نارووال سے اسکول یونیفارم میں بظاہر گم ہونے والا اسد ایک شیلٹر میں مبینہ طور پر قید رہا ۔ بچپن چار دیواری میں گزار کر جب جوان ہوا تو شیلٹر نے نکال دیا۔ گونگا اور بہرا اسد در در ٹھوکریں کھاتا تھا۔ ایک دوکاندار نے ترس کھاکر اپنے پاس رکھ لیا۔ سترہ سال تک ماں باپ نے بیٹے کی جدائی میں کتنی تکلیفیں کاٹی سن کر آپ کانپ جائیں گے۔
مکمل ویڈیو یوٹیوب چینلپر دیکھیں اور ضرور شئیر کریں.
#waliullahmaroof #asadcase #Narowal #Missingperson #punjab #pakistan
اسد کو والدین نے سماعت و گویائی سے محروم بچوں کے اسکول میں داخل کیا تھا۔ تیسری کلاس میں تھا۔
ایک دن اسکول یونیفارم اور اسکول بیگ سمیت آتے ہوئے لاپتہ ہوا تھا۔
اسد کو مبینہ طور پرُایک شیلٹر نے اٹھایا اور اپنے پاس رکھ لیا۔ نارووال سے شاید پہلے ملتان (کیونکہ اسد ملتان لکھ رہا تھا) لیکر گئے اور پھر لاہور لیجاکر رکھا۔
اسکا بچپنا کھالیا،اسکی تعلیم برباد کی،کوئی ہنر نہیں سکھایا ،ماں باپ کے سائے سے محروم رکھا۔
جب جوان ہوا اور (ناقابل ڈونیشن) ہوا تو اسکو بالغ قرار دیکر ادارے سے نکال دیا۔ کچھ دن سڑکوں پر دربدر گھومتا رہا پھر کسی نے اپنی شاپ میں رکھا وہاں کام کرتا اور رات کو سوتا۔
ہم جب اسد سے ملے تھے تو بہت مرجھایا ہوا ٹوٹا ہوا اور بکھرا ہوا تھا۔ جب خاندان ملا تو اسد کی جان میں جان آئی سینہ چوڑا ہوگیا تھا۔
کل جب گھر لیکر جارہے تھے تو جیسے جیسے علاقہ قریب آتا تو راستوں اور نہروں کو دیکھ کر اچلتا اور اشاروں میں کہتا کہ جب چھوٹا تھا تو یہ جگہیں میں نے دیکھی تھیں.
اب سوال یہ ہے کہ ظالموں اسکول یونیفارم میں ملے بچے کو اسکے گھر نہیں پہنچا سکتے تھے؟ اسکول کا نام واضح لکھا ہوا تھا ۔ اسکول لیجاتے وہاں سے پیرنٹس کو بلاکر بچہ حوالے کرتے۔
لیکن ظالموں تم لوگوں نے اسکے اپنے پیٹ کی آگ بڑھانے کے لیے اسے ایندھن بنایا اسکا سب کچھ تم نے چھین لیا۔والدین نے اپنی جمع پونجی لگائی۔بچے کے سترہ سال ضائع ہوگئے۔
ان شاءاللہ تم اس ظلم کا حساب دونوں جہانوں میں دوگے۔تم انسانیت کے دشمن ہو تم ظالم ہو۔
ماں نے جب اسد کو دیکھا تو پاگلوں کی طرح گلے لگ کر روتی رہی۔
ان شاءاللہ مکمل تفصیلی ویڈیو جلد آپ تک پہنچے گی۔
#waliullahmaroof #missingpersons #pakistan
🚨یہ پشاور بی ار ٹی اسٹیشن کی ایک نایاب ویڈیو ہے۔ایک مزدور باپ اپنے بچے کو اسکول چھوڑتے وقت بس کے انتظار کے دوران اپنے بچے کے بوٹ اپنے کمیض سے صاف کر رہا ہے۔
“ ناپاک معاشرہ “
راولپنڈی 14 ماہ کے بچے کی لاش کیساتھ بیٹھی ماں،جس کا ریپ ہوا،بچے کو تشدد کرکے مارا گیا. تھانہ چونترہ کی حدود میں سفاک شخص کے ہاتھوں چاقو کے وار سے شدید زخمی ہونے والی خاتون نسیم بی بی ہسپتال میں دم توڑ گئیں__
اگر آپ اس شیطان صفت معاشرے میں رہتے ہوئے ایسے ظلم کو روک سکتے ہیں اور نہیں روک رہے، اس کے کیخلاف بول سکتے ہیں اور بول نہیں رہے، آپ اس برائی اور گناہ کے مذمت بھی نہیں کر رہے تو پھر “کلمہ پڑھ لیں” __ لعنت ہے ایسے معاشرے پہ لعنت ہے ایسی انسانیت پہ لعنت ہے ایسے قانون پہ اور لعنت ہے ایسے انصاف پہ __
جب یہ عزت لٹی ہوئی ماں اپنے ۱۴ ماہ کے بچے کیساتھ اللّہ پاک کے حضور پیش ہوگی تو اللّہ پاک کے جلال اور قہر سے اس پاک سر زمین اور اس میں بسنے والی عالیشان قوم کو اللّہ پاک کے عذاب سے کون بچا سکے گا؟؟؟؟
گزشتہ امتوں کی انتہا سے ڈر نہیں لگتا
یہ کیسے لوگ ہیں جن کو خدا سے ڈر نہیں لگتا
😢💔
آج یکم اگست ہے ۔۔ یہ بچہ ایک اگست 2024 کو پاکستان ریلوے پولیس کو لودھراں ٹرین اسٹیشن پر لاوارث حالت میں ملا تھا۔
آج دو سال ہوگئے اسکو لاوارث ہوئے۔
بچہ بہت ننھا سا تھا بات نہیں کرسکتا تھا۔ ورثاء کو ڈھونڈنے کی بہت کوششیں کی گئی ہیں۔ ہم نے بھی دو بار پوسٹ لگائی تھی لیکن گھر والوں کا کوئی سراغ نہیں ملا۔
بچے کو ایک سرکاری شیلٹر میں دے دیا گیا تھا۔
راتوں کو بچہ اٹھ کر زور زور سے روتا تھا۔ ماں کی آغوش میں جس بچے کو ہونا چاہئے تھا وہ شیلٹر میں ہے۔ راتوں کو اٹھ کر کمرے سے باہر نکل کر دیکھتا کہ شاید امی سوئی ہوئی ہوگی انکے پاس سر رکھ کر سوجائےگا۔ لیکن آج تین سال مکمل ہوگئے کسی نے اس کے لئے رابطہ نہیں کیا۔
بائیں طرف پرانی تصویر ہے اور دائیں طرف حالیہ
برائے مہربانی انسانی فریضہ سمجھ کر اس پوسٹ کو پاکستان کی گلی گلی میں عام کریں۔ جس کونے میں بھی والدین موجود ہوں ان تک ہماری پوسٹ پہنچ جائے۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
+923162529829
1 Aug 2026
#waliullahmaroof
کراچی شفیق کالونی کا ایک کاکروچ دو دن پہلے اس نالے میں گرنے والے اپنے کاکروچ بچے کو تلاش کرنے کی ناکام کوشش کر رہا ہے، حشرات الارض جیسی زندگی بسر کرتے کروڑوں پاکستانی کاکروچوں کا کرب اس ایک کاکروچ کے چہرے پہ دیکھا جاسکتا ہے
لاہور سے فرسٹ ائیر کے طالبعلم کو گاڑی کچل گئی جس باعث کولہے کی ہڈی ٹوٹ چکی ہے
سرکاری ہسپتال میں ابتدائی علاج بعد لمبی تاریخ دے دی لیکن درد اور انفیکشن تیزی سے پھیل رہا ہے جس باعث پرائیویٹ ہسپتال میں سرجری ہونی ہے ۔
سرجری لیے مزید 90 ہزار درکار ہیں ہم سب مل کر تعاون کر دیں تو ہونہار طالب علم اور مزدور باپ کا واحد سہارا عمر بھر کی معذوری سے بچ جائے گا
واللہ یہ شرم و حیا کی پیکر اور پاک دامن لڑکی ہے اللہ تعالی اس کا شرم بھرم قائم رکھے اور نظر بد سے محفوظ رکھے
اللہ کریم تمام بیٹیوں کے نصیب اچھے فرمائیں آمین ثم آمین۔۔۔۔