آل سعود سے لاکھ اختلاف لیکن سب سے بڑا کارنامہ ہی اہل سعود کا یہ ہے کہ انہوں نے اسلام کی اصل شکل کو برقرار رکھا۔ کوئی شرک کوئی بدعت کوئی نذرانے اس پاک اور معطر سرزمین پر نہیں پیدا ہونے دیئے۔ ورنہ خدانخواستہ ہمارے برصغیری انڈیا پاکستان یا ایران کے زیر کنٹرول ہوتا تو ہم یہاں وہ وہ مناظر دیکھتے جو علی ہجویری کے دربار کے باہر ہوتا ہے ،جو بابا فرید کے دربار کے باہر ہوتا ہے۔ دروازے پر پنجاب پولیس لوگوں کو مار رہی ہوتی ۔ دھاگے بندھے ہوئے ، موتی لٹکے ہوئے دیگیں پکتی ہوئی، چادریں چڑھتی ہوئی، شاہ دولے باہر جھمگٹا لگائے ہوئے، منتیں مانگنے والے زمین پر رینگنتے ہوئے۔ غیر اللہ کے نام پر کھانے بٹتے ہوئے۔ میلے کچیلے لوگ باہر ریڑیاں لگائے ہوئے۔۔ نعوذ باللہ ثم نعوذ باللہ دور پرے باہر گندے بدبودار صدیوں سے نہ نہائے ہوئے ملنگ صوفیانہ کلام میوزیل انسٹرومنٹ کے ساتھ گا رہے ہوتے۔
یہ واقعی آل سعود کا بڑا کام ہے۔ اللہ اور ان کے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ان سے راضی ہوں۔ اور انہیں ہی ہمیشہ حرمین شریفین کا محافظ رکھے ۔ آمین ثم آمین
اب سمجھ آئ کہ بلوچستان میں امن کیوں نہی آتا؟ فوج کس طرح معدینیات چوری کرتی ہے؟
بجاۓ مقامی سطح پر پروسسنگ پلانٹس لگانے کے یہ خام حالت میں ہی اسے بیچ دیتے ہیں۔ جس سے کروڑوں اربوں کا نقصان ہوتا ہے۔ نا ملک کو کوئ فائدہ پہنچتا ہے اور نا ہی مقامی آبادی کو۔
اس بے لگام ادارے کی از سر نو تعمیر نہایت ضروری ہے ورنہ یہ جرنیل اس ملک کو نوچ نوچ کر ہڈیوں کا گودہ تک کھا جائیں گے۔
لاہور کی متحرک کارکن @IramZahraPTI جسے
ابھی چادر چار دیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے اس کے گھر سے نامعلوم افراد نے ارم کے ساتھ اس کی والدہ اور اس کے بھانجے کو اغواء کر لیا گیا ہے۔۔
11 سالہ حمیرا بی بی جو اسلام آباد میں ایک بیوروکریٹ کے بنگلے پر صرف 15 ہزار روپے ماہانہ پر 24 گھنٹے کی ملازمہ تھی۔ کہتے ہیں غربت بچپن نگل جاتی ہے اور حمیرا کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ وہ جس بنگلے پر جھاڑو پوچا کرتی تھی وہاں سے لاپتہ ہوئے دو برس بیت چکے ہیں، بچی زندہ ہے یا مردہ، اس کے والدین آج تک بے خبر ہیں۔ جس روز وہ لاپتہ ہوئی اسی روز مالکان نے اس پر 6 تولہ سونا اور 3 لاکھ کیش چوری کا مقدمہ درج کرا دیا، جبکہ ورثاء نے بڑی تگ و دو کے بعد اسی تھانے میں مالکان کے خلاف اغواء کا مقدمہ درج کروایا، لیکن دو برس گزرنے کے باوجود پولیس کیس سلجھانے میں ناکام ہے اور حمیرا تاحال بازیاب نہ ہو سکی۔ حمیرا کی والدہ اور بھائی تفصیل بتا رہے ہیں
The tyrannical crooks in charge of Pakistan continue to dismantle democracy, now arresting the elected chief minister of KPK.
The world must see what’s happening. Repeated disgraceful and cowardly acts from Munir to stifle the voice of the people to cling onto power.
Disgraceful .
Previous govt? Bibi who are you? Who elected you?
@PTIofficial is still the legitimate government, the people of KP voted for them.
You crooks, with non-democratic forces, just occupied provincial offices.
In any real democracy the courts would’ve thrown you out in hours.
Now, as Pakistanis have taken to the streets to protest my father’s release, Asim Munir’s regime imposes emergency rule in Khyber Pakhtunkhwa (my father’s political stronghold).
Having failed to secure Balochistan or Azad Kashmir, Munir once again invokes terrorism to justify another military operation in Pashtun lands. Yet again sacrificing lives in an attempt to cling on to power.
Khyber Pakhtunkhwa’s democratic mandate must be restored. My father, our detained family members, PTI representatives and all political prisoners must be released immediately. The people’s right to peaceful protest must be respected.
Pakistan belongs to its people, not its military.
محترم حامد میر صاحب اب کچھ لوگوں کی ترجیح اقتدار تک پہنچنا ہے تو وہ سمجھوتے کرینگے اور کررہے ہیں۔ ان کا اب ماضی کی غلطیوں اور جمہوریت سے کوئی لینا دینا نہیں،آپ نے محترم شہباز شریف صاحب کا میڈیا آزادی سے متعلق پرانا انٹرویو چلایا لیکن کیا اس کا کوئی اثر ہوا؟ بلکل بھی نہیں۔ میڈیا کا کیا حال کردیا گیا ہے؟ وزیراعلی سہیل آفریدی حراست میں لینے کے بعد غائب کردئے گئے تھے تو کس میڈیا نے گھنٹوں تک خبر دی؟ کسی نے بھی نہیں۔ رات کو وزیر اطلاعات نے کہا کہ حفاظتی تحویل میں ہیں۔ آپ کے ادارے سمیت تمام میڈیا نے بھی کمپرومائز کرلیاہے، کوئی معمولی آزادی کے لئے بھی آواز نہیں اٹھا سکتا۔ مارشل لاز بھی لگے ہیں لیکن گرفتار رہنماؤں کا معلوم تو ہوتا کہ لیڈران جیل میں ہیں، گھروں میں نظر بند یا اٹک قلعہ میں، اب تو خیر خیریت ہے۔
جو جو خیبر پختونخواہ میں ایمرجنسی کی حمایت کر رہا ہے سمجھ لیجئیے یا تو وہ آئین کے غداروں اور مینڈیٹ چوروں کا سہولتکار ہے، مددگار ہے، بینیفیشری ہے یا ایمرجنسی کے نفاذ سے اُس کے مفادات جڑے ہیں۔
These haramkhors have removed the only government that came to power through legitimate votes. This country is nothing but a mockery of democracy. May everyone who is part of this illegal government rot in hell
یہ بھلا کیا بات ہوئی؟ عاکف خان کو کیوں جانے دیا سہیل خان آفریدی نے؟ خود کیوں نہیں گئے؟ 12 ارب کا گلف سٹریم جہاز بک کراتے ،ساتھ بیوی بچے لے کر جاتے، واہ واہ آفریدی کے لیے چار پانچ کنیزیں بھی ہمراہ رکھتے۔
اس سب کے بنا یہ پھیکا ایوارڈ بھلا کس کام کا😁
Pakistan's finest cricketer and one of the game's all-round greats, he led the country to World Cup glory in 1992 🏆
The legendary Imran Khan turns 74 today
ہم پاکستان کی سب سے بڑی اور سب سے مقبول سیاسی جماعت ہیں۔ پاکستان ایک جمہوری ملک ہے، جس کا آئین ہمیں پُرامن احتجاج کا حق دیتا ہے۔
4 اکتوبر کو گنڈی چوک، لکی مروت سے عوام کا سمندر اپنا سفر شروع کرے گا اور پاکستان میں آئین و قانون کی بالادستی اور آزاد عدلیہ کی بحالی تک اپنی جدوجہد جاری رکھے گا۔
تحریکِ انصاف کے تمام مطالبات آئین اور قانون کے مطابق ہیں۔ اس سے پہلے گیدڑوں کو ہر طرح سے غیر قانونی طور پر فیسلیٹیٹ کیا گیا، لیکن ایک لیڈر سے خوف اتنا ہے کہ اسے اور اس کے اہل خانہ اور ورکرز کو جائز قانونی حقوق بھی نہیں دیے جا رہے۔
پاکستان پر جن لوگوں کا زبردستی قبضہ قائم رکھوایا ہوا ہے، وہ چاہتے ہیں کہ خدانخواستہ ہمارا پاکستان ٹوٹ جائے۔ جن کو ہندوستان سے خطرہ نہیں، لیکن پاکستانی عوام سے خطرہ ہے- جنہوں نے ڈان لیکس کروائے، جنہوں نے میمو گیٹ اسکینڈل کیا، جنہوں نے ۵۳۰۰ ارب کی IMF سے تصدیق شدہ کرپشن کی، جنہوں نے فوج کے بارے میں کہا کہ انہوں نے ہماری ہڈیاں تک کھا لی ہیں، جنہوں نے پاکستان پر دوبارہ دہشت گردی مسلط کی، جن کا جعلی وزیرِ اعظم کسی شہید کے جنازے میں نہیں گیا، جن کا بھگوڑا قائد اور اس کی بیٹی انڈیا سے جنگ کے دوران خاموش رہے، جن کی پوری جماعت پاکستان کے پختونوں کو دہشت گرد کہتی ہے، اور جنہوں نے پاکستان کو تباہی کی طرف دھکیل دیا ہے، وہ اپنے اقتدار کو بچانے کے لیے پاکستان میں آگ لگا رہے ہیں۔
دہشت گردی خیبر پختونخوا اور پاکستان کے عوام کے لیے کسی “بیانیے کی جنگ” نہیں ہے، اس سے ہر شہری متاثر ہے- عمران خان نے ہمیشہ کہا ہے کہ اپنے ہی لوگوں پر ملٹری آپریشنز کرنا اور انہیں بےگھر کرنا کسی مسئلے کا دیرپا حل نہیں ہے۔ ڈرون اٹیکس اور نام نہاد “کولیٹرل ڈیمج” سے دہشت گردی بڑھتی ہے۔ میں اس بات پر چٹان کی طرح قائم ہوں۔ آج خیبر پختونخوا میں یہ صرف PTI کا موقف نہیں رہا، بلکہ ہر سیاسی و مذہبی جماعت اور ہر مکتبۂ فکر سے تعلق رکھنے والے شخص کا یہی موقف ہے، جس کے دستخط صوبائی اسمبلی کے جرگے میں بطور ثبوت موجود ہیں۔
تحریک انصاف کی وفاقی حکومت میں پاکستان اور خیبرپختونخوا Terrorism نہیں Tourism کے لیے جانے جاتے تھے- رجیم چینج کے بعد دہشتگردی کو دوبارہ جان بوجھ کر خیبر پختونخوا پر مسلط کیا گیا۔ جب 2022 کی گرمیوں میں ہم نے آواز اُٹھائی تو آپ نے ہی ہمیں جھوٹا کہا، لیکن آج اُسی دہشت گردی کو بہانہ بنا کر معصوم پختونوں کا خون بہایا جا رہا ہے۔
جب میں کہتا ہوں کہ خیبر پختونخوا میں ۱۰۰ دن کے اندر امن آ سکتا ہے اور آپ نے صرف پالیسی میں تبدیلی لانی ہے، کیونکہ آپ کی موجودہ پالیسی کامیاب نہیں ہے، تو اُس بات پر عمل نہیں کیا جاتا۔ تو دہشت گردی کی سہولت کاری کون کر رہا ہے؟ ہمارے وزیروں اور کارکنوں کو اپنے “گُڈ” لاڈلوں کے ساتھ مل کر کون اُٹھا رہا ہے؟ ہمارا خریدا ہوا اسلحہ کون ہماری پولیس تک نہیں پہنچنے دے رہا؟ ہماری پولیس بغاوت کرنے پر کیوں مجبور ہو گئی ہے؟
بلوچستان اور وفاقی حکومت ایک پیج پر ہیں، پھر وہاں بھی امن کیوں نہیں آ رہا؟ دہشت گردی میں پاکستان پہلی بار پہلے نمبر پر کیوں آ گیا ہے؟ کیونکہ خود کو عقلِ کل سمجھنے والے پہلے بھی غلط تھے، آج بھی غلط ہیں، اور جب تک اپنی پالیسیاں تبدیل نہیں کرتے، تب تک غلط ہی رہیں گے۔
باقی، ہم ۹ مئی کو دوبارہ نہ ہونے دیں گے اور نہ ہی کسی کو ایسا کرنے دیں گے۔ جس نے CCTV فوٹیجز چُرائیں، اُسی نے ۹ مئی کروایا۔
4 اکتوبر، گنڈی چوک، دن ایک بجے۔ سب پاکستانی یاد رکھیں !!
💔🥹 .... I feel so small and selfish in front of these exemplary role models for women. These are the type of women we need for our country and ummah . I love them so so much. May Allah have mercy on Pakistan 🙏 😢
عمران خان کو جیل میں بند کرنے سے کیا ہوا۔۔
یہ ہوا کہ فوج ٹویٹس تک اپنے اکاونٹس سے ریپلائز بند کر کے کرتی ہے۔
یہ ہوا کہ فوج نئے نغمے جاری کرنے پہ کمنٹس میں صرف لعنتیں وصول کرتی ہے۔
یہ ہوا کہ ان کے بنائے نغمے عوام نے سننے چھوڑ دیے ۔
یہ ہوا کہ فوج اپنے سپاہیوں کی اموات تک چھپانے لگ گئے۔
یہ ہوا کہ فوج سڑک کے رستے کوئٹہ تک نہیں پہنچ سکتی۔
یہ ہوا کہ فوج خنجراب سے لے گوادر تک ناکام ہے ۔
فوج سٹیٹ بنک میں ناکام ،فارن آفس میں ناکام ،واہگہ پہ ناکام طور خم پہ ناکام۔
اور عوام کی نظروں میں بھی ناکام اور ذلیل ہو گئی ہے۔
حکومت نے ایس سی او سربرا ہ اجلاس کیلئے 45 بلٹ پروف گاڑیاں خریدنے کا فیصلہ کیا ہے ۔۔ خبر
مزے کی بات ہے ان 45 بلٹ پروف گاڑیوں پر آئی ایم ایف کانوں سے بہرہ اور آنکھوں سے اندھا ہو جائے گا لیکن جیسے ہی حکومت دو وقت کی روٹی سے تنگ عوام کو ایک روپے کی بھی سبسڈی دے گی تو اسی آئی ایم ایف کے دل کے دورے پڑنے لگیں گے ۔ ہمیں تو آئی ایم ایف بھی فارم سنتالیس والا ملا ہے