یہودی تقریبآ چار صدیاں پہلے ہند کی طرف متوجہ ہوئے۔پھر انگریزوں کے آنے کی راہ ہموار ہوئی جس کے بعد وہ نظام کے اندر مزید گہرائی تک پیوست ہوتے چلے گئے۔تقسیم ہند کے بعد ان کا کردار ملک خدا داد میں دن بدن فعال سے فعال تر ہوتا گیا اور نظام انکے اشارے کے تابع ہو کر رہ گیا۔عدلیہ میں انکا مضبوط قلعہ قائم تھا جسکی فصیل میں قاضی فائز عیسیٰ نے دراڑ ڈال دی ہے۔سیاسی جماعتیں باقی کا کام کرنے میں کامیاب ہو گئیں تو پاکستان کی گردن کئی طوقوں میں سے ایک طوق سے آزاد ہو جائے گی۔ملک کے کل خرچ کا بقول ڈاکٹر عتیق الرحمن صاحب دو تہائی سود کی ادائیگیوں میں چلا جاتا ہے جس کے بیشتر حصہ دار اندرونی سود خور ہیں جن سے ایک عدالتی حکم کے ذریعے گردن آزاد کرائی جا سکتی ہے۔نئے بندوبست اراضی کے ذریعے جاگیرداری ختم کر کے تیسرا طوق بھی اتارا جا سکتا ہے۔پھر سیاسی جماعتوں کو مضبوط کر کے بندوق برداروں کو بھی قانون و آئین کا خوگر بنایا جا سکتا ہے۔اس سب کا راستہ روکنے کیلئے "مگس کو باغ میں جانے سے روکنا" بہت ضروری ہے اس لیے وہ کون ہے جو آئینی عدالت کے قیام کو روکنے کیلئے سر دھڑ کی بازی لگائے ہوئے ہے ؟
فارن فنڈنگ کا اس کا کیس کس نے التوا میں ڈالا ہوا ہے؟
کون ہے جو اس کا سب سے بڑا سہولت کار ہے ؟
اور اپنے ان سہولت کاروں کیلئے کس نے اپنے کارکنوں کو آگ میں جھونکا ہوا ہے ؟
"میرے پاکستانیو" !
"ایاک نعبد و ایاک نستعین"