قسم کے انتشار اور مزید نفرت انگیز مہم کا حصہ نہیں بننا چاہئیے۔
ڈاکٹر یاسمین راشد کی دل دکھا
دینے والی وصیت💔
ہو سکتا ہے مجھے جیل میں موت آ جائے، حالات کچھ ٹھیک نہیں لگ رہے۔ اس لیے میں اپنی عوام، پارٹی ورکرز اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹس سے وصیت کرتی ہوں کہ عمران خان کو کبھی اکیلا نہ چھوڑنا۔ 😢
یا رب تو نے مجھے تین بیٹیاں عطا کی ہیں۔ درندوں کے اس جنگل میں ان کی حفاظت فرمانا۔۔ انھیں نیک بخت بنانا۔۔ کسی ننھی پری کے ساتھ ظلم کا دیکھ کر سن کر روح کانپ جاتی ہے۔