یہ جگہ میاں غنڈی دشت نزد کویٹہ ٹول پلازہ کا ایریا ہے۔🚨
یہاں پہلے فرنٹیئر کور فوجی تعینات تھے۔ اب مقامی ذرائع کی طرف سے اطلاعات ہیں کہ یہاں سابقہ افغان فوجیوں کو ٹہرایا گیا ہے۔ جن کو سرانا، ہنہ اوڑک، جنگل، گلستان وغیر میں رکھا گیا تھا۔ ان تمام لوگوں کو اب یہاں شفٹ کیا گیا ہے۔
بی ایل اے نے 8 جولائی کو بیلہ میں پاکستانی فوجی قافلے پر کیے گئے حملے کی ویڈیو جاری کر دی، جس کے بارے میں تنظیم کا دعویٰ ہے کہ اس میں 17 فوجی ہلاک ہوئے اور جدید ہتھیار و فوجی سازوسامان قبضے میں لے لیا گیا۔
#balochistan
Video shows Iranian ballistic missiles striking Muwaffaq Salti Air Base in Jordan overnight, killing two American servicemembers and injuring several others
بلوچستان آزادی کے دہانے پر؟
موصولہ اطلاعات کے مطابق، حالیہ دنوں میں بلوچ آزادی پسندوں نے نمایاں پیش رفت کی ہے اور یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ بلوچستان کے نصف سے زائد علاقے پر ان کا کنٹرول قائم ہو چکا ہے۔
دوسری جانب یہ بھی دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ بعض اہم ممالک اور تنظیمیں بلوچستان کو ایک آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کی تیاری کر رہی ہیں۔
ان دعوؤں اور اطلاعات کی روشنی میں بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ خطے میں جلد "بلوچستان" کے نام سے ایک نئی ریاست سامنے آ سکتی ہے۔
#BreakingNews 🚨🚨🚨
ابتدائی اطلاعات کے مطابق ضلع ڈیرہ بگٹی میں سوئی کشمور روڈ پر عنایت شاہ دربار کے قریب ماڑی گیس فیلڈ سے منسلک قافلے پر نامعلوم مسلح حملہ آوروں نے حملہ کیا۔ اطلاعات کے مطابق علاقے میں فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے۔
ہلاکتوں کی اطلاعات ۔
اطلاعات ہے کہ سرانان مہاجر کیمپ اسکول کے فارغ التحصیل “طالبعلموں” کو بلوچ علاقوں میں بھیجا جا رہا ہے۔ دالبندین، خضدار، مستونگ، ڈیرہ بگٹی اور دیگر علاقوں میں بھیجنے کی اطالاعات ہیں۔ اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اکثر جگہوں میں اسکولوں میں ہی ٹھہرایا جا رہا ہے۔
بلوچستان کی سیکیورٹی صورتحال🚨
اطلاعات کے مطابق بلوچستان کے ضلع چاغی کے علاقے کجاکی میں اس وقت فوجی قافلے کو نشانہ بنایا گیا جب درجنوں فوجی آئل ٹینکر تیل لے کر گزر رہے تھے۔ واقعے کی مزید تفصیلات تاحال سامنے نہیں آئی ہیں۔
#BreakingNews 🚨
اطلاعات کے مطابق آزاد جموں و کشمیر کے علاقے ڈھولکوٹ میں مسلح افراد نے استحکام پاکستان پارٹی (آزاد کشمیر) کے صدر اور سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس خان کے قافلے کو نشانہ بنایا۔
جن میں ان کے ذاتی گارڈ اور سابق ایس ایس جی کمانڈو محمد آصف جاں بحق ہوگئے۔👇
بدخشاں میں حکومت کے خلاف مزاحمت کا اعلان کرنے والا پورا گروپ ابابیلوں کے ہاتھوں گرفتار۔👊
آرمی چیف قاری فصیح الدین صاحب خود اس آپریشن کی کمانڈ کررہے تھے۔
یہ جگہ میاں غنڈی دشت نزد کویٹہ ٹول پلازہ کا ایریا ہے۔🚨
یہاں پہلے فرنٹیئر کور فوجی تعینات تھے۔ اب مقامی ذرائع کی طرف سے اطلاعات ہیں کہ یہاں سابقہ افغان فوجیوں کو ٹہرایا گیا ہے۔ جن کو سرانا، ہنہ اوڑک، جنگل، گلستان وغیر میں رکھا گیا تھا۔ ان تمام لوگوں کو اب یہاں شفٹ کیا گیا ہے۔