میاں چنوں کے نواحی گاؤں 58/15 ایل کے رہائشی پاک فوج کے جوان محمد شعبان گلگت بلتستان میں اپنی ڈیوٹی کے دوران شہادت کے رتبے پر فائز ہو گئے۔ وطن کے دفاع اور امن کے لیے دی گئی ان کی قربانی ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔
سیاست میں فوجی مداخلت سے ملک پیچھے چلا جاتا ہے۔ 1960 کی فوجی بغاوت سے شروع ہونے والی، تمام غیر جمہوری مداخلتوں نے ترکیہ کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچایا، ہمارے لوگوں کو غریب کیا اور ترکیہ کو پیچھے دھکیل دیا۔ صدر رجب طیب ایردوان
A DEBT THAT CAN NEVER BE REPAID 🇵🇰
Before you sleep, listen to the golden words of Pakistan's Top Nuclear Scientist & Father of Pakistan's Nuclear Program Dr. Abdul Qadeer Khan 🇵🇰
We must all thank ALLAH Almighty for blessing this nation with a Nuclear Armed Pakistan & Dr. Abdul Qadeer Khan, may ALLAH bless his soul, Ameen.
ہزمینوف ایک سابق روسی جاسوس تھا۔پاکستان کے پچھلے پچیس سالوں کا جائزہ لیں اور اب جو ہو رہا ہے اسے ہزمینوف کے خیالات کی روشنی میں دیکھیں تو چودہ طبق روشن ہو جاتے ہیں۔ذیل میں انکے خیالات کے چیدہ چیدہ نکات درج کیے جاتے ہیں:
"# یوری بیزمینوف اور نظریاتی تخریب (Ideological Subversion) کا نظریہ
سرد جنگ کے دوران، سوویت یونین نے صرف جاسوسوں اور فوجی طاقت پر انحصار نہیں کیا بلکہ پروپیگنڈا، سیاسی اثر و رسوخ، اور نفسیاتی جنگ کو بھی اپنی حکمتِ عملی کا اہم حصہ بنایا۔ سوویت یونین سے فرار ہونے والے ایک سابق اہلکار، یوری بیزمینوف، کا دعویٰ تھا کہ مغرب کے خلاف سوویت یونین کا سب سے خطرناک ہتھیار ایٹمی میزائل یا روایتی جاسوسی نہیں بلکہ عوامی شعور اور سوچ کو آہستہ آہستہ تبدیل کرنا تھا۔
بیزمینوف نے 1970 میں سوویت یونین چھوڑ دیا۔ وہ سوویت میڈیا ادارے “نووستی پریس ایجنسی” میں کام کرتے تھے، جسے وہ KGB سے قریبی طور پر منسلک قرار دیتے تھے۔ کینیڈا پہنچنے کے بعد انہوں نے سوویت “ایکٹو میژرز” اور نظریاتی جنگ کے بارے میں عوامی لیکچرز اور انٹرویوز دینا شروع کیے۔
ان کا سب سے مشہور انٹرویو 1984 میں جی ایڈورڈ گرفن کے ساتھ ہوا۔ اس انٹرویو میں بیزمینوف نے ایک ایسی طویل المدتی حکمتِ عملی بیان کی جس کا مقصد ان کے مطابق امریکہ کو اندر سے کمزور کرنا تھا۔
بیزمینوف کے مطابق KGB کا زیادہ تر کام روایتی جاسوسی نہیں تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ سوویت انٹیلی جنس کی تقریباً 85 فیصد سرگرمیاں خیالات، اقدار، ثقافت، اور عوامی رائے کو متاثر کرنے پر مرکوز تھیں۔ وہ اس عمل کو “نظریاتی تخریب” یا “نفسیاتی جنگ” کہتے تھے۔
---
# نظریاتی تخریب کا مقصد
بیزمینوف کے مطابق نظریاتی تخریب ایک ایسا عمل ہے جس کا مقصد لوگوں کے حقیقت کو دیکھنے کے انداز کو بدل دینا ہوتا ہے۔ کسی ملک کو فوجی طاقت سے فتح کرنے کے بجائے اس کی سماجی یکجہتی، قومی اعتماد، اور اداروں پر یقین کو کمزور کیا جاتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جب عوام اپنے نظام پر اعتماد کھو دیتے ہیں تو انہیں سیاسی اور سماجی طور پر قابو کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ لوگ حکومت، میڈیا، تعلیمی اداروں، قانون نافذ کرنے والے اداروں، مذہب، اور یہاں تک کہ ایک دوسرے پر بھی شک کرنے لگتے ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ حقائق کی اہمیت کم ہو جاتی ہے جبکہ نظریات، جذبات، اور گروہی وابستگیاں زیادہ طاقتور بن جاتی ہیں۔
بیزمینوف کے خیال میں یہ عمل خفیہ طور پر نہیں بلکہ آہستہ آہستہ اور کھلے عام ہوتا ہے۔ ان کے مطابق نظریاتی تخریب اسکولوں، میڈیا، سیاسی تحریکوں، ثقافتی رجحانات، اور عوامی مباحثوں کے ذریعے پھیل سکتی ہے۔
---
# نظریاتی تخریب کے چار مراحل
بیزمینوف نے اس عمل کو چار مراحل میں تقسیم کیا۔
## 1. اخلاقی و فکری کمزوری (Demoralization)
پہلا مرحلہ “ڈی مورلائزیشن” یا اخلاقی و فکری کمزوری کا ہے، جس کے مکمل ہونے میں ان کے مطابق 15 سے 20 سال لگ سکتے ہیں۔ یہ تقریباً اتنا ہی وقت ہے جتنا ایک نئی نسل کی تعلیم و تربیت میں لگتا ہے۔
اس مرحلے کا مقصد معاشرے کے عقائد، اقدار، اور قومی شناخت کو بدلنا ہوتا ہے۔ بیزمینوف کا کہنا تھا کہ اگر نوجوان نسل کو اپنی ثقافت، روایات، تاریخ، اور اداروں سے بدظن کر دیا جائے تو وہی لوگ بعد میں حکومت، تعلیم، کاروبار، اور میڈیا میں طاقتور عہدوں پر پہنچ کر انہی خیالات کو آگے بڑھاتے ہیں۔
ان کے مطابق اس مرحلے کے بعد لوگ ثبوت اور حقائق کو قبول کرنے کی صلاحیت کھو دیتے ہیں۔ اگر کسی شخص کی نظریاتی تربیت بہت گہری ہو جائے تو وہ واضح ثبوت کے باوجود اپنی سوچ بدلنے سے انکار کر دیتا ہے۔
بیزمینوف اس مرحلے کو سیاسی انتہاپسندی، شناختی سیاست، ثقافتی تقسیم، اور نظریاتی شدت پسندی سے جوڑتے تھے۔
ان کے ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے سوویت اثر و رسوخ کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا اور داخلی سیاسی و سماجی عوامل کی اہمیت کو کم سمجھا۔ اس کے باوجود آج بہت سے لوگ ان کی باتوں میں جدید سیاسی تقسیم، غلط معلومات، اور اداروں پر عدم اعتماد کی جھلک دیکھتے ہیں۔
---
## 2. عدم استحکام (Destabilization)
دوسرا مرحلہ “ڈی اسٹیبلائزیشن” یا عدم استحکام کا ہے، جو بیزمینوف کے مطابق دو سے پانچ سال تک جاری رہ سکتا ہے۔
اس مرحلے میں توجہ ثقافت سے ہٹ کر ریاست کے اہم نظاموں پر مرکوز ہو جاتی ہے، جیسے:
* معیشت
* خارجہ پالیسی
* قومی دفاع
* قانون نافذ کرنے والے ادارے
* سماجی نظم و ضبط
اس مرحلے کے دوران معاشرہ زیادہ تقسیم اور کمزور ہو جاتا ہے۔ سیاسی اتفاقِ رائے ختم ہونے لگتا ہے، عوامی اعتماد مزید کمزور ہو جاتا ہے، اور ادارے اپنی ساکھ برقرار رکھنے میں مشکلات کا شکار ہو جاتے ہیں۔
بیزمینوف کا خیال تھا کہ اس مرحلے کا مقصد ایسا انتشار پیدا کرنا ہے جو کسی ملک کو بغیر براہِ راست فوجی حملے کے اندر سے کمزور کر دے (بقیہ پہلے کومنٹ میں)
In 1983, at Kirana Hills, Ghulam Ishaq Khan, Gen. K.M. Arif, Munir Ahmad Khan & PAEC scientists smiled quietly Pakistan had just cold-tested its first nuclear device. A secret milestone, decades ahead of its time. Pakistan had no oil. Just unbreakable willpower. On 28 May 1998, that determination lit up Chagai and the world took notice.
We are a nation that delivers. Proudly Pakistani!
1983 میں غلام اسحاق خان، جنرل کے۔ ایم۔ عارف، منیر احمد خان اور پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے سائنسدانوں نے کرانہ ہلز میں خاموش مسکراہٹ کے ساتھ پاکستان کے پہلے ایٹمی آلے کا کولڈ ٹیسٹ کامیابی سے مکمل کیا۔
یہ ایک خفیہ سنگِ میل تھا، جو اپنے وقت سے کئی دہائیاں آگے تھا۔
پاکستان کے پاس تیل نہیں تھا، صرف ناقابلِ شکست عزم تھا۔
28 مئی 1998 کو یہی عزم چاغی کی پہاڑیوں میں گونجا اور دنیا نے پاکستان کی طاقت کو تسلیم کیا۔
ہم ایک ایسی قوم ہیں جو کر کے دکھاتی ہے۔
فخر ہے پاکستانی ہونے پر! 🇵🇰
#پاکستان #تاریخ #ایٹمی_طاقت
بلوچستان میں ِ عید کی شب وطن عزیز کی ناموس پر جان قربان کرنے والے بہادر خاندان کی لازوال قربانی
بی ایل اے دہشتگردوں کے سامنے پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگا کر شہادت کو گلے لگا لیا
شہدا میں پاکستان مردہ باد کا نعرہ لگانے والے ایک مسلح دہشتگرد پر جھپٹنے والے مفتی اکرام بھی شامل
ہرنائی شاہرگ میں بی ایل اے دہشت گردوں کی فائرنگ، ایک ہی خاندان کے 5 افراد شہید
ضلع ہرنائی کی تحصیل شاہرگ میں بی ایل اے کے دہشت گردوں نے ایک ہی خاندان کے افراد کو روک کر کہا کہ “پاکستان مردہ باد” کا نعرہ لگاؤ، پھر تمہیں چھوڑ دیا جائے گا
اس موقع پر اکرام شاہ نامی شخص نے بلند آواز میں “پاکستان زندہ باد” کا نعرہ لگایا۔ دہشتگردوں نے جواباً “پاکستان مردہ باد” کا نعرہ لگانے کا مطالبہ کیا، مگر خاندان کے تمام افراد نے یک زبان ہو کر “پاکستان زندہ باد” کے نعرے بلند کیے
اسی دوران ایک دہشت گرد نے خود “پاکستان مردہ باد” کا نعرہ لگایا، جس پر مفتی زاہد شاہ نے غصے میں آ کر دہشت گرد کو تھپڑ رسید کیا
اس کے بعد دہ شت گردوں نے اندھا دھند فائرنگ کردی، جس کے نتیجے میں مفتی زاہد شاہ، اکرام شاہ، زمان شاہ، ضیاء الحق اور کاہر شاہ شہید ہوگئے
فتنہ الہندوستان انسانیت، اسلام اور وطنِ عزیز کے کھلے دشمن ہیں
پاکستان میں اس سے قبل بھی بے شمار ایسی مثالیں موجود ہیں جہاں وطن کی حرمت اور قومی وقار کی خاطر لوگوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا مگر پاکستان کے خلاف نعرہ لگانے سے انکار کردیا
بلوچستان کے غیور عوام فتنہ الہندوستان کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح کھڑے ہیں
@PakSarfrazbugti
وہ جو کہتے تھے ٹرمپ کو جواب نہیں دیا پاکستان نے انکے عرض ہے۔
یہ ہے اصلی ابسیلوٹی ناٹ۔۔
اسحاق ڈار کا امریکہ اسرار کو ابراہم اکارڈ پر کورا جواب
Ishaq dar
پاکستانی تاریخ میں 28 مئی 1998ء ایک ناقابل فراموش دن ہے جب پاکستان نے ایٹمی قوت بن کر طاقت کا توازن بحال کیا۔ پاکستان کے دفاع، سلامتی اور خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ دفاع کے لیے ہر قسم کی قربانی دی جائے گی
یوم تکبیر پر مسلح افواج کا عہد
مسلمان مرد عورتیں بچے بوڑھے دنیا بھر میں کلمے پر گردن کٹوا رہے ہیں۔کشمیر اور فلسطین کے بچوں ہی کی جرات و اعتماد دیکھنے کے لائق ہے۔یہ جذبہ،ایثار اور فدا ہونے کی تڑپ پیدا کرنے کیلئے جانور قربان کیا جاتا ہے کہ کل اگر اپنی ساری دنیا قربان کرنا پڑی یا جان دینی پڑی دریغ نہیں کروں گا