فوج پر تنقید فوج کے خلاف سازش ہے
نواز شریف فوج پر تنقید کرکے بھارت کا ایجنڈا پورا کررہے ہین
فوج میرا سرمایہ ہے
فوج واحد ادارہ ہے جو نواز شریف کنٹرول نہ کرسکا اس لئے اسے ٹارگٹ کررہا ہے : خان جب سیلیکٹڈ تھے #NotTooLongAgo
خط ججز نے لکھا، فل کورٹ چیف جسٹس نے بلا لیا، حکومت نے معملے کو منطقی انجام تک پہنچانے کیلئیے چیف جسٹس سے ملاقات کی اور ریٹائرڈ جج کی زیر نگرانی انکوائری کمیشن بنانے کا اعلان کیا۔
جن چھ ججز کا مسئلہ ہے ان چھ ججز کو چیف جسٹس نے اعتماد میں لیا اور چھ کے چھ ججز نے انکوائری کمیشن پر رضامندی اور اعتماد کا اظہار کیا، سوال یہ ہے کہ عدلیہ، حکومت اور شکایت کنندہ یعنی چھ ججز راضی ہیں اور اعتماد بھی ہے تو پھر چند لنڈے کے صحافیوں اور تاریک انتشار والوں کی کیا اوقات یا یہ کیوں مسترد کر رہے ہیں؟ ان کا کیا لینا دینا؟ ایک کہاوت ہے کہ “اخے تو کون میں خواہ مخواہ” یہ جتھہ بھی خواہ مخواہ ہی ہے۔
مطیع الله جان صاحب چھ یوتھڑ ججوں سے آپ کی ہمدردی اور منگو خاں پانڈے اور بلے سے آپ کا عشق اپنی جگہ اور ان چھ یوتھڑ ججوں کے کالے کرتوت نظر انداز کرتے ہوئے آپ اگر ہو سکے تو میرے صرف ایک سوال کا جواب دیں کہ یہ یوتھڑ جج
کرسیء عدالت پر خدا بن کر بیٹھ کر عوام کے منتخب وزیراعظم کو بلا کر
کاروں کو جن کا ان کو بخوبی علم ہے کو بلائیں اور ان کو اپنی خدائی اختیارات رکھنے والی عدالت کے کٹہرے میں کھڑا کرکے سزا دیں ۔ خط لکھ کر اور ادھر اودھر ٹامک ٹوئیاں مارنے سے کیا حاصل ۔یاد رہے یہی یوتھڑ جج ایک وزیراعظم کا ناحق عدالتی قتل بھی کر چکے ہیں ۔اگر یہ نہیں کر سکتے تو استعیفے
اسلام آباد ہائیکورٹ کے چھ یوتھڑ ججز جنھوں نے منگو خاں پانڈے کو ماورائے آئین و قانون ضمانتیں دیں ۔ جیل کو اس سیاسی ڈیرہ بنایا ہوا ہے ۔ جنہوں نے مداخلت پر خواجہ سعد رفیق اور سلمان رفیق کو ضمانت دینے کی بجائے تضحیک کا نشانہ بنایا ۔ چوری اور کرپشن کے ریکارڈ قائم کیے ۔