یہ شہر وہ ہے جس میں کوئی گھر بھی خوش نہیں
دادِ ستم نہ دے کہ ستم گر بھی خوش نہیں
اصرار تھا انہیں کے بھلا دیجئے ظفر
ہم نے بھلا دیا تو وہ اس پر بھی خوش نہیں
اب زخم بھر گئے ہیں میرے اب آئے ہو
اب درد مٹ گئے ہیں میرے اب آئے ہو
اب مجھ میں "میں" بھی نہیں بچا
اب خود کو مجھ میں تلاشنے آئے ہو
اب میں کسی بھی موڑ پر جان چھوڑ سکتا ہوں
اب میں کسی بھی موڑ پر آس چھوڑ سکتا ہوں
میرا قتل کر کے چلے گئے تھے اب آئے ہو