ہماری فوج کے منہ کو کافی عرصے سے کاروبار لگ چکا ہے، پاکستان میں کوئی بھی کاروبار اٹھا کر دیکھ لیں اس میں فوج اپنا مد مقابل رہنے نہیں دیتی، چاہے ریئل اسٹیٹ کا کاروبار ہو یا کارن فلیکس بنانے کا کاروبار ہو کوئی بھی ایسا دھندہ نہیں ہے جو یہ نہیں کرتے، جب سارے دھندے ختم ہو گئے تو پتہ چلا کہ مٹی بھی بیچنی ہے، یہ سب جھوٹ ہے کہ ہم عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن کرنا چاہتے ہیں اور خیبر پختونخوا کی حکومت کرنے نہیں دے رہی تھی، 15 سالوں سے فوج وزیرِ ستان میں آپریشن کر رہی ہے اور کیا آپریشن کر رہی ہے؟ وزیرِ ستان سے کرومائیٹ کا اخراج ہو رہا ہے، 2,3 سال پہلے جہاں چلغوزے کا جنگل تھا اور اربوں کی فصل ہوتی تھی فوج نے وہاں سے لوگوں کو ہٹا دیا اور اب اربوں روپے کی فصل خود بیچ رہے ہیں، پاکستان میں امریکہ کی موجودہ ناظم الامور (Chargé d'Affaires) ��ور اعلیٰ ترین امریکی سفارتی عہدیدار نیٹلی اے بیکر نے اپنے ایک انٹرویو میں فوج کا سارے کا سارا پلان کھول کے رکھ دیا ہے، خاتون فرماتی ہیں کہ قبائلی علاقوں کے اندر 7 ٹریلین ڈالر کے مائنز اینڈ منرلز ہیں اور امریکہ آپ کی مدد کرے گا انہیں نکالنے کے لیے، فوج کے لیے خیبر پختونخوا کی حکومت اس لیے ناگوار حکومت تھی، مسلہ ملٹری آپریشن کا نہیں تھا ملٹری آپریشن تو جاری ہے وہ تو ختم ہی نہیں ہوا، اگر فوج کو ملٹری آپریشن کرنا تھا تو بلوچستان میں کرتے، آج بھی بی ایل نے بلوچستان میں فوج کے 14 بندے مارے ہیں اور آئے روز مارتے ہیں، بلوچستان کا وزیرِ اعلیٰ اپنے دفتر سے باہر قدم نہیں رکھ سکتا ہے، عسکریت پسندی تو جس صوبے میں جاری ہے اور عوامی حکومت ختم ہو چکی ہے وہ تو بلوچستان ہے، خیبر پختونخوا میں سب کچھ واضح ہے یہاں سارا مسلہ پیسے اور رقبے کا ہے، خیبر پختونخوا کے قبائلی علاقوں میں فوج کے سارے آپریشنز دراصل مائنز اینڈ منرلز کے لیے ہیں اور فوج اس کو ایک نو گو ایریا رکھنا چاہتی ہے، وزیرِ ستان سے جو کرومائیٹ نکالا جا رہا ہے اس کا پیسہ نہ صوبائی حکومت اور نہ ہی وفاقی حکومت کو جا رہا ہے تو اس کا پیسہ کہاں جا رہا ہے؟ بیرسٹر شہزاد اکبر
#FascismUnderAsimLaw
#PakistanUnderMartialLaw
۱- باس کون؟(پارٹ ۲)
محسن نقوی ماضی میں دنیا کی طاقتور ترین انٹیلیجنس ایجنسیوں کیساتھ ملکر کام کرتے رہے ہیں اِنکے ساتھ انکے گہرے مراسم تھے
جیسے ہی حکومت بدلی زرداری، شریف کےساتھ تمام میٹنگز محسن نقوی نے کیں
عاصم منیر کے م��علق کہا جاتا ہے یہ آئے نہیں لائے گئے ہیں بینالاقوامی طاقتوں
کیا پرواز کارڈ منصوبے پر مریم نواز کو ان کے سٹاف نے اندھیرے میں رکھا؟
نوجوان صحافی اوصاف علی خان نے وزیراعلیٰ پنجاب کے پرواز کارڈ سے متعلق بڑا اسکینڈل بے نقاب کر دیا، رپورٹر کے مطابق پہلے 135 طلبہ سے چار لاکھ روپے فی کس وصول کیے گئے اور کہا گیا کہ یہ رقم واپس کر دی جائے گی، لیکن رقم واپس نہیں کی گئی۔ ��عد ازاں پڑھے لکھے طلبہ کو بیرونِ ملک بھیجا گیا، جہاں انہیں جھاڑو لگانے جیسی نوکریاں دی گئیں۔ متعدد طلبہ اب واپس پاکستان آنا چاہتے ہیں، لیکن مبینہ طور پر کمپنی واپسی کے لیے پانچ لاکھ روپے مانگ رہی ہے
پنجرے میں بند کیا ہوا تھا ایمان مزاری اور ہادی علی کو، ہمیں دور سے دیکھنے کی اجازت دی گئی، یہ کیا کُت خانہ مچایا ہوا ہے اس ملک میں، یہ کوئی ریاست ہے؟ شیریں مزاری
سہیل آفریدی بزدل ہے بلاول۔۔۔
اچھا ان کے ابا جی دلیر ہیں بمبینو سینمے والے جو اینٹ سے اینٹ بجا کر کہنے کے بعد تین سال پاکستان ہی نہں آئے۔۔
ان کی والدہ محترمہ کان کے درد کا بہانہ لگا کر واپس ہی نہیں آہیں جب تک کونڈالیزا رائس ن�� معاہدہ نہیں کروایا۔
وزرات اعلیٰ کے امیدواروں اور تمام لوگوں کو مشورہ ہے کہ عمران خان کی اجازت کے بغیر کسی بندے کو بھی وزیراعلی بننے کی کوشش نہیں کرنی چاہیئے۔
عمران خان کسی بھی xyz کو یا گنڈاپور کو۔ یا سہیل آفریدی کو یا جس کو بھی وزیراعلی نامزد کرے اسی کو وزیراعلی مانا جائے گا عوام اس کے علاوہ ہر چیز کو جرنیلی سازش سمجھے گی اور اس کی مخالفت کرے گی۔
میں ایسی م��الفت میں پہلی صف میں کھڑا ہوں گا۔ یہ استحقاق صرف عمران خان کا ہے۔ جب تک عمران خان سے ملاقات نہیں ہو جاتی اس معاملے پر فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔
پہلے گنڈاپور نے پھر سہیل نے جس طرح وقت ضائع کیا۔ وہ انتہائی افسوسناک اور خان سے سخت زیادتی ہوئی ہے۔ جب تک خان نے گنڈاپور کو نہیں اتارا ہم نے بد ترین حالات میں بھی اسے وزیراعلی مانا۔ کیونکہ خان کا فیصلہ تھا۔ سہیل آفریدی کے بارے بھی ورکر ، عوام یہی کرے گی۔
وزیراعلی صرف بنانے ہٹانے کا کام صرف خان کا ہے۔
پاکستان نے ایران کےساتھ حالات کے پیش نظر اپنے تمام تجارتی راستے بند کر دیے، پا��ستان کے چین کے علاوہ اپنے تمام ہمسائیہ ممالک سے تجارتی راستے بند ہو چکے ہیں
بہت جلدی ہے
پھر بھی ضمیر فروش میڈیا لوگوں کو بتا رہا ہے
کہ اگر آفریدی دھشت گردی پہ تعاون کرتا تو ایمرجنسی نہ لگتی
یہ مئی نو کی طرح کا فالز فلیگ ہوا ہے
پاکستانیوں کب تک پھدو بنو گئے؟
جب تک بنو گے، وہ بناتے جایں گے!
ہمارے لیئے شرم سے ڈوب مرنے کا مقام ہے وزیر اعلیٰ اغواء اسپیکر اغواء وزراء اغواء
دو تہائی اکثریت پر شب خون مارکر ہمارے حکومت کو ختم کیا گیا
اور ہمارے زمیداران کی کوئی پالسی واضح نہیں
پی ٹی آئی کو یہاں تک پہنچانے میں مرکزی لیڈر شپ کی ناقص پالیسی بنانے والے زمیدار ہیں