45 ھزار روپے والے کی موبائل سم بند کردی جاتی ھے اور دبئی لیکس آئی جس میں جنرلز ،ججز اور بیوروکریسی کی جائیدادیں سامنے آئیں،آپ کو توفیق ھوئی کہ ان کو پکڑتے بلکہ ایف بی آر کو شٹ اپ کال دی گئی کہ اس طرف دیکھنا بھی نہیں۔
بزنس کلاس کے ٹکٹ سستے کر دیے ہیں اپنے لئے ۔ اگر کوئی بندہ سستی گاڑی لے رہا تھا وہ انہوں نے مہنگی کر دی ہے ۔ یہ اشرافیہ کا بجٹ ہے۔ نور عالم خان کا دلچسپ تبصرہ
عوامی نیشنل پارٹی کشمیر کے عوام کے ساتھ کھڑی ہے۔ پختون، بلوچ، سندھی کو غدار کہا گیا اور اب کشمیریوں کو بھی غدار کہا جا رہا ہے۔ محبِ وطن پنجاب پر اتنا بوجھ نہ ڈالیں کہ وہ یہ بوجھ اٹھا نہ سکے، ایسا نہ ہو کہ کل کو لاہور یا فیصل آباد سے بھی کوئی آواز اٹھے اور اسے غدار قرار دے دیا جائے۔
ایمل ولی خان
مرکزی صدر، عوامی نیشنل پارٹی
#ANP | #AimalWaliKhan
Unfortunately, I agree with you, even though this clip speaks very highly of him.
@_Mansoor_Ali has become a pro-estab jouranalist in his own way. He will never criticize establishment for all the things that are going wrong in our country including conviction of @ImaanZHazir
🚨🚨#BREAKING: Worrying reports, sources claim #Pakistan’s most prominent human rights defenders @ImaanZHazir and @AdvHadiali sentence suspension application hearing for 4th of June delisted in #Islamabad high court without giving any new date. There will be no hearing on 4th of June despite two weeks deadline given by #SupremeCourt already lapsed.
یہ بنوں پولیس والے ہیں جو سویلین کیلئے شیر بنتے ہیں اور طالبان کے سامنے گیدڑ بن جاتے ہیں ۔
ایسے پولیس پر کوئی کیوں خفا ھوگا جو پنجابی فوج کے کہنے پر عام عوام پر ظلم کرتی ہے ۔
سوشل میڈیا سمیت دنیا بھر میں اپنے ملک اور قوم کہ اچھے ترجمان بنیں نہ کہ اپنے ملک اور قوم کو بدنام کرنے والے چند بکاو نمک حراموں اور بدنامی کا سبب بننے والوں کی صف میں کھڑے ہوں الحَمْدُ ِلله پاکستان کا مستقبل محفوظ اور روشن ہے
پاک فوج پاکستان ہمیشہ زندہ باد🇵🇰
#pakpeacediplomacy
نور عالم خان کی قومی اسمبلی میں گن گرج:
بہت افسوس کی بات ہے کہ تین دن گزر گئے، مگر ہمارے علماء کرام شہید ہو رہے ہیں، ہمارے پولیس اہلکار شہید ہو رہے ہیں، ہمارے عام لوگ شہید ہو رہے ہیں، ہمارے سیاسی کارکن اور رہنما ٹارگٹ بن رہے ہیں۔ کسی بھی جماعت کا ایم این اے یا ایم پی اے اپنے حلقے میں آزادی سے نہیں گھوم سکتا۔ خیبر پختونخوا میں علماء کرام کو، جو مساجد میں یا مدارس میں تدریس کرتے ہیں، براہِ راست نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
مجھے میڈیا کے بھائیوں اور ان کے مالکان سے بھی گلہ ہے۔ آپ کوکین بیچنے والی عورتوں کو تو ٹی وی پر بار بار دکھاتے ہیں، لیکن خیبر پختونخوا میں شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں اور علماء کرام کے لیے آپ نے کبھی پانچ منٹ بھی نہیں نکالے۔
میں حیران ہوں کہ قومی اسمبلی میں بھی صرف ایک رسمی دعا کر دی جاتی ہے کہ مولانا ادریس صاحب فوت ہو گئے۔
بنوں میں آج بھی سیکیورٹی وین سے نو کروڑ روپے لوٹ لیے گئے۔ کل بازار میں پل اڑا دیا گیا۔ اس سے پہلے پورا پولیس اسٹیشن دھماکے سے اڑا دیا گیا، آرمرڈ گاڑی بھی تباہ ہوگئی، مگر کسی کو کوئی پرواہ نہیں۔
مجھے یہاں کوئی وفاقی وزیرِ داخلہ نظر نہیں آتا کہ میں اس سے سوال کروں۔ خواجہ صاحب ہمیں افغانستان کے قصے سناتے ہیں۔ میں کہتا ہوں، بسم اللہ، کارروائی کریں، آپ کو کس نے روکا ہے؟
میں تو نہیں کہتا کہ دہشتگردوں کو گلے لگائیں۔ لیکن اگر دہشتگرد افغانستان سے آ رہے ہیں تو انہیں روکنا آپ کی ذمہ داری ہے۔
جب بنوں، پشاور یا چارسدہ میں واقعات ہوتے ہیں تو اس کا جواب کون دے گا؟
میں خیبر پختونخوا حکومت سے بھی گلہ کرتا ہوں،، اور وفاق سے بھی۔
جناب! ہمارے صوبے میں معدنیات ہیں، بجلی ہے، گیس ہے، تیل ہے، زمرد ہے، ریئر ارتھ منرلز ہیں، جن کے پیچھے امریکہ اور چین دونوں لگے ہوئے ہیں۔ سونا بھی ہمارے صوبے میں ہے۔ لیکن ہمیں جینے کا حق نہیں دیا جا رہا۔ ہمارے پولیس اہلکار شہادتیں دے رہے ہیں، مگر ان کی کوئی پرواہ نہیں کی جا رہی۔
جو پولیس اہلکار شہید ہوتے ہیں، کیا وزیراعظم یا وزیراعلیٰ کبھی ان کے گھروں میں گئے؟ کبھی ان کے بچوں کی حالت دیکھی؟ سات سات، پانچ پانچ بچے یتیم ہو جاتے ہیں۔ ان کے گھروں میں کھانا کون لے کر جائے گا؟ ان کی کفالت کون کرے گا؟
افسوس اس بات کا بھی ہے کہ ایوان خالی ہو جاتا ہے اور اپوزیشن کو تنہا چھوڑ دیا جاتا ہے۔ پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) اور ایم کیو ایم سب حکومت میں شامل ہیں، مگر خیبر پختونخوا کے مسئلے کو کوئی سنجیدگی سے نہیں لے رہا۔
ہم سب کو دھمکیاں مل رہی ہیں۔ علماء کرام محفوظ نہیں، اساتذہ محفوظ نہیں، کالج اور اسکول محفوظ نہیں، ڈاکٹر محفوظ نہیں۔ آخر ہم جائیں تو کہاں جائیں؟
خدارا! ہم پاکستانی ہیں، کسی دوسرے ملک کے نہیں۔ صرف اس لیے کہ ہمارا ڈومیسائل پنجاب کا نہیں، ہمیں تیسرے درجے کا شہری سمجھا جا رہا ہے۔ ہمارے صوبے میں سب کچھ ہے، مگر پھر بھی ہم ہر مشکل وقت میں پاکستان کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔
اگر بھارت حملہ کرے تو سب سے پہلے پختون کھڑا ہوتا ہے۔ ہم اپنی افواج کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔ لیکن افسوس کی بات ہے کہ آپ کا رویہ خیبر پختونخوا اور پختونوں کے ساتھ انتہائی غیر سنجیدہ ہے۔ یہ ملک کے خلاف سازش ہے۔
پچھلے چالیس سال سے سب سے زیادہ قربانیاں پختونوں نے دی ہیں۔ امریکہ سے بھی پوچھتا ہوں کہ دہشتگرد کون لایا تھا؟ یہ سب آپ ہی لائے تھے۔ ہم پختون دہشتگرد نہیں ہیں۔ ہمارا ایک کلچر تھا، ایک روایت تھی، جسے تباہ کر دیا گیا۔
آئی ایم ایف، ورلڈ بینک یا بیرونی امداد کے نام پر جو پیسہ آیا، ہمیں بتایا جائے کہ وہ کہاں خرچ ہوا؟ ہمارے صوبے کو کیا ملا؟ نہ بجلی ملتی ہے، نہ گیس۔
جب ہم اٹک کراس کرتے ہیں تو ہماری تذلیل کی جاتی ہے۔ ایم این اے اور ان کی فیملیوں کو بھی روکا جاتا ہے۔ ہمیں تیسرے درجے کا شہری سمجھا جاتا ہے، جو بہت غلط ہے۔
ہم بھی پاکستانی ہیں، الحمدللہ ہم بھی “پاکستان زندہ باد” کہتے ہیں۔ ہمارے پولیس والے آپ کے لیے جانیں دیتے ہیں، شہادتیں دیتے ہیں۔
میں درخواست کرتا ہوں کہ اس ایوان میں محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کے خون آلود کپڑے رکھے جائیں، شہید پولیس اہلکاروں کی یادگاریں رکھی جائیں، اے این پی کے شہید رہنما الیاس بلور کی قربانیوں کو بھی یاد رکھا جائے، تاکہ لوگوں کو احساس ہو کہ شہادت کیا ہوتی ہے اور خاندان کس طرح تباہ ہوتے ہیں۔
مگر سوال یہ ہے کہ خیبر پختونخوا کو کیوں تباہ کیا جا رہا ہے؟ ہمارے وسائل تو استعمال کیے جاتے ہیں، لیکن ہمیں امن نہیں دیا جاتا۔
اگر یہی صورتحال رہی تو کل پولیس بھی آپ سے دور ہو جائے گی۔ آپ کی سیاسی لڑائیوں کی سزا خیبر پختونخوا کے عوام اور پختونوں کو کیوں دی جا رہی ہے؟
خدارا! ہم پختونوں کا کوئی قصور نہیں۔ ہمیں جینے دو، ہمارے بچوں کو پڑھنے دو، ہمیں روزگار اور امن دو۔
This guy is complaining about No 2 journalist. He is in a much more powerful position. Could someone explain what he's doing for the people rather than just complaining about jouranlism?
راکٹ آکے گھر پر گرتا ہے، جس میں معصوم بچے اور خواتین شہید ہوتے ہیں، پھر فوج آکے لاشوں پر قبضہ کرتی ہے اور کہتی ہے کہ لکھ کے دو کہ یہ دہشت گرد تھے، مولانا فضل الرحمٰن
100 days of judicial shame!
Armed with law and with force of logic and reason @ImaanZHazir and @AdvHadiali were the beloved royal couple and armed forces of the poor and the suppressed. Their appeals against unjust and illegal convictions ought to be urgently heard by the Islamabad High Court and the Supreme Court of Pakistan. Their illegal, malafide and speedy conviction warranted legal, bonafide and speedy appellate process as well. The judges must act fast to rescue two honourable members of the bar. The least they can do is to fix the appeals and start a hearing.
The 100 days of two lawyers incarceration and judicial in-activism will always haunt the Chief Justices of the Islamabad’s high and supreme courts of Pakistan. It’s about time that the Supreme Court puts a halt to its cheap publicity seeking press releases and starts doing a job which comes with unprecedented perks and privileges.
#HearImaanHadiAppeals
#ReleaseImaanAndHadi
Today it's 83 days of illegal incarceration of @ImaanZHazir & @AdvHadiali bec. of illegal conviction order by Judge Majoka without any due process or law. Now IHC CJ Dogar, bec of bias, as Imaan had filed 2 petitions ag him, sitting on early hearing appeals. Was always abt vengeance, never abt justice.