اگر نسیم شاہ پی ایس ایل سے کسی بھی وجہ سے ڈراپ ہوتا ہے تو اس کے سب سے بڑے سپانسر کیساتھ وہ کیا جاوے گا جو فوجی مصنوعات کیساتھ کیا گیا تھا۔ سپانسر کرنے والا بنک نوٹ فرمالے۔ شکریہ۔
”ہر پاکستانی کو حمود الرحمان کمیشن رپورٹ کا مطالعہ کرنا اور یہ جاننا چاہئیے کہ اصل غدار تھا کون؛ جنرل یحیٰ خان یا شیخ مجیب الرحمٰن“ عمران خان
#غدار_کون_تھا
@AzizkhanISF Inko apni party worker ke khilaaf istimaal nai hona chaeye.. Orr ye ho rahy hn.. in ma noon ghunno ma fark khatm hota ja raha hy.. tanqeed ko ana ka masla bna rahy hn.. shukr hy SM hy warna ye KP k leye kb ka IK qurban kr chuky hoty.. bndy ye nai smbhal sakty or pno py attk kty
@AzizkhanISF Full toss py full toss deye ja rahy hn.. Har move IK or Family k khilaaf krty ja rahy hn.. shoro ma no doubt resistance ke hy lekin khamosh tahreek ho sakti the inko Ulta letny ko kiss my kaha hy..?? Yahi Haal raha to gamdapur or chamchy pori tehreek ka Satya naas kr lengy
@AzizkhanISF Party or tehreek dono chal sakti hy chahy wo Balochistan sy kio na ho... Soby k pass wasail or machinery dono hn.. Aleema Khan sy party head bnny py ekhtilaaf ho sakta hy.. lekin KP soba kio lait gaya pora.. Jb k wifaaq ma bndy or pory soby k numaindagi dono hn..??
امریکی صدر ٹرمپ نے رات گئے ٹویٹ کرکے بتایا کہ روس کے سمندری علاقے میں شدید زلزلے کے بعد سونامی آرہا ہے جس کی زد میں امریکی ریاستیں الاسکا اور ہوائی بھی آسکتی ہیں۔ ٹرمپ نے تمام شہریوں کو الرٹ اور مضبوط رہنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ہر ممکن اقدامات کرے گی جس سے شہریوں کا نقصان کم سے کم ہو۔
یہ ٹویٹ پڑھ کر مجھے ایک ریاست کی حرامزادی فوج یاد آگئی جس کے ترجمان نے دن کے وقت اعلان کیا تھا کہ عوام اطمیان رکھیں، فوج آپ پر گولی نہیں چلائے گی اور پھر رات ہوتے ہی سنائپرز کے ذریعے درجنوں معصوم شہریوں کو شہید کردیا کیونکہ وہ ایک ریلی میں شریک تھے!!!
“سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں وکلا اور میڈیا سے گفتگو:
“مذاکرات کے حوالے سے غیرسنجیدگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ مذاکراتی کمیٹی سے میری میٹنگ تک نہیں کروائی گئی- ایسا لگتا ہے جیسے مذاکرات کا مقصد صرف اور صرف وقت کا ضیاع ہے تاکہ 26 نومبر کے اسلام آباد قتل عام پر عوامی ری ایکشن کو کم کیا جا سکے -
26 نومبر کو پرامن شہریوں کا قتل عام کیا گیا ، انکو سیدھی گولیاں مار کر ڈی چوک میں خون سے نہلایا گیا، ہمارے کئی افراد اب تک لاپتہ ہیں ۔ کسی بھی مہذب معاشرے میں ایسا واقعہ ہونے کے بعد گولیاں چلانے والے اپنے انجام کو پہنچ چکے ہوتے لیکن یہ حکومت ابھی تک ایک جوڈیشل کمیشن کی تشکیل نہیں کر پائی- جوڈیشل کمیشن کی حیثیت تھرڈ امپائر کی ہوتی ہے اور صرف ایک غیرجانبدار کمیشن ہی 26 نومبر اور 9 مئی کے شہدا کو انصاف دلوا سکتا ہے اگر اس قتل عام کو دبا دیا گیا تو پاکستان میں کسی کا جان و مال محفوظ نہیں ہو گا-
میرا واضح پیغام ہے کہ اگر مذاکراتی عمل کو لے کر حکومت یونہی غیر سنجیدہ رہی اور جوڈیشل کمیشن نہ بنایا تو مذاکرات کو اگلی میٹنگ کے بعد روک دیا جائے۔
نو مئی کا فالس فلیگ آپریشن بھی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے ہی کیا گیا تھا۔ اس روز چوکیوں سے فوج اور پولیس ہٹا کر خود ہی آگ لگائی گئی اور سی سی ٹی وی فوٹیج بھی چرا لی گئی ۔ ہم ان دونوں واقعات کی شفاف تحقیقات چاہتے ہیں ۔ ہم نے اس سلسلے میں بارہا سپریم کورٹ سے بھی مطالبہ کیا ہے۔
تین سال سے اس ملک میں آئین و قانون اور انسانی حقوق کی پامالی جاری ہے ۔ لوگوں کے گھروں کا تقدس پامال کر کہ ان کو اغوا کیا جا رہا ہے ، تشدد اور جبر کیا جا رہا ،انکے گھر اور کاروبار تباہ کیے گئے، ہمارے ہر ٹکٹ ہولڈر کے لیے انکے حلقوں میں زندگی تنگ کر دی گئی ۔ میرا اپنا گھر دو مرتبہ توڑا گیا ۔ ہم نے اس سلسلے میں لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا ۔ یہ کیس جسٹس باقر نجفی کی سربراہی میں پانچ ججز نے سنا مگر ڈیڑھ سال سے اسکا فیصلہ محفوظ ہے اور سنایا نہیں گیا ۔ پھر ہم نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں جسٹس عامر فاروق اور سپریم کورٹ میں قاضی سے بھی رجوع کیا لیکن ان دونوں نے ہی اسٹیبلشمنٹ کے opening batsman کا کردار ادا کیا ۔
ہمارے جو بے قصور لوگ ملٹری تحویل میں رہے ان پر شدید ترین ذہنی اور جسمانی تشدد کیا گیا۔ میری اطلاع کے مطابق 3 لڑکوں نے دوران حراست خود کشی کی کوشش کی ۔ سمیع وزیر کی حالت اس تشدد کا منہ بولتا ثبوت ہے۔اس سے پہلے جو کچھ تحریک انصاف کے رہنماؤں شہباز گل ، اعظم سواتی سیمت دیگر کے ساتھ کیا گیا وہ بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں، ظلِ شاہ کو بے دردی سے قتل کیا گیا ، انتظار پنجھوتہ سے جانوروں کی طرح سلوک کیا گیا۔ یہ کونسا اصول ہے کہ جو تحریک انصاف چھوڑ دے وہ 9 مئی کے الزام سے بری ہے اور جو نہ چھوڑے اس پر ہر قسم کا تشدد اور دباو جائز ہے؟
ہمیں پاکستانی نظام عدل سے بار بار رجوع کرنے کے باوجود بھی انصاف نہیں مل سکا جسکے بعد ہمارے پاس بین الاقوامی فورمز پر آواز اٹھانے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچا ۔ پاکستان کی حکومت انسانی حقوق کو لے کر بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کی پابند ہے میں نے وکلا کو ہدایت کی ہے ان معاملات کو عالمی فورمز پر اٹھایا جائے اور پاکستان میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر اپنی آواز دنیا تک پہنچائی جائے ۔
میرا اوور سیز پاکستانیوں کو بھی یہی پیغام ہے کہ پاکستان میں جمہوریت اور انسانی حقوق کا خاتمہ کر کہ جنگل کا قانون نافذ کر دیا گیا ہے اسلیے آپ کی جانب سے ترسیلات زر کا بائیکاٹ بہت اہم ہے ۔ پاکستان میں مقیم آپ کے پیاروں کو بھی وہی حقوق حاصل ہونے چاہئیں جو آپ کو بیرون ممالک میں حاصل ہیں-
جب تمام ایجنسیوں کو ایک سیاسی جماعت کو کچلنے پر لگا دیا جائے گا پھر دہشتگردوں سے کون لڑے گا ؟ یہی ریمارکس سپریم کورٹ کے ججز جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس مندوخیل نے بھی دیے کہ خفیہ اداروں کو سیاسی انجینئرنگ پر لگا دیا گیا ہے ۔ جھوٹ بول کر ہماری حکومت پر طالبان کی آبادکاری کا الزام لگایا گیا ۔ ہماری حکومت کے دوران بلکہ حکومت خاتمے کے ایک سال بعد تک بھی دہشتگردی نے سر نہیں اٹھایا تھا یہ سب کچھ انھی کا قصور ہے جو بلوچستان کے حالات کے ذمہ دار ہیں ۔
ان سب تجربات کی بدولت پاکستان میں معیشت کا حال بدترین ہے۔ ورلڈ بینک کی حالیہ رپورٹ کے مطابق مزید 1 کروڑ 30 لاکھ افراد غربت کی لکیر سے نیچے جا چکے ہیں ۔ عدلیہ ، نیب ، ایف آئی اے ، پولیس سمیت ہر ادارہ تحریک انصاف کے پیچھے لگا دیا گیا ہے جسکی وجہ سے ملک کا سیاسی اور معاشی نظام درہم برہم ہے اور عدم استحکام عروج پر ہے۔جب تک سیاسی عدم استحکام رہے گا گروتھ ریٹ صفر ہو گا 1/2
آج ماہ رنگ کا درد ہر پنجابی کو محسوس ہو گا
ماہ رنگ سیکورٹی اداروں سے التجاء کر رہی تھی کہ ہمارے لوگ جو تم نے شہید کئے ہیں اُن کی لاشیں تو واپس کر دو۰
لیکن وہ لاشیں غائب کر رہے تھے کیونکہ وہ شہدا کی تعداد کم دکھانا چاہتے تھے
دورجہلیت:
جب آپ سو رہے ہوتے ہیں، وہ سرحدوں پر آپ کی حفاظت کررہے ہوتے ہیں
دور شعوریت:
جب آپ جان بچانے کیلئے لٹک رہے ہوتے ہیں تو یہ خود آپ کو دھکا دے کر آپ کی جان لیتے ہیں ۔ ۔ ۔