پاکستانی قوم بہت خوش قسمت قوم ہے جس کے پاس لیڈر عمران خان ہے، جو جُھکنے کو تیار نہیں، ڈرنے کو تیار نہیں، ہر قسم کا ظلم برداشت کرنے کے باوجود اپنے مُلک کے لئے ڈٹ کر کھڑا ہے۔
#آزادی_یا_شہادت#LetTheWorldSeeImranKhan
"عمران خان کو قید رکھنے کے لیے انہوں نے ایک خاص عدالت بٹھائی ہے جب عمران خان کا کیس اس عدالت میں جائے گا تو وہ کہیں گے بیس سال عمران خان کو جیل میں رکھیں۔ یہ ظالم جج ہیں اس وقت پاکستان ایک دستور ہے اور وہ ظالم کا دستور ہے جس کی چپ کر کے لوگ غلامی کررہے ہیں۔ عمران خان نے کہا تھا میری زندگی ان ظالمو کے ہاتھ نہیں اللہ کے ہاتھ میں ہے، آپ نے آئین و قانون، انصاف، اپنے حقوق اور حقیقی آزادی کے لیے کھڑا ہونا ہے"۔علیمہ خان
"یہ ملک پاکستان کے غیور عوام کی ملکیت ہے، جہاں جابرانہ طرزِ حکومت کی کوئی گنجائش نہیں۔ اس ملک کی تقدیر کا فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ آپ ملک میں انصاف اور قانون کی حاکمیت کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔" علیمہ خان
@salmanAraja@SdqJaan آپ بطور جنرل سکریٹری ہوتے ہوئے بھی خاموشی اختیار کیا ہوا ہیے
کیا آپ نے کھبی بھی پنجاب کے تمام حلقوں کے دورے کیے ہوئے ہیے
کیا آپ نے پنجاب کے تمام ممبروں کو حکم دیا ہیے کہ آپ اپنے اپنے حلقوں میں جا کے سٹریٹ مومنٹ تیاری کرو
کیو خاموش ہو آخر میں
فیملی کے 3 بنیادی مطالبات: 🚨
عمران خان کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کر کے مکمل اور معیاری علاج کی سہولت فراہم کی جائے۔
بانی پی ٹی آئی کی بلاجواز قیدِ تنہائی کو فی الفور ختم کیا جائے۔
عمران خان پر قائم تمام سیاسی اور بے بنیاد مقدمات کو فوراً ختم کیا جائے۔
"یہ جج لائے ہی عمران خان کو سزائیں سنانے کے لیے گئے ہیں اور آئینی عدالت کے قیام کا مقصد بھی صرف اور صرف بانی پی ٹی آئی کو نشانہ بنانا ہے۔" — علیمہ خان
🚨🚨علیمہ خان کا بروز اتوار ہزارہ ڈویژن میں 'اسٹریٹ موومنٹ مہم' شروع کرنے کا اعلان
علیمہ خان نے اتوار کے روز ہزارہ کے مختلف علاقوں میں عوامی رابطہ اور اسٹریٹ موومنٹ مہم چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اپنے اس دورے کے دوران وہ متعدد مقامات پر کارکنان سے خطاب کریں گی اور اہم ملاقاتیں کریں گی۔ دورے کے موقع پر مختلف علاقوں میں ان کے پرجوش استقبال کے لیے تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔
حکومت کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو عالمی جنگوں کے ساتھ منسلک کرنے کا فیصلہ۔
دھمکی پر 10 روپے،
میزائل چلانے پر 50 روپے
اور جنگی جہاز تباہ ہونے پر 200 روپے پیٹرول بڑھانے کی تجویز...
منقول
🔥 دوہرا معیار اور منافقت عوام کو ہرگز قبول نہیں!
نورین نیازی کو تو فوراً نوٹس بھیج دیا گیا، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہی قانون اور معیار نواز شریف پر بھی لاگو ہوگا؟ کیا نواز شریف کے بیانات اور اقدامات پر غداری کا مقدمہ بنے گا؟
حقائق کیا ہیں؟
نورین نیازی: ان کا انٹرویو 3 ماہ پرانا ہے، اور انہوں نے اسے شائع یا پبلش کرنے سے واضح طور پر منع کیا تھا، اس کے باوجود اس معاملے پر نوٹس جاری کر دیا گیا۔
نواز شریف: دوسری طرف نواز شریف کے بیانات ریکارڈ کا حصہ ہیں، لیکن وہاں قانون کی زبان بدل جاتی ہے۔
ایک ہی ملک میں دو الگ قوانین نہیں چل سکتے۔ انصاف کا یکطرفہ استعمال اور یہ کھلا دوہرا معیار عوام کی طرف سے مکمل طور پر ریجیکٹڈ (Rejected) ہے!
سوات میں میرے آبائی علاقے سے علیمہ خان صاحبہ کا بیان سُنا، سب سے پہلے تو میں اس بات پر اپنے لوگوں کا بہت شکرگزار ہوں جنہوں نے ایک رات کےشارٹ نوٹس پر میرے لیڈر کی بہن کا شاندار استقبال کیا۔ خان صاحب کی وساطت سے ہم سب کے دلوں میں ان کا بہت احترام ہے۔ میں ان کے مجھ پر اس قدر اعتماد پر بھی مشکور ہوں کہ ان کی رائے میں میری موجودگی سے عمران خان کی رہائی کی تحریک کو وہ تقویت ملے گی جو تحریک انصاف کی صوبائی حکومت اور اتنی تجربہ کار اور قابل قیادت کے ہوتے ہوئے نہیں ممکن ہو پائ۔ جب بھی خان صاحب کی میرے حوالے سے ہدایات میں تبدیلی سے مجھے، ان کے مصدقہ زرائع سے تصدیق ملی، میں انشاء اللہ ان کے اور اپنی قوم کے اس بھروسے کو شرمندہ نہیں ہونے دوں گا۔ تب تک اور ہمیشہ، ہر تحریک اور ہر مرحلے پر عمران خان کی پارٹی اور عمران خان صاحب کے خاندان کو میری اور میرے لوگوں کی ویسی ہی حمایت میسر ہوگی جس کا مظاہرہ آپ نے اس ہفتہ مالاکنڈ ریجن، آج سوات میں اور اب سے کچھ دیر بعد بونیر میں دیکھیں گے۔
رہی بات اپنے لوگوں کے ساتھ کھڑے ہونے کی تو میری قوم جانتی ہے کہ کل بھی اپنے لوگوں کے ساتھ کھڑا تھا اور آج بھی اپنے قائد اور اپنی قوم کے ساتھ کھڑا ہوں چاہے میں اپنے لوگوں کے مابین موجود ہوں یا نہیں میں نے نہ ان کے حقوق اور ان کی زندگیوں کا سودا کرنے کی اجازت کسی کو دی ہی، نا آگے کبھی دوں گا۔ دہشت گردوں کو نکالنے اپنا امن قائم کرنے،کسٹم ایکٹ کے خاتمے اور دیگر ترقی سے یہ ثابت شدہ اور میری قوم اس کی گواہ ہے۔
اگرچہ چند حلقوں کو اس تحریر کی طوالت سے تکلیف ہوگی مگر چونکہ ایک لایعنی بحث چھڑ ہی گئی ہے تو اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے چند حقائق سامنے لے آؤں۔ آپ کو پڑھنے میں دقت پیش آتی ہے تو معذرت کے ساتھ میں اپنے کارکنان سے مخاطب ہوں، آپ آگے گزر سکتے ہیں ۔
۲۰۱۸ انتخابی مہم کا آغاز عمران خان نے سوات سے کیا اور کل جہاں ہیلی کاپٹر لینڈ ہوا اسی جگہ میرے گاؤں عمران خان کا ہیلی کاپٹر لینڈ ہوا تھا۔ خان صاحب نے جگہ کی تعریف کی، میں نے بتایا یہاں سوات آپریشن کے دور سے فوج قابض ہے انشاءاللہ اب آپ وزیراعظم ہوں گے تو یہ قبضہ چھڑوانا ہے، ایک بوڑھی خاتون جن کے پانچ بچوں کو دس سال سے فوج اٹھا کر لے گئی تھی اور جو کئی مہینوں سے میرے پاس آرہی تھے ان کی درخواست بھی تھما دی۔ جلسے میں خان صاحب سے یہ بھی گزارش کی کہ پچھلے مہینےایک نوٹیفیکشن کے زریعے فاٹا اور پاٹا پر ٹیکس لاگو کیا گیا ہے آج ہم سے اسے ختم کرنے کا وعدہ کریں۔
عمران خان کی حکومت بنی، بطور رُکن کابینہ پہلی میٹنگ میں یاد دلایا کسٹم ایکٹ تو اسی دن ختم ہوگیا لیکن فوج سے زمین خالی کرانے اور بوڑھی ماں کے بچوں کو بازیاب کرانے کی جدوجہد جاری رہی۔
جب وزیراعظم سے حیلے بہانے کیے گئے تو میں نے اپنے حلقے کے لیے نئے منظور شدہ دو منصوبوں؛ یونیورسٹی اور ہسپتال کے لیے اسی جگہ کا انتخاب کیا۔ فوج نے ہماری ہی حکومت میں ہمیں دھمکیاں لگائیں، ہر ممکن کوشش کی لیکن ہم نے افتتاح کی تاریخ دے دی۔ نتیجتاً سول سوسائٹی کو ڈھال بنا کر عدالت سے رجوع کیا گیا۔ کیس لگنے سے قبل ہم نے اصل سول سوسائٹی کے مظاہرے کروا کر مطالبہ کیا کہ عوام کی جگہ خالی کرائیں اور یہ غیر قانونی قبضہ چھڑوائیں۔
فوج نے ہماری ہی حکومت میں مجھے غدار بنا کر پیش کرتے ہوئے وزیراعظم تک شکایت لگائی۔ خان صاحب نے بلایا نئے تنازعے کی وجہ پوچھی، انہیں یاد دلایا کہ یہ وہی جگہ ہے۔ خان صاحب نے ایم ایس کو بلا کر کہا کہ ان کو پیغام دو کہ یہ تو قبضہ چھڑوا رہا ہے اور آپ میرے پاس آکر کہتے ہیں کہ قبضہ کرنا چاہتا ہے۔ خان صاحب نے پوچھا عوام کی زمین تو چھڑوا لیں گے یہ منصوبے کہیں اور نہیں لے جاسکتے تاکہ تاخیر کا شکار نہ ہوں؟ میں نے کہا سر اتنے عرصے میں میں فوج کا قبضہ نہیں چھڑوا سکا یہ منصوبے اتنے بڑے ہیں کہ عوام خود قبضہ چھڑوا لے گی، لیٹ می ہینڈل دس۔ خان صاحب نے کہا پہلے ہی سستی سڑکوں اور احتساب کے عمل پر حالات ٹھیک نہیں، شہزاد اکبر کو کہا ہے کہ وہ آپ کے بھیجے کیسسز پرسیو کرے لیکن ”چوز یور بیٹلز کیرفلی، یو ہیو مینی فائٹس“۔
بلآخر ہم تمام کیسز جیت گئے اور افتتاح کااعلان ہوا۔ ڈی جی سی نے پیغام دیا کہ کرسکتے ہو تو کرلو یہ افتتاح تب افتتاح سے قبل اسی جگہ عوام کو مجتمع کیا۔ منصوبہ روکنا ممکن نہیں تھا تو نیا پینترہ اختیار کیا گیا، ایف ڈبلیو او نے بغیر ٹینڈر کے منصوبے کا ٹھیکہ اٹھانے کی خواہش کا اظہار کیا۔ کور کمانڈر سے لے کر اعلی حکام تک نے سی ایم اور متعلقہ محکموں سے رابطے کیے، مجھ سے ڈی جی ایف ڈبلیو او نے ملاقات کا وقت مانگا۔ ملے تو کہنے لگے مبارک ہو بہت بڑے منصوبے ہیں ”مل کر اچھا سا پی سی ون بناتے ہیں اور بسم اللہ کرتے ہیں“۔ میں نے جواب دیا پی سی ون سے آپ کا یا میرا کیا لینا دینا؟ متعلقہ محکمے ہیں، افسران ہیں، پھر پلاننگ ہے، پی ڈی ڈبلیو پی ہے، پھر اشتہار، ٹینڈر، بڈنگ کا پراسس۔۔ کہنے لگا نہیں معیاری اور جلدی کام کے لیے ضروری ہے کہ ہم بیٹھ جائیں۔ ہم نے ان کی آفر مسترد کر دی اور بڈنگ کے بعد ۲۰۲۱ میں منصوبے کا آغاز ہوا۔کل اس منصوبے کا افتتاح ہوا۔ جو کہ ایک لمبی جدوجہد کی تاریخ رکھتی ہے۔
بات چھڑی تھی تختیوں سے، تختیاں اتارنے اور تختیوں پر عمران خان کا نام لکھنے نا لکھنے سے عمران خان مائنس نہیں ہوتا۔ عمران خان مائنس ہوتا ہے یہ ماننے سے کہ عمران خان ایک فرد ہے جس سے رابطے کے زرائع ختم کرکے اس کے دیے گئے نظریے اور سوچ کو مفلوج کیا جاسکتا ہے، اس تاثر کو تقویت دینے میں ہم اپنے قول و فعل سے کس قدر سہولت کاری کررہے ہیں اس پر غور کریں۔
باقی نہ عمران خان کا نام تختیوں کا محتاج ہے نہ عمران خان کے بغیر کسی تختی پر اپنا نام لکھوا کر میں امر ہوسکتا ہوں۔ نہ مجھ اس تختی معاملے کا علم تھا نہ میرا وزیر اعلی سے کوئی رابطہ باقی ہے۔ مذکورہ پراجیکٹ عمران خان کے دور کا ایک ایسا پراجیکٹ تھا جس کو ممکن بنانے کے لیے ہم نے ملٹری مافیہ سے ایک طویل جنگ لڑی تھی مجھے خوشی ہوتی اگر اس منصوبے کا افتتاح بھی اس جدوجہد کے شایان شان ہوتا؛ عمران خان کی رہائی کے لیے عملی اور مثالی جدوجہد ہورہی ہوتی، ڈرون حملوں کے خلاف بڑے قلعوں کے سامنے پولیس گرفتاری کے آرڈرز کے ساتھ موجود ہوتی، آپریشن روکنے کے لیے ہم ہر آئینی، قانونی اور عوامی محاذ پر کوشاں ہوتے۔ مگر افسوس۔
@ShafiJanPTI کے پی کے حکومت نے سب سے۔ پہلے عوام اور خان کے نظریہ سے غداری کی ہیے آپ بھی چوروں کی طرح اپنے کے وی آئی پی پاسپورٹ مانگتے ہو تو نون پیپلز پارٹی اور آپ میں کیا فرق رہیے گیا ہیے
🚨 علیمہ خان کی اہم ترین پکار: "عمران خان کی زندگی بچانے کے لیے اب خاموش رہنے کا وقت نہیں!"
ملک بھر کے غیرت مند پاکستانیوں اور انصاف پسند حلقوں کے لیے علیمہ خان کی جانب سے ایک انتہائی اہم اور ہنگامی اپیل:
📌 اہم ترین مطالبات اور اپیل کے بنیادی نکات:
عمران خان کی زندگی کا تحفظ: یہ جنگ اب صرف سیاست یا قانون کی نہیں رہی، بلکہ عمران خان کی زندگی اور سلامتی کی جنگ بن چکی ہے۔ اگر ہم نے آج آواز نہ اٹھائی تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔
سپریم کورٹ سے انصاف کی امید: ہم عدالتِ عظمیٰ کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ لیکن اگر سپریم کورٹ سے بھی انصاف نہ ملا اور مروجہ آئینی حقوق پامال کیے گئے، تو پرامن احتجاج کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ باقی نہیں رہے گا۔
ملک گیر پرامن احتجاج کی کال: پاکستان تحریکِ انصاف (PTI) کے تمام عہدیداران، مخلص کارکنان اور عام عوام سے دردمندانہ اپیل ہے کہ وہ اپنے لیڈر کے بنیادی انسانی حقوق اور ان کی زندگی کے تحفظ کے لیے پرامن انداز میں سڑکوں پر نکلیں۔
"گھروں سے باہر نکلیں، اپنے حقوق کی حفاظت کریں اور ناانصافی کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جائیں۔ سچائی اور قانون کی بالادستی کے لیے عوام کی طاقت ہی آخری امید ہے!"
گرفتاری سے قبل عمران خان کا قوم کے نام وہ تاریخی پیغام جو ہر پاکستانی کے دل کی آواز ہے!🚨
حقیقی آزادی: آزادی کبھی پلیٹ میں رکھ کر نہیں ملتی، زنجیریں خود نہیں گرتیں بلکہ انہیں توڑنا پڑتا ہے!
جدوجہد کا مقصد: یہ جنگ میری ذات کی نہیں، آپ کے بچوں کے مستقبل اور نسلوں کی بقا کی جنگ ہے۔
لا الہ الا اللہ کا نظریہ: کلمہ حق ہمیں انسانوں کی غلامی سے نجات دلا کر صرف ایک خدا کے سامنے جھکنا سکھاتا ہے۔
آخری حد تک پرامن جدوجہد: جب تک ووٹ کے ذریعے اپنی حکومت منتخب کرنے کا بنیادی حق نہیں مل جاتا، پرامن احتجاج جاری رکھیں۔
ملک کو کسی "قبضہ گروپ" کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ اب نہیں تو کب؟