یہ تو طے ہے کہ تجربہ اور اہلیت رکھنے والی نواز شریف آصف علی زرداری اور مصطفٰی کمال کی سرکار نے مخالفین تو چھوڑیں خود حکومت کے حامیوں کی بھی چیخیں نکلوا دیں، وہ وکیل یاد آگیا جو 50 ہزار میں کیس لڑنے پہ راضی تھا مگر اسے ناکارہ سمجھ کر اگلوں نے 50 لاکھ کا وکیل کیا اور پھانسی مل گئی
سابق فاسٹ بولر محمد آصف کا کہنا ہے کہ شاہین آفریدی حارث رؤف شاداب خان کی کرکٹ اب ختم ہوگئی ہے وہ الگ بات ہے کہ یہ تینوں اسوقت سفارش پر کھیل رہے ہے شاداب خان نے آخری پانچ ون ڈے میچوں میں کوئی وکٹ حاصل نہیں کی اس کے باوجود کھیل رہا ہے اس سے بڑی ناانصافی اور کیا ہوسکتی ہے سفیان مقیم بینچ پر بیٹھ کر میچ دیکھ رہا ہے اور شاداب کھیل رہا ہے یہ پاکستان کرکٹ کیساتھ مزاق نہیں تو اور کیا ہے علی رضا ٹیم سے باہر ہے حارث رؤف کھیل رہا ہے یہ کیاہے کب تک یہ تینوں سفارش پر کھیلیں گے ایک دن آجائے گا ان کی سفارش بھی ختم ہوجائے گی حارث رؤف شاہین اور شاداب سے بہت اچھے کھلاڑی آپ کو پاکستان کے ہرگلی میں مل جائیں یہ پاکستان کرکٹ کی بدقسمتی نہیں تو اور کیا ہے
#PakvsAus #cricket #PakistanCricket
القاعدہ نے تورا بوڑا کے حوالے سے انکشاف کیا ھیکہ تورا بوڑا محاصرے کے دوران بن لادن اور الظواہری کو اقوام متحدہ کے آگے سرینڈر ہونے کی پیشکش کی گئی ایمن الظواہری کے اسامہ کیساتھ گزرے ایام کے احوال میں پیشکش کرنے والے کا نام نہیں بتایا گیا البتہ 2011 کی ان دستاویزات کیمطابق صرف
الحمدللہ! اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس نے مجھے حجِ بیت اللہ کی سعادت سے نوازا۔
بہت سے لوگوں نے قیاس و گمان کیا کہ یہ سفر کس نے کروایا اور کیسے ہوا، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ میرا خالصانہ ذاتی فیصلہ تھا۔
میں نے اپنے دل میں ایک روحانی منزل پائی تھی جہاں حج فرض ادا کرنا ضروری ہوگیا۔
اس مقدس سفر نے میری روح میں ایک ایسی الٰہی چنگاری روشن کردی ہے جو ہمیشہ جلتی رہے گی۔
دعا ہے کہ میرے جیسے بہت سے بھائی اور بہنیں بھی اس روحانی سفر کا حوصلہ کریں، حج کی سعادت حاصل کریں اور اسی لُطفِ الٰہی سے سرشار ہوں۔
شہید حسن البناء رحمہ اللہ ساتھیوں کے ساتھ نماز پڑھ کر مسجد سے باہر نکلے،
ایک ساتھی نے دوسرے کی طرف ہاتھ بڑھا کر
کہا؛ "تقبل اللہ منک"
دوسرے نے جھٹک کر اپنا ہاتھ کھینچ لیا اورکہا؛
"نہیں،یہ سنت نہیں ہے"
حسن البنا ؒ اُسکے قریب ہوئے
اور نرمی سے اسے کہا:
"تو قلتِ حیاء سنت ہے کیا؟
1+
کہیں وہ دن نہ آجائے!
(احمد الشرع کے نام)
تم اپنی دُوربیں آنکھوں سے
ان اغیار کا چہرہ نہیں___
چہروں پہ پھیلی مسکراہٹ بھی نہیں___ بلکہ
حسِیں اس مسکراہٹ کے عقب میں
’’دوستی‘‘ کی دلدلوں میں تیرتے سانپوں کو بھی دیکھو!
وگرنہ___!
تم ان کے مرمریں ہاتھوں میں گلدستے نہیں___
گلدستۂ رنگیں میں لپٹے سرخ نیلے پھول تارے ہی نہیں___ بلکہ
ذرا ان پتّیوں سے پھوٹتی اک بوئے قاتل کو بھی تو سونگھو!
کبھی ان ناریوں کی بھی زباں سمجھو!
وگرنہ___!
وگرنہ قربتوں کے اِس سفر میں دن وہ آئے گا
گئی تاریخ کا چکّر
پلٹ کر گھوم جائے گا!
بدیسی لوگ ہوں گے اور___کتابی صورتوں کے ہر ورق پر ’’صرف ہم اور ہم‘‘___ لکھا ہوگا!
مسلماں کے نو ِشتے میں
کلامِ غم لکھا ہوگا!
شہر کی اِن فصیلوں پر
نیا پرچم لگا ہوگا
پتہ تم ’’دوستوں‘‘ کا پوچھتے رہ جاؤ گے ہر سُو ___
مگر تاریخ کا کاتب
قلم تک کھو چکا ہوگا!
-شیخ احسن عزیز شہیدؒ
(تمہارا مجھ سے وعدہ تھا)
افغانستان کے حوالے سے، حضرت ہم دو پڑوسی ملک ہیں اور جب ہندوستان تقسیم نہیں ہوا تھا، اس وقت بھی ہم پڑوسی تھے، پاکستان بن گیا تو اس کے بعد سے بھی ہم پڑوسی چلے آرہے ہیں اور افغانستان پاکستان کے بیچ میں تحفظات بھی رہے، لیکن ڈیورنڈ لائن جو ڈھائی ہزار کلومیٹر طویل ایک بارڈر ہے اس پر دونوں طرف پشتون قوم رہتی ہے، ایک بھائی کا گھر ادھر ہے تو دوسرے بھائی کا گھر ادھر ہے، ایک ہی گھر کا صحن ایک طرف ہے تو کمرے دوسرے طرف ہیں، ایک ہی مسجد کا محراب افغانستان میں ہے تو اس کے مقتدی پاکستان میں کھڑے ہوتے ہیں اور ہم ایک دوسرے کے لئے ناگزیر بھی ہیں، لیکن ایک دوسرے سے ہم شاکی بھی رہے ہیں۔ ہمیں تلاش کی اس بات تھی کہ افغانستان میں کوئی ایسی حکومت وجود میں آئے کہ جو پرو پاکستانی ہو، اب اگر ہم شکایت کرتے ہیں برہان الدین ربانی سے، پھر ہم طالبان کو وہاں کے افغان طالبان کو اپنا پرو پاکستانی سمجھتے ہیں، پھر جب ان کی حکومت آتی ہے تو ہم ان کو تسلیم بھی کرتے ہیں اور بطور سفیر بھی ان کو جگہ دیتے ہیں اور پھر جب نائن الیون ہوتا ہے تو ہم امریکہ کے اتحادی بن کر ان پر حملہ آور ہوتے ہیں، پاکستان میں امریکہ کو اڈے بھی دیتے ہیں، فضائیں بھی دیتے ہیں، وہاں بمبارمنٹ بھی ہوتی ہے، اور دوسری طرف ہم غلاف کے نیچے ان کو پاکستان میں جگہ بھی دیتے ہیں۔ بیس سال جنگ ہوئی، اب ظاہر ہے بیس سال جنگ کے بعد جب وہ افغانستان میں داخل ہوئے اور وہاں کی حکومت پر انہوں نے گرفت حاصل کی، تو بہت سے مسائل ان کے اور ہمارے بیچ میں تھے، مشکلات بھی تھی، ہمارے درمیان مہاجرین کا مسئلہ تھا، ہمارے درمیان باہمی تجارت کا مسئلہ تھا، ہمارے درمیان سرحدات کا مسئلہ تھا، ہمارے درمیان مسلح گروہوں کا مسئلہ تھا، جب یہ ہماری ہی لوگ مسلح ہوکر افغانستان جا رہے تھے تو ہم نے کبھی ان پر اعتراض نہیں کیا، جب وہاں انہوں نے بیس سال جنگ لڑی اور وہ ایک جنگجویانہ مہارت اس حد تک حاصل کر سکے تو وہ سٹیٹ کو چیلنج کرنے کی پوزیشن میں آگئے، آج ہم نے ان کو ایک مسئلہ بنا دیا ہے۔ سو اس وقت بھی میں گیا تھا الیکشن سے پہلے اور تمام مسائل حل کر کے آیا، یہاں میں نے بریفنگ دی سب کو اور میں نے جو کچھ حاصل کیا تھا ان کے سامنے رکھا، انہوں نے مجھے اپریشیٹ کیا، لیکن الیکشن میں دھاندلی کے نتیجے میں، میں نے پی ڈی ایم چھوڑ کر اپوزیشن میں بیٹھنے کا فیصلہ کیا۔ اب میں ان سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ آپ کی سفارتی رول اتنا کمزور کیوں ہیں کہ تم پرو پاکستانیوں کو بھی اینٹی پاکستان بنا رہے ہو اور سفارتی ذرائع سے آپ مسئلے کے حل کی صلاحیت سے محروم ہیں، وہاں بمباریاں آپ کر رہے ہیں۔
میں اپریشیٹ کروں گا اپنی حکومت کو، اگر افغانستان میں ان کو پاکستان دشمن مسلح گروہوں کے مراکز معلوم ہیں اور وہاں پر وہ سٹرائک کر سکتے ہیں تو خود پاکستان کے اندر ان کے مراکز ان کو معلوم کیوں نہیں ہے؟ اور جو کچھ بنوں میں ہو رہا ہے، لکی مروت میں ہو رہا ہے، جو ٹانک میں ہو رہا ہے، ڈیرہ اسماعیل خان میں ہو رہا ہے، وزیرستان میں ہو رہا ہے، وہاں پر جو صورتحال ہے اس میں سٹیٹ کو کس قدر مشکل درپیش ہے اس وقت، یہ ساری صورتحال اپنی طور پہ ایک بڑا سوال ہے اور جس کا ان کے پاس سفارتی حوالے سے کوئی جواب نہیں، صرف طاقت کا استعمال، اور صرف طاقت کا استعمال، اور اس وقت ہمارے پاس دو سرحد ہیں ایک انڈیا سرحد ایک افغان سرحد، باقی تو کوریڈورز ہیں۔ ان دو بڑی سرحدات یہ دونوں بند ہو گئی ہیں، دونوں سرحدات پر آپ کی تجارت بند ہے، ایران اس وقت آپ کے اچھے کا نہ برے کا، چائنہ کا اس وقت آپ بے اعتبار نہیں رہا ہے، اس کے سی پیک کے پورے پیکج کو آپ نے تباہ و برباد کر دیا ہے، ملک کو کہاں کھڑا کر دیا ہے اور اسی لیے میں نے عرض کیا تھا کہ پارلیمنٹ کا ایک ان کیمرہ اجلاس بلایا جائے اور ہمیں ذرا بتایا جائے کہ پاکستان کہاں کھڑا ہے اس وقت؟ ہم تشویش میں ہیں، پارلیمنٹ تشویش میں ہیں، لیکن ان میں ہمت نہیں ہے کہ وہ ان کیمرہ اجلاس میں بھی پارلیمنٹ کا جو زیادہ تر انہی کی منشاء کا ہے وہ ان کا سامنا کر سکے اور ان کو مطمئن کر سکے۔ تو میں تو ابھی بھی کہتا ہوں کہ ان کیمرہ اجلاس بلاو، ہمیں بتاؤں کہ تمہارے سفارتی کوششیں کیوں ناکام ہیں، افغانستان ہمارا پڑوسی اور مسلمان ملک میں ہے، برادر ملک ہے، وہ کیوں ہمارے ساتھ دشمنی کی طرف چلا گیا ہے؟ اور ہم ان شکایات کا کس طرح ازالہ کر سکتے ہیں؟ یہ اب بھی ہوسکتا ہے لیکن اس کے لیے صلاحیتوں کی ضرورت ہے۔
قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کی کراچی میں میڈیا سے گفتگو
2016 کی بات ھے، ایک دن واہگہ بارڈر پر سنہری بینک کے مالک علاء الدین فراستہ ایک ہندوستانی تاجر کے ساتھ میرے دفتر آئے جس کا تعلق جندال نامی ہندوستانی تاجر سے تھا۔
پاکستان اور بھارت پر مباحثہ شروع گیا اور فرحت جذبات میں اسکے منہ سے نکل گیا کہ ہم پاکستان سمیت خطے سے جپسم، نمک سمیت دیگر معدنیات خرید رہے ہیں۔ پاکستان کا جپسم زیادہ زرخیز ہے لیکن جب پاکستان میں جپسم ختم ہو جائے گا تو ہم پاکستان کو جپسم کی بجائے سیمنٹ بیچیں گے۔
پھر میں نے این ایل سی، کسٹمز اور رینجرز حکام سے چیک کیا تو پتا چلا جس قیمت پر ہمارا قیمتی ہمالیہ نمک اور جپسم بھارت کو بیچے جا رہے ہیں اس قیمت پر پاکستان میں مٹی بھی نہیں ملتی۔
@FaizullahSwati روافض کا کام اہل سنت کا قتل ناحق ہے لیکن افسوس ہمارے دینی حلقے اس بات کو قبول ہی نہیں کرتے بلکہ اب تو سپاہ صحابہ والے بھی اتحاد امت کا چورن پیچنا شروع ہو گئے ہیں ظاہر ہے اوپر سے آرڈر ہو اور درباری اپنا دین نہ بدلیں یہ کیسے ہو سکتا ہے
#برکاتِ_اطاعتِ_الہی
زمین کے پیداوار پر عدل و ظلم کا اثر
🌹
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں عراق کا خراج 120 ملین درھم تھا۔
عبدالملک و حجاج ابن یوسف کے دور میں ظلم بڑھ گیا تو یہ گھٹ کر 40 ملین ہو گیا۔
1+
پھر حضرت عمر ابن عبدالعزیز رحمہ اللہ کا دور آیاجو خداخوفی اور عدل و انصاف کے لحاظ سے خلافت راشدہ کے مشابہہ تھا،پس یہ خراج ایک دفعہ پھر بڑھ کر 80 ملین درھم تک پہنچ گیا۔
(مجموع شیخ عزام رحمہ اللہ)
2/2
اللہ تعالیٰ نفس، شیطان اور انٹرنیٹ کے شر سے ہمیں محفوظ فرمائے۔
بات یہ ہے کہ ابلاغ واصلاح کا اصل ذریعہ سینہ بہ سینہ دعوت اور صحبت و تعامل ہے،اور جب اسمیں صالح نیت اور مخلصانہ کوشش ہو تو دو طرفہ اصلاح ہوتی ہے۔
سوشل میڈیا صرف مجبوری میں ایک ذریعہ ہے،
اسے ہم اصل ذریعہ کبھی نہ سمجھیں۔