@enkidureborn واہ جنرل صاحب!
خود ہی گیم بنائی، خود ہی کھلاڑی چنے، خود ہی امپائر بنے، اور خود ہی “فاتح” بھی بن بیٹھے؟
لیکن سوال یہ ہے:
کیوں سچ بولنے والوں کو جیلوں میں ڈال دیتے ہو؟
کیونکہ تمہیں پتا ہے کہ تمہاری "فتح" ریت پر لکھی ہوئی وہ لکیر ہے جسے سچائی کا پہلا پانی مٹا دے گا۔
@Wabbasi007 حقیقت یہ ہے کہ اصل مسئلہ اندرونی ہےٹیکسز، لیوی، اور پالیسی ناکامی۔ لیکن تم جیسے لوگ جان بوجھ کر اصل سوال سے توجہ ہٹا کر باہر کے بحرانوں کا سہارا لیتے ہیں تاکہ حکومت سے کوئی جواب طلبی نہ ہو
عمران حکومت۔۔
8 مارچ 2022۔۔
عالمی منڈی میں تیل کی قیمت تھی 120 ڈالر فی بیرل اور پاکستان میں پٹرول 149.86 روپے فی لیٹر جبکہ ڈیزل 144.15 روپے فی لیٹر تھا۔۔شہبازحکومت۔۔
2 اپریل 2026۔۔
عالمی منڈی میں تیل کی قیمت ہے 108.28 ڈالر فی بیرل اور پاکستان میں پٹرول 458.49 روپے فی لیٹر جبکہ ڈیزل 520.35 روپے فی لیٹر ہے جبکہ ہمارے لئیے آبنائے حر مُز بھی کھلی ہوئی۔۔
بات پھر وہی جب “گوبر حکومتیں” آئیں گی تو “گوبر فیصلے”ہوں گے اور “گوبر ٹیکس” لگیں گے۔۔
جناب اقرار الحسن! سب سے اہم پہلو آپ کی نظر سے اوجھل رہا یا پھر آپ نے جان بوجھ کر فکری بدیانتی کی، یہ تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ بہرحال، چونکہ آپ نے تقابلی جائزہ لیا ہے، تو آئیے اسے مکمل دیانتداری کے ساتھ دیکھتے ہیں:
کیپیٹل ہل حملے میں ملوث افراد کو سزائیں کسی فوجی عدالت نے نہیں بلکہ امریکہ کی فیڈرل سویلین کریمنل کورٹ، یعنی ریاستہائے متحدہ امریکہ کی ضلعی عدالت برائے ضلع کولمبیا نے سنائیں۔ جہاں مکمل طور پر شفاف ٹرائل ہوا، وکلاء موجود تھے، جرح ہوئی، شواہد پیش کیے گئے اور تحریری فیصلے جاری ہوئے۔ یہاں فوجی عدالتوں سے سزا پانے والے آج بھی تحریری فیصلوں کے منتظر اور رجیم کے چنتخب ججز کے آئینی بینچ کے فیصلے کے مطابق آزادانہ اپیل کے حق کے لیے قانون سازی کا انتظار کر رہے ہیں۔
کیپیٹل ہل حملے میں ملوث ملزمان کو سزا کے بعد اعلیٰ عدالتوں میں اپیل کا مکمل حق ملا اور ان اپیلوں کی باقاعدہ سماعت بھی ہوئی۔ یہاں دو برس سے زائد عرصے کے بعد بھی اپیلیں لاہور ہائی کورٹ میں سماعت کی منتظر ہیں۔
کیپیٹل ہل حملے میں پورے عمل کے دوران نہ امریکہ کا قانونی ڈھانچہ بدلا، نہ کوئی آئینی ترامیم کی گئیں اور نہ ہی ججز کو دباؤ میں لانے کے لیے ان کے گھروں پر کریکر حملے کیے گئے۔
کیپیٹل ہل حملے کے ملزمان کو یہ رعایت نہیں دی گئی کہ وہ پریس کانفرنس کر کے کسی سیاسی شخصیت کے خلاف بیان دے اور اس کے بدلے میں اسے جرم سے آزادی مل جائے۔
کیپیٹل ہل حملے کے معاملے میں قانون پوری طرح متحرک ہوا، لیکن اسے سیاسی ہتھیار نہیں بنایا گیا۔ نہ سیاسی جماعت توڑی گئی نہ وفاداریاں تبدیل کروائی گئیں، نہ لوگوں کو جبری لاپتہ کیا گیا اور نہ ہی بعد میں انہیں میڈیا پروگرامز کے ذریعے “برآمد” کروایا گیا۔ 9 مئی کے واقعات میں سب سے بڑا المیہ یہی رہا کہ اسے خالص قانونی انداز میں نمٹانے کے بجائے فیصلہ سازوں نے سیاست زدہ کرکے وقتی فائدے کیلئے مستقل نقصان کو دعوت دی۔
اور آخر میں، سب سے اہم نکتہ، کیپیٹل ہل حملے کی باقاعدہ تحقیقاتی کارروائی امریکی کانگریس میں ہوئی، یعنی January 6 Committee Hearings جہاں گواہوں کو طلب کیا گیا، حلفیہ بیانات لیے گئے، حملے کی ویڈیوز اور دیگر شواہد کا جائزہ لیا گیا، ذمہ داروں کا تعین کیا گیا اور پھر مفصل رپورٹ سفارشات کے ساتھ عوام کے سامنے پیش کی گئی۔
اہم بات یہ کہ یہ تمام کارروائی براہِ راست ٹی وی پر نشر ہوئی اور عوام نے ہر مرحلہ اپنی آنکھوں سے دیکھا۔
یہ صرف چند چیدہ چیدہ تضادات ہیں، ورنہ مکمل تقابل کیا جائے تو حقائق کی ایک طویل فہرست سامنے آ سکتی ہے۔ آپکی آدھی سچائی وقتی بیانیہ تو گھڑ لے شائد، مگر حقیقت کو زیادہ دیر چھپا نہیں سکتے۔
“اس ملک کے ججوں کو خود پر شرم آنی چاہیے۔ ہم نے بارہا عدلیہ سے رجوع کیا، لیکن انہوں نے اپنی ذاتی مراعات کے عوض اپنے ضمیر کا سودا کر لیا ہے۔ انہوں نے اپنی دیانتداری بیچ ڈالی ہے۔
وہ جانتے ہیں کہ وہ مجھے توڑ نہیں سکتے، اس لیے وہ میری اہلیہ کو اذیت پہنچاتے ہیں۔ صرف مجھے بلیک میل کرنے کے لیے ججز بشریٰ بی بی کے ساتھ اس قدر غیر انسانی سلوک کی اجازت کیسے دے سکتے ہیں؟ انہیں دن کے 24 گھنٹے قید تنہائی میں رکھا جاتا ہے، اور پورے ہفتے میں مجھ سے ملاقات کے محض 30 منٹ دئیے جاتے ہیں، اور اکثر تو اس ملاقات پر بھی پابندی عائد کر دی جاتی ہے۔ اسلام میں عورتوں، بچوں اور بزرگوں کو نقصان پہنچانے کی ممانعت ہے۔ ان کے مقاصد بالکل واضح ہیں۔
جج معاشرے میں انصاف کے ذمہ دار ہوتے ہیں، لیکن اس ملک کے ججز کو خود پر شرم آنی چاہیے” -
ناحق قید سابق وزیرِ اعظم پاکستان عمران خان کا اڈیالہ جیل سے اپنے بیٹوں سے ٹیلی فونک گفتگو کے دوران پیغام
(21 مارچ، 2026)
مجھے بھی کال آئی تھی لیکن میں نہیں گیا۔
ٹرمپ اور نیتن یاہو کی ہڈیاں چوسنے والوں کے ساتھ ہم نہیں بیٹھ سکتے۔
علامہ نئیر عباس کا عید خطبے میں بیان۔
https://t.co/s9zDqhQxUK
شیعہ سنی کی تفریق پیدا کرنےوالے پاکستان کےمخلص نہیں۔ میں سنی ہوں، دیوبندی مدرسے سے قرآن حفظ کیا۔ بچپن سے سنتےتھے ‘کافر کافر شیعہ کافر’ ۔ بڑے ہوئے تو احساس ہوا کہ اصل مسلمان تو شیعہ ہیں۔ پاکستان مسلمانوں کا ملک ہے، پاکستان کے لوگوں کی ہمدردی اور دعائیں ایرانی بھائیوں کے ساتھ ہیں۔
اہم ترین:
پنجاب حکومت نے عوامی پیسوں سے میرے خلاف سوشل میڈیا پر کیمپین شروع کروادی ہے۔بہتر ہوتا یہ پیسے مریم نواز، مریم اورنگزیب اپنی جیب سے دیتیں ۔ہمارے ہی پیسوں سے ہمیں ہی گالی گلوچ
کروانا زیادہ بڑی خیانت ہے۔
مریم نواز کے تقریباً ہر پروجیکٹ میں کک بیکس، کمیشن اور پیسے لئے گئے ہیں۔میرے پاس افسروں اور مریم نواز کے درمیان گفتگو کا ریکارڈ بھی ہے جس میں افسروں نے بااثر حکومت کے قریبی افسروں اور وزراء کی کرپشن اور کک بیکس سے متعلق شکایت کی ہے۔
عید کے بعد دیکھتے ہیں پنجاب حکومت کس بھاؤ بکتی ہے۔
@Saminakhan4000 یہ کہانی سن کر ایسا لگتا ہے جیسے کوئی فلمی سین بیان کیا جا رہا ہو۔ پاکستان میں جس ادارے کی تاریخ رشوت سیاسی غلامی اور طاقت کے غلط استعمال سے بھری پڑی ہو وہاں اچانک ایک ایس ایچ او کا سپر ہیرو بن جانا عوام کے لیے یقین کرنا مشکل ہے۔
I should add that making a fake manifest is a crime. A pilot could lose their license and be blacklisted from employment internationally. It is a serious offense