بلوچستان کا خیبرپختونخوا کیساتھ موازنہ کرنا ہی غلط ہے وہاں کے ایک تو ڈائنامکس الگ ہے اور دوسرا وہاں ابھی تک ایپیکس کمیٹی کے چار اجلاس ہوئے، پختونخوا میں ایک ہوا، وہاں لیویز کو پولیس میں ضم کیا گیا ،پختونخوا کے 10 اضلاع میں ابھی تک لیویز ہیں، بلوچستان حکومت نے پولیس کو جدید اسلحہ مہیا کیا پختونخوا پولیس کے پاس اسلحہ نہیں، بلوچستان کا وزیراعلی اداروں کیساتھ ایک پیج پر ہے، وہ لشکر لے کر اسلام آباد پر چڑھائی کی بات نہیں کرتا، جبکہ پختون خواہ کے وزیراعلی کا کردار آپکے سامنے ہے،
@ShahidRind
DD Campus Talks are moving beyond Islamabad!
For the first time, Digital Debate takes its Campus Talks initiative outside the federal capital, marking a new chapter in fostering intellectual engagement, policy discussions, and meaningful dialogue across Pakistan's universities.
Digital Debate (DD), in collaboration with the University of Sargodha (SU), presents its first out-of-city campus podcast and seminar: “The Cost of Four Provinces: Is Pakistan Too Centralised to Govern Efficiently?”
The discussion aims to encourage critical thinking on whether Pakistan's four-province structure adequately serves its growing population and evolving administrative needs.
📅 Wednesday, 21 October 2026
🕛 12:00 PM – 02:00 PM
📍 University of Sargodha, Sargodha
Digital Debate - Own Your Perspective!!
خواتین کی صحت کا تحفظ، بریسٹ کینسر کی بروقت تشخیص اور معیاری علاج کی سہولیات کی فراہمی حکومتِ بلوچستان کی ترجیحات میں شامل ہے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے تحت بریسٹ کینسر کی تشخیص کے لیے اسکریننگ سینٹرز کے قیام، علاج کی سہولیات میں توسیع اور مستحق خواتین کو مفت علاج کی فراہمی کے لیے اقدامات جاری ہیں۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے تحت کوئٹہ کو جدید شہری تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے کے لیے ایئرپورٹ روڈ کی بہتری، معیاری سڑک، بین الاقوامی معیار کے واکنگ ٹریکس اور شہر کی خوبصورتی پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ جدید ٹرین اسٹیشن اور شہری سہولیات کی بہتری کے اقدامات کا مقصد کوئٹہ کو ایک منظم، خوبصورت اور ترقی یافتہ شہر بنانا ہے۔
#Balochistan #Quetta #AirportRoad
بلوچستان میں شہداء کے بچے آج کِمز (KIMS) جیسے معروف طبی تعلیمی اداروں میں میڈیکل کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ یہ وہ ادارے تھے جہاں تعلیم حاصل کرنا کبھی ان بچوں کے لیے محض ایک خواب تھا، مگر آج انہیں اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کے مواقع مل رہے ہیں۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے اقدامات کے تحت شہداء کے بچوں کے لیے میڈیکل کی تعلیم کے دروازے کھل رہے ہیں، تاکہ وہ اپنے مستقبل کو روشن بنا سکیں اور اپنے والدین کے خوابوں کو بھی تعبیر دے سکیں۔