حال من اکنوں بروں از گفتن است
ایں چہ می گویم ، نہ احوال من است
(رومی)
میرا حال اب گفتار (کی حد )سے پرے ھو گیا ھے۔
(سو اب ) میں جو کہہ رھا ھوں یہ میرا حال نہیں ھے۔
نظریہ، عقیدہ اور پرورشِ انسان میں بڑی دور تک پیوست ہوتے خودکار عمل کرتے ہیں اور intellectualism محض شوبازی ہوتی ہے
سچ تو یہ ہے اکثر دانشور اپنے کسی احساس کمتری پہ پردہ ڈالنے کے لئے دانشور بنے ہوتے ہیں
یہ بہت بڑی بشری کمزوری ہے
جب آپ کسی دوسرے مذہب کو پڑھتے ہیں
تو آپ بہت تنقیدی اور آزاد رائے دیتے ہیں
جب آپ کا مذہب آئے
تو تائیدی انداز میں بات کرتے ہیں
آفاقی مشابہتیں تلاش کرتے اور اسے تحقیق کا نام دیتے ہیں
جب آپ کے نسب اور نسل کی بات آئے
تو آپ کا شجرہ کسی جنگجو سردار یا
ولی یا نبی سے ملتا ہے
جب دوسرے ہوں تو ان کی کوئی تاریخ نہیں ہوتی
جب آپ کی سیاسی پارٹی یا فرقہ ہوتو
وہ حق پہ ہوتا ہے
تاریخ و نسب سب کچھ درست ہوتا ہے
دوسرا فرقہ باطل ہے دوسری سیاسی جماعت کرپٹ ہوتی ہے
بڑے لبرل کامریڈ حتی کہ ملحد بھی اپنے عقیدے کے دفاع میں ایک کٹھ ملا ہوتے ہیں