انصاف یوتھ ونگ اور آئی ایس ایف کی تیاریاں مکمل!
آج انصاف یوتھ ونگ اور آئی ایس ایف کے سابقہ ڈسٹرکٹ اور ریجنل صدور کا ایک اہم مشاورتی اجلاس ڈاکٹر شفقت ایاز کی سربراہی میں منعقد ہوا، جس میں کل اڈیالہ جیل کے باہر احتجاجی دھرنے کی حکمتِ عملی کو حتمی شکل دی گئی۔
قائدِ تحریک عمران خان صاحب کو فوری طور پر الشفاء آئی ہسپتال منتقل کیا جائے۔
ان کی فیملی اور وکلا سے ملاقات پر لگی غیر قانونی پابندیاں ختم کی جائیں۔
انشاءاللہ! کل سابقہ انصاف یوتھ ونگ اور آئی ایس ایف کے تمام غیور نوجوان ڈاکٹر شفقت آیاز کی قیادت میں اپنے قائد کی صحت اور بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے اڈیالہ جیل کے باہر پرامن احتجاجی دھرنے میں بھرپور شرکت کریں گے۔
(ایڈمن)
Alhamdullillah My elder brother Deputy MS Dr farooq sayyar promoted to Grade 18 and he also completed MPH degree on the same day. I congratulate all doctors for their promotion to BPS 18 and i hope they will continue their services for humanity and specially helpless people.
ہمارے کچھ لوگ کے پی میں جرگہ میں جائیں گے کیونکہ کل اسمبلی میں ترمیم پر ووٹنگ ہوگی تو میں اور اچکزئی یہاں ہوگے جنید اکبر جرگہ میں جائیں گے ، گوہر علی خان
Former Prime Minister Imran Khan in Conversation with his Family and Lawyers at Adiala Jail - 15 July 2025:
"There is absolutely no question of bowing down, even if I have to spend my entire life in prison. I convey this same message to the people of Pakistan: under no circumstances should you submit to this tyrannical system.
The time for negotiations has passed. What remains now is the time for the nation to rise in protest.
Hardships inflicted upon me in jail have intensified in recent days. The same is true for my wife, Bushra Bibi, who is also facing increasing restrictions. The television in her cell has been shut down. All fundamental human rights and basic prisoner entitlements, both mine and hers, have been suspended. This must be accounted for.
I am fully aware that a certain Colonel and Jail Superintendent Anjum are carrying out these actions at the behest of Asim Munir.
I issue a clear directive to my party: if any harm comes to me while I remain imprisoned, Asim Munir must be held accountable.
Bushra Bibi is being subjected to this cruelty because, during my tenure, after Asim Munir was removed from his position, he sent her a message through Zulfi Bukhari requesting a meeting, which she categorically declined. Since then, he has targeted her with continuous retribution. From day one, it has been his deliberate strategy to break my will by tormenting her.
In the very jail where I am being held under inhumane conditions, terrorists and known murderers of hundreds of Pakistanis enjoy better treatment. A military officer named Rizwan is being held in the lap of luxury, while every form of cruelty is inflicted upon me. No matter what they do, I did not bow before this oppression before, nor will I do so now.
Under the oppressive watch of Maryam Nawaz and Mohsin Naqvi in Punjab, fascism has taken root for the past two years, extinguishing democracy and crushing all political activity.The arrival of elected representatives in Punjab in the form of a political caravan, in such an environment is a welcome development.
At this time, many, including myself, are enduring some of the harshest imprisonments. Therefore, I direct every member of the party to put aside all personal grievances. Publicly airing internal matters or individual concerns before the media is entirely unacceptable. My instruction is firm: whether a senior officeholder or a junior member, no one is to express internal differences on social media, electronic media, print media, or any other platform. Focus exclusively on the protest movement so that fundamental human rights are restored in Pakistan. If any party official fails to participate in this movement, I will make the final decision about them myself, even from within jail.
I instruct all party members and office-bearers to personally retweet my messages on Twitter (now X), and ensure they are shared as extensively as possible.
The party should decide on nominations for the Senate tickets through mutual consultation."
“جب ایک قوم اپنے حق کے لیے خود کھڑی ہو جاتی ہے پھر اس کو کوئی طاقت جھکا نہیں سکتی۔ میں جیل میں بھی آزاد ہوں مگر میری قوم باہر ایک ایسی قید میں ہے جہاں نہ آزاد عدلیہ ہے نہ آزاد جمہوریت نہ ہی آزاد میڈیا۔ تمام پاکستانیوں کو اب اپنی حقیقی آزادی کے لیے باہر نکلنا ہو گا!!
دو سال سے میں صرف پاکستانی قوم کی خاطر جیل میں قید ہوں تا کہ آپ کو کوئی غلام نہ بنا سکے۔ اب وقت آ چکا ہے کہ آپ خود اپنی آزادی کے لیے کھڑے ہوں اور اس جابر نظام کو شکست دیں۔
ملک کی خاطر میں نے بارہا مذاکرات کی بات کی مگر اب مذاکرات کا وقت گزر چکا ہے ۔ چھبیسویں آئینی ترمیم کے بعد اس ملک میں آئین و قانون اور انصاف کو دفن کر دیا گیا ہے۔ ہمیں عدالتوں سے انصاف کی جو امید تھی وہ مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے، اس لیے اب پاکستانی قوم کو ملک گیر احتجاجی تحریک کے علاوہ کوئی اور طریقہ لا قانونیت کی اس دلدل سے باہر نہیں نکال سکتا۔
ملک گیر تحریک کا مکمل لائحہ عمل اسی ہفتے پیش کیا جائے گا- پانچ اگست کو میری نا حق قید کو پورے 2 برس مکمل ہو جائیں گے۔ اسی روز ہماری ملک گیر احتجاجی تحریک کا نقطہ عروج ہوگا۔
اب کسی سے کسی بھی قسم کے مذاکرات نہیں ہوں گے! صرف اور صرف سڑکوں پر احتجاج ہو گا تاکہ قوم زبردستی کے مسلط کردہ کٹھ پتلی حکمرانوں سے نجات حاصل کرے۔
دوٹوک پیغام دے رہا ہوں کہ تحریک انصاف کا جو عہدہ دار اس تحریک کا وزن نہیں اٹھا سکتا وہ ابھی سے الگ ہو جائے۔ جن لوگوں نے اُن کے آگے گھٹنے ٹیکے ہوئے ہیں وہ یاد رکھیں! کچھ عرصے بعد یہی لوگ انہیں کرش کر دیں گے اور عوام بھی انہیں کبھی معاف نہیں کرے گی-
نیلسن منڈیلا اور گاندھی تک کو دیگر قیدیوں سے ملنے، کتابیں پڑھنے اور کتابیں لکھنے کی اجازت تھی- میں ایک ایسی قید کاٹ رہا ہوں جہاں روزانہ 22 گھنٹے مجھے 6x8 کے سیل میں بند رکھا جاتا ہے، پولیس اہلکار تک مجھ سے بات نہیں کر سکتے، 6 ماہ سے کتابیں بند ہیں، میرے بچوں سے میری بات نہیں کروائی جاتی، میرے وکلأ اور ساتھی مجھ سے نہیں مل سکتے، میرے اہل خانہ کو ایک ہفتے بعد چند منٹ کے لیے ملنے دیا جاتا ہے اور اکثر انہیں بھی روک لیا جاتا ہے، دس ماہ سے میرے ذاتی ڈاکٹر سے میرا معائنہ نہیں کروایا گیا، پچھلے ایک ہفتے سے تو میرا اخبار اور ٹی وی بھی بند ہے۔ جو کتابیں مجھے خاندان کی طرف سے بھجوائی جاتی ہیں وہ تک مجھے مہیا نہیں کی جاتیں اور سپرنٹنڈنٹ کے کمرے میں پڑی رہتی ہیں۔ میری اہلیہ کو بھی بدترین حالات میں قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے-
اس سب کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ اور اس کے بغل بچوں کا ہاتھ ہے۔ یہ سب کچھ مجھے توڑنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ لیکن میں آخری سانس تک ظلم کے خلاف کھڑا رہوں گا-
ہم نے قبائلی علاقوں کو کئی دہائیوں بعد ان کے آئینی و قانونی حقوق دلوائے اور علاقے کی تعمیر نو اور ترقی کے لیے بھرپور وسائل مہیا کیے- موجودہ رجیم نے پہلے تو تین سال تک ان علاقوں کے جائز فنڈز روکے رکھے اور اب ان کے آئینی حقوق واپس لینے کی کوششیں کی جا رہی ہیں جو کہ انتہائی قابل مذمت ہے- ہمارے پارلیمینٹیرینز اور نمائندوں نے ان اقدامات کا بائیکاٹ کر کے اچھا فیصلہ کیا-
ہمارے پنجاب کے ایم پی ایز کو جعلی حکومت کے بجٹ کے دوران احتجاج کرنے پر معطل کرنے کے پیچھے یہی وجہ ہے کہ مریم نواز کے خلاف احتجاج ان کو بہت ناگوار گزرا ہے- حالانکہ ہمیشہ بجٹ کے دوران احتجاج ہوتا آیا ہے-“
سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے پیغام (۸ جولائی، ۲۰۲۵)
پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے اپنی واسکٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایک بابا جی کو پہنا دی میں نے ان سے بہت کچھ سیکھا ہے برسٹر گوہر خان جب میں امریکہ سے آیا تو مجھے یہ سمجھاتے ہوتے تھے یہ ہر ایک جج کے ساتھ رہے ہیں پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر خان
@BarristerGohar
یہ 1971 کا پاکستان نہیں ہے یہ 2025 کا پاکستان ہے آج ہندوستان کے 269 شہروں میں سول ڈیفنس ڈرلز شروع ہو چکی ہیں انہیں خطرہ ہے ہندوستان کا ہر شہر پاکستان کے نشانے پر ہے پاکستان کی حکومت کے ساتھ ہمارا سیاسی اختلاف ضرور ہے لیکن ریاست کے خلاف ہر خطرے کا ہم مقابلہ کرینگے،بیرسٹرگوہر خان
اگر عمران خان نے جلسہ منسوخ کرنے کے احکامات جاری کئےاور بیرسٹر گوہر نے اپ لوگوں تک پیغام پہنچا کر خان کے حلم کی پاسداری کی، تو پھر اپ لوگ کیوں عمران خان سے بڑے لیڈر بن کے تنقید کر رہے ہو۔ عمران خان پاکستانی سیاست کے پیچیدگیوں اور ان کم ظرف حکومت کو حوب جانتا ہے۔
ایک سازش کے تحت تحریک انصاف کے متعدد حمایت یافتہ کامیاب امیدواروں کی جیت کو ووٹوں کی دوبارہ گنتی کے ذریعے شکست میں تبدیل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ قانون کے مطابق حتمی اور سرکاری نتائج جاری ہونے کے بعد ووٹوں کی دوبارہ گنتی نہیں کی جاسکتی۔ ہم اعلیٰ عدلیہ اور الیکشن کمیشن سے مطالبہ کرتے ہیں اس کارروائی کو فی الفور روکا جائے۔
آج بانی چیئرمین عمران خان سے پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کے حوالے سےبھی مشاورت کی گئی جس کو بہت جلد سپریم کورٹ میں چیلنج کریں گے۔ہماری سپریم کورٹ سے درخواست ہو گی کہ اس کیس میں لارجر بنچ قائم کر کے جلد از جلد آئین کے مطابق فیصلہ سنایا جائے۔
آئین کے آرٹیکل 51 کے تحت کسی بھی سیاسی جماعت کو اسکی جیتی ہوئی نشستوں سے زیادہ مخصوص نشستیں نہیں دی جاسکتیں۔ تحریک انصاف کی 78 مخصوص نشستیں دوسری جماعتوں کو خیرات میں دی گئی ہیں۔
دستور کے تحت آزادانہ، منصفانہ اور شفاف انتخابات کے انعقاد کا ذمہ دار ادارہ الیکشن کمیشن آف پاکستان ہے چنانچہ انتخابات کی شفافیت پر جس سمت سے بھی اعتراض سامنے آئے گا، جوابدہ الیکشن کمیشن ہی کو ہونا ہوگا۔
مرکز، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کی فیصلہ کن اکثریت ثابت ہوچکی ہے اور قومی و صوبائی اسمبلی کی جن نشستوں پر نتائج کو مصنوعی طریقوں سےاس انداز میں تبدیل کیا گیا جسکی گواہی کمشنر راولپنڈی کی جانب سے سامنے آئی،تو انکی تمام تفصیلات تحریک انصاف شواہدسمیت سامنے لا چکی ہے۔
اصولی طور پر فارم 45 قومی و صوبائی اسمبلی کے ہر حلقے میں نتائج کے فیصلے کیلئے کافی ہے۔ فارم 45 کی شکل میں پولنگ سٹیشنز کےنتائج کا تجزیہ کرلیا جائے اور جسے عوام نے ووٹ کےذریعے مینڈیٹ سےنوازا ہےاسےنمائندگی کا حق دیا جائے۔
فارم 45کے دستیاب ریکارڈ کی روشنی میں تحریک انصاف بہرحال ان تمام حلقوں سے جیت کر دوتہائی اکثریت حاصل کر چکی ہےجس میں اسکےامیدواروں کو زبردستی نتائج سےچھیڑ چھاڑ کرکےہروایا گیا اور اکثریت کو اقلیّت میں بدلنے کی قابلِ مذمت کوشش کی گئی۔
واضح عوامی مینڈیٹ کے بعد پاکستان تحریک انصاف مرکز، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں حکومت سازی کا مکمل دستوری، قانونی اور جمہوری حق رکھتی ہے چنانچہ بانی چیئرمین عمران خان کی باضابطہ منظوری سے علی امین گنڈا پور صاحب کو خیبر پختونخوا کی وزارتِ اعلیٰ کیلئے نامزد کیا گیا ہے۔ اگلےمرحلے میں سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے لئے نامزدگیوں کا فیصلہ کریں گے۔
اسی طرح مرکز اور پنجاب میں حکومتی و پارلیمانی عہدوں کیلئے نامزدگیوں پر فیصلوں کا عمل جمعرات تک مکمل کرلیا جائے گا، ان شاء اللہ۔
ملک و قوم اور جمہوریت کے مستقبل کیلئے لازم ہے کہ واضح اور شفاف عوامی مینڈیٹ کا مکمل احترام کیا جائے اور ناجائز مداخلت سے اکثریت کو اقلیّت میں بدلنےجیسی قبیح رسم سے گریز کرتےہوئےپاکستان کو عوام کی منشا کی روشنی میں دستور و جمہوریت کی راہ پر آگے بڑھنے کا موقع دیا جائے۔
عوام نےاپنے ووٹ کے ذریعے جو فیصلہ سنایا ہے وہ شکوک و شبہات اور کسی قسم کے ابہام سے پاک ہے۔
پاکستان کا مفاد اس واضح اور شفاف مینڈیٹ کے احترام ہی میں پوشیدہ ہے۔ عوام کے ووٹ کی کھلی بےحرمتی دستور و جمہوریت کی توہین ہی نہیں بلکہ ملکی معیشت کیلئےبھی زہرِ قاتل ہے۔
نتائج سے چھیڑ چھاڑ کا مذموم سلسلہ ترک کرکے قومی مفاد کو مقدّم رکھنا اور عوام کے فیصلے کے سامنے سرِتسلیم خم کرتے ہوئے ملک کو بحرانوں سے نجات کا موقع دیا جانا ناگزیر ہے۔
پاکستان تحریک انصاف عوامی مینڈیٹ کی حرمت کے تحفظ سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹے گی۔
الیکشن کمیشن شفاف انتخابات کے انعقاد میں ناکام رہا ہے۔ قانون کا تقاضا ہے کہ رات 2 بجے تک تمام نتائج کا اعلان کیا جائے،بصورت دیگر انتخابی افسران قانونی طور پر نتائج میں تاخیر کی وجوہات فراہم کرنے کے پابند ہیں۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے نتائج میں تاخیر کے ذریعے دانستہ طور پر تحریک انصاف کی حاصل کردہ نشستوں کو تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی جس کا بنیادی ہدف اکثریت کو اقلیت میں بدلنا ہے۔
“انشأللہ ہم وفاق، پنجاب اور خیبر پختونخوا میں حکومت بنائیں گے-
نتائج تبدیل کرنے کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہونے دیں گے” - بیرسٹر گوہر، چئیرمین تحریک انصاف
سبّی میں انتخابی ریلی کے دوران ایک نہایت قابلِ مذمت بم دھماکےکے نتیجےمیں اپنے کارکنان کی شہادتوں پرنہایت دلگرفتہ اور رنجیدہ ہوں۔
ہائی سیکیورٹی الرٹ کےباوجود تحریک انصاف کی انتخابی ریلی کے تحفظ میں ناکامی امنِ عامہ خصوصاً دہشتگردی سے شہریوں کی حفاظت کے حوالے سے نگران حکومتوں کی کارکردگی پر بڑا سوالیہ نشان ہے۔ واقعےکےجامع تحقیقات کی جائیں اور ذمہ داروں کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے۔
پاکستان اہم ترین قومی انتخابات کی دہلیز پر کھڑا ہےجبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ترجیحات میں شدید نوعیّت کا بگاڑ فتنہ پرور عناصر کیلئے ماحول سازگار بنارہا ہے۔سیاسی انتقام اور انتخابی انجینئرنگ جیسےناپسندیدہ عمل سے الگ کرکےقانون نافذ کرنے والے اداروں کو ان کے اصل کام پر لگایاجائےاور انتخابات کو پرامن رکھنےکےساتھ شہریوں کی سلامتی کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔
شہید کارکنان کے لواحقین کے غم میں برابر کے شریک اور زخمیوں کی جلد اور مکمل شفایابی کیلئے دعا گو ہیں۔