شہبازشریف گاڑیوں کی ڈگیوں میں بیٹھ کر جرنیلوں سے ملاقاتوں کے لیے جاتے تھے جبکہ "وہ" عمران کو عزت سے گاڑی میں بٹھا کر اہنے پاس ملاقات کے لیے لاتے ہیں
بس انی جی ٹویٹ سی
”اِس چوروں کے ٹولے، ڈاکوؤں کے گُلدستے کو عمران خان کا ڈر ہے، کیونکہ عمران خان کی کوئی قیمت نہیں۔ میں اپنی قوم سے وعدہ کرتا ہوں کہ جب تک میں زندہ ہوں، اِن کا پیچھا نہیں چھوڑوں گا۔“
چیئرمین تحریکِ انصاف عمران خان
#EndKhansIsolationNow
اے اللّٰہ! وقت کے فرعونوں کو للکارنے والے، ظلم کے سامنے ڈٹ جانے اور ملک و قوم کی خاطر زندان کی صعوبتیں برداشت کرنے والے ہمارے لیڈر عمران خان کی حفاظت فرما، آمین!
#WhereIsImranKhan
ملک کے واحد عوامی وزیرِاعلیٰ، اُسکی کابینہ اور کارکنان کو 26 نمبر چونگی پر روک دیا گیا ہے۔ ایک صوبے کا منتخب وزیرِاعلیٰ اپنے ہی ملک کے دارالحکومت میں داخل نہیں ہو سکتا۔ اس قابض ٹولے نے پاکستان کو اپنی جاگیر سمجھ رکھا ہے۔ ایسی شرمناک حرکات نہ صرف جمہوری اقدار کی توہین ہیں، بلکہ عوام کی نظر میں انہیں مزید رسوا اور بے نقاب بھی کر رہی ہیں۔
گلگت بلتستان کے انتخابات اور گذشتہ دنوں کوٹلی اور اس سے قبل راولاکوٹ میں دہرائے گئے ۲۶ نومبر اور مریدکے کی تاریخ سے ان عناصر کی خوش فہمی کا تو تدارک ہوگیا ہوگا جو سمجھتے تھے کہ خدائ کے دعویداروں کے سیاہ دلوں میں رحم کی کوئ رمق باقی ہوگی۔
اب اگر اپنے بھی شرک سے باز آکر ان پتھر دل صنموں سے بھلائ کی توقع چھوڑ کر اپنے بل پر کچھ کرنے کی ٹھان لیں تو شاید اس قوم کی تاریخ ہمیں اپنے غداروں میں نہ شمار کرے۔
عمران خان کی حکومت گرا کر، بہ زورِ طاقت اس کی پارٹی توڑ کر، پاکستان کی عوام سے ان کا اپنے حکمران چُننے کا حق چھین کر پاکستان میں جس عدم استحکام کی داغ بیل ڈالی گئی وہ سلسلہ دن بہ دن اور مزید واضح طور پر باقاعدہ وطن دشمنی ثابت ہورہا ہے۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ اس نہج پر عاصم منیر اور اس کے ماتحت کٹ پتلی حکومتیں پاکستان توڑنے کے ایجنڈے پر محرک ہیں۔ پورے پاکستان میں جس جبر کا ماحول گرم ہے اور نہتے کشمیریوں پر جس طرح گولیوں کی بوچھاڑیں کی گئیں جس کے باوجود وہ اپنے حقوق کے لیے ڈٹ کر کھڑے ہیں، خیبر سے کراچی تک پاکستانی قوم کو کشمیر کے عوام کی آواز بن کر، ان کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کرکے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر کسی جابر کی معرکہ آرائیوں کا شکار بننے سے روکنے کی سبیل کرنی چاہئے۔
آج عمران خان باہر ہوتا، آج عمران خان کو ان کے بنیادی انسانی حقوق میسر ہوتے اور ان کا پیغام باہر آسکتا تو انہوں نے یہی کرنا تھا۔ اس سے بڑھ کر کرنا تھا۔
میری اطلاعات کے مطابق پارٹی نے کل پارلیمان کے باہر احتجاج کی کال دی ہے ان سے بھی گزارش ہے کہ کشمیر کے ساتھ یکجہتی اور ملک کو بچانے کے لیے عمران خان کی رہائی پر گفتگو ہو۔ انشاءاللہ میرے حلقہ انتخاب میں، **۱۳ جون ۲۰۲۶ بروز ہفتہ دوپہر دو بجے مٹہ چوک** میں، کشمیر کی عوام کے ساتھ یکجہتی ان کے ساتھ ہونے والے ظلم کے خلاف اور ملک بچانے کے لیے، عمران خان کی رہائی کے لیےاحتجاجی مظاہرہ ہوگا۔ سوات کے تمام کارکنان اس میں بھرپور شرکت یقینی بنائیں۔
یاد رکھیے!
اگر ہم آج ایک دوسرے کا بازو نہ بنے تو یہ ایک ایک کرکے ہمیں ایسے ہی ماریں گے جیسے ۲۵ مئی ۲۰۲۲ سے لے کر ۲۶ نومبر ۲۰۲۴ تک تحریک انصاف کو مارا، جیسے مریدکے میں مارا، جیسے کوٹلی اور راولاکوٹ میں مارا۔ جیسے برسوں سے بلوچستان فاٹا اور خیبر پختونخواہ میں مار رہے ہیں۔
خالد خورشید بھائی اور ان کی پوری ٹیم کو شاندار کامیابی پر مبارکباد۔ گلگت بلتستان کے عوام نے ثابت کر دیا کہ نظریے اور عوامی طاقت کو دبایا نہیں جا سکتا۔
@AbdulKhalidPTI
تمام تر دھاندلی کے باوجود الحمدللہ تحریک انصاف گللت بلتستان سے الیکشن جیت چکی ہے۔تاریخ گواہ رہے گی کہ گللگت بلتستان کی عوام نے وزیراعظم عمران خان سے کئے ہوا وعدہ وفا کیا۔تحریک انصاف کے تمام کارکنوں کو اس تاریخی فتح پر مبارک باد۔شوکت محمود بسراء
پاکستان تحریک انصاف کو گلگت بلتستان میں فتح مبارک۔ خصوصی مبارکباد خالد خورشید اور انکی ٹیم کو۔
تمام فسطائیت کے باوجود گلگت بلتستان کی عوام کا شاندار کام۔ کیا شاندار اور دلیر قوم ہے۔ گلگت بلتستان آپکا شکریہ۔