در برکهء دو چشمت
نه گریه و نه خنده
گم کرده راه شب را
سرگشته چون پرنده
من ره به خلوت عشق
هر گز نبرده بودم
پیدا نمیشدی تو
شاید که مرده بودم
من با تو خو گرفتم
از خنده ات شکفتم
چشم تو شاعرم بود
تا این ترانه گفتم
حیراں ہیں نگاہیں دل بے خود محجوب ہے حسن بے پروا
اب عرض تمنا کس سے ہو اب عرض تمنا کون کرے
فطرت ہے ازل سے پابندی کچھ قدر نہیں آزادی کی
نظروں میں ہیں دل کش زنجیریں رخ جانب صحرا کون کرے
ہر سانس ہے شرح ناکامی پھر عشق کو رسوا کون کرے
تکمیل وفا ہے مٹ جانا جینے کی تمنا کون کرے
جو غافل تھے ہشیار ہوئے جو سوتے تھے بیدار ہو��ے
جس قوم کی فطرت مردہ ہو اس قوم کو زندہ کون کرے
ہر صبح کٹی ہر شام کٹی بیداد سہی افتاد سہی
انجام محبت جب یہ ہے اس جنس کا سودا کون کرے
آج تک سرخ و سیہ صدیوں کے سائے کے تلے
آدم و حوا کی اولاد پہ کیا گزری ہے؟
موت اور زیست کی روزانہ صف آرائی میں
ہم پہ کیا گزرے گی اجداد پہ کیا گزری ہے؟
ان دمکتے ہوئے شہروں کی فراواں مخلوق
کیوں فقط مرنے کی حسرت میں جیا کرتی ہے
یہ حسیں کھیت پھٹا پڑتا ہے جوبن جن کا!
کس لیے ان میں فقط بھوک اگا کرتی ہے
یہ ہر اک سمت پر اسرار کڑی دیواریں
جل بجھے جن میں ہزاروں کی جوانی کے چراغ
یہ ہر اک گام پہ ان خوابوں کی مقتل گاہیں
جن کے پرتو سے چراغاں ہیں ہزاروں کے دماغ
یہ بھی ہیں ایسے کئی اور بھی مضموں ہوں گے