مبینہ ریپ والے معاملے میں مجھے معاملے کی سنگین�� کا پہلا اندازہ وزیر تعلیم کے موقع پر دیئے گئے بیان سے ہوا کہ واقعی طلبہ کے الزامات کی آزادانہ تحقیقات ہونی چاہیئں۔ دوسرا بیان گورنر پنجاب کا تھا۔ پھر جب جھوٹ بولنے والی مشین کو سنا تو دال میں مزید کچھ کالا محسوس ہوا۔ اس سب کا حل یہ تھا کہ حکومت ایک آزادانہ جو ڈیشل یا پارلیمانی کمیشن بنا کر تحقیات کرواتی مگر حکومت نے ڈنڈہ اٹھایا اور احتجاج کرنے والے معصوم بچوں کے سر پھوڑ دیئے۔ درجنوں بچے لہولہان ہو چکے ہیں اور اب حکومت انہیں سیاسی مخالف قرار دے رہی ہے۔ خون پینے والے نالائقوں کو مسلط کرنے کا یہی انجام ہوتا ہے۔
ٹوئٹر ریفرنڈم!!
عمران خان کو رہا کرو، کتنے پاکستا��ی اس بات کے ساتھ کھڑے ہیں ؟؟
اس ٹویٹ پر آنے والی " ریٹویٹ " سے اندازہ ہو جائے گا۔
#کپتان_سے_ناانصافی_نامنظور
اب تو امریکی مراسلے کی سٹوری سے ارشد شریف کے سوال کہ #وہ_��ون_تھا کا تصدیق شدہ جواب مل گیا ہے
ارشد شریف تم سچے تھے
اللہ تعالیٰ تمہیں کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے
اس کو کہتے ہیں عوام کی طاقت ۔ جج دلاءور دفع ہوگیا۔ چھا گیا شایان اور اسکی ٹیم۔ مبارک ہو پاکستان۔ اسی طرح عاصم دجال منیر اور اسکے خصی جرنیل بھی بھاگیں گے۔ ہر فرد ہے ملت کے مقدر،کا ستارہ۔
ایک نظر اِدھر بھی۔۔
توشہ خانہ ریکارڈ کےمطابق نوازشریف28تحفےمفت گھر لےگئےجبکہ 10کروڑ مالیت کے58تحفےایسےاونےپونے داموں پر لئیےکہ مرسڈیزکار سوزوکی کار کی قیمت پر لےلی،ترکمانستانی کارپٹ75روپےمیں جبکہ قطری ولی عہد کا بریف کیس875روپےمیں لےلیا اور اہم بات یہ کہ اونے پونے داموں پر 12 گھڑیاں بھی لے جانے والے نوازشریف نے الیکشن کمیشن گوشواروں میں ایک تحفہ بھی ڈیکلئر نہیں کیا ہوا،اب اگر تحفے ڈیکلئر نہ کرنے پر عمران خان جیل میں تو نواشریف باہر کیوں ؟
مؤرخ لکھے گا کہ نواز شریف سے عدالت رسیدیں مانگتی رہی لیکن میاں صاحب اپنی ایک بھی رسید نہ پیش کر سکے۔
جبکہ عمران خان نے تمام ثبوت اور ٹیکس گوشوارے بھی عدالت کو دکھا دیے،
اور اپنے حق میں گواہ بھی پیش کرنے کی اجازت مانگی لیکن عدالت نے درخواست مسترد کر دی👇
https://t.co/KxBgIh0GeU
عاصم منیر کی آئی ایس آئی ہائی کمان سے ملاقات۔
گزشتہ روز، 3 اگست 2023 کو، آرمی چیف، عاصم منیر نے انٹر سروسز انٹیلی جنس آئی ایس آئی کے اعلیٰ افسران سے ڈی جی آئی سیکرٹریٹ آڈیٹوریم ہیڈکوارٹر ISI، اسلام آباد میں ملاقا�� کی۔ آرمی چیف عاصم منیر کی طرف سے مندرجہ ذیل نکات پر بات کی گئی۔ یاد،رہے کے عاصم منیر کو فوج میں عام طور پر 'The Deceiver' مطلب "دھوکے باز" کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ نام اس وقت سے پڑا جب وہ ایک نوجوان افسر تھے۔
1. عاصم منیر نے آئی ایس آئی کے افسران کو بتایا کہ پاکستان معدنیات اور قدرتی وسائل سے مالا مال ہے (جب سے انہوں نے غیر قانونی طور پر عہدہ سنبھالا ہے تب سے یہ بیانیہ ان کی باتوں کی بنیاد رہی ہے)۔ اس لیے پاکستانیوں کو مایوس ہونے کی ضرورت نہیں۔
عنقریب کھربوں ڈالر اچانک اس بیانیے میں نمودار ہوں گے جو پاکستان کے لوگوں میں امید پیدا کرنے یا انہیں بے وقوف بنانے کے لیے بنایا جائے گا۔ لیکن جناب "دھوکے باز" #چاچو_وسکی، ہمیں بتائیں کہ پاکستان کو خوشحال بنانے کے لیے اور کھربوں ڈالر مالیت کی معدنیات حاصل کرنے کے لیے ��پ کو کتنے سال ایکسٹینشن اور کک بیک کمیشن کی ضرورت پڑے گی؟
2. عاصم منیر نے اپنے خیالی پلاؤ کی وضاحت کرتے ہوئے افسران کو امید دلانے کی کوشش جاری رکھی اور کئی قرآنی آیات کی تلاوت کی جیسا کہ ضیاء الحق ذوالف��ار علی بھٹو کو پھانسی دلوانے کے بعد اپنے برسوں اقتدار میں دہا کرتے تھے۔ تاہم عاصم منیر کسی ٹھوس اقتصادی منصوبے یا ٹھوس اقتصادی اشاریوں کا ذکر کرنے میں ناکام رہے۔
ان کی تقریر نے صاف اشارہ دیا کہ وہ ملک میں عام انتخابات نہیں چاہتے اور آئی ایس آئی کو اس کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ انہوں نے عدلیہ کو بلیک میل کرنے اور باجوہ نظریے کے تسلسل کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔
3. اس نے اعلان کیا کہ عمران خان ایک انتشار پسند اور خود غرض شخص ہے جو پاکستان میں ناامیدی پھیلا رہا ہے!
اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان کے عوام عاصم منیر کو اس کا منہ توڑ جواب دیں اور عاصم منیر کو بتائیں کہ عمران خا�� ہی پاکستان کی واحد امید ہیں یا نہیں۔
عاصم منیر کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ عوام کی سوچ کیا ہے اور احمقوں کی جنت میں رہنے کے بجائے مہنگائی،
وغیرہ کے بارے میں پوچھیں۔ انہوں نے بھارتی انتخابات سے قبل ایک بار بھی بھارتی دھمکیوں یا ممکنہ جھوٹے سرجیکل اسٹرائیک کے بارے میں بات نہیں کی اور نا ہی راجناتھ سنگھ کی دھمکی یا ہندوستان سے ممکنہ ملی بھگت پر کوئی بات کی۔
4. دلچسپ بات یہ ہے کہ عاصم منیر نے 9 مئی اور اپنی شہدا کی داستان پر گفتگو نہیں کی جب کہ وہ خود اپنی تعریف در تعریف کے بہاؤ میں رہے۔ OTS کی احساس کمتری ان کے خطاب اور زبردستی اپنی تعریفوں میں واضح دکھائی دی۔ یہ جانتے ہوئے کہ آئی ایس آئی 9 مئی کے فالس فلیگ آپریشن کے بارے میں اچھی طرح جانتی تھی، #چاچو_وسکی نے شہدا اور 9 مئی کے بیانیے پر بات نہیں کی۔
5. عاصم۔منیر نے واضح کیا کہ لبرل پالیسیوں، آزادی صحافت، بنیادی انسانی حقوق اور جمہوریت کے خلاف کریک ڈاؤن جاری رہے گا کیونکہ تمام سیاست دان کرپٹ ہیں، اور وہ پاکستا�� میں واحد ایماندار آدمی ہے۔ یہ عاصم منیر کی آئی ایس آئی افسران کو دھوکہ دینے والی تقریر کا بین اسطور مطلب تھا اور یہ واضح تھا کہ انکا پی ٹی آئی اور عمران خان پر حملے کی طرز پر پاکستان کی تمام مرکزی سیاسی جماعتوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا مکمل ارادہ ہے۔
6۔ انہوں نے آئی ایس آئی کی گسٹاپو ٹائپ کارکردگی کو سراہا جس کارکردگی نے پاکستان کو دوبارہ پتھروں کے دور میں دھکیل دیا ہے۔
7. اس نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، اپنے ہی ہم وطنوں کے خلاف جنگ چھیڑنے، جبری گمشدگیوں اور آئین کی تنسیخ پر ڈی جی آئی کی تعریف تو کی مگر سروس میں توسیع پر کوئی بات نہیں کی۔ اس نے سامعین کو ڈرٹی ہیری اور اس کی ٹیم کی اسمگلنگ/بدعنوانی کے بارے میں خبردار/مطلع نہیں کیا۔
سامعین کیمطابق عاصم منیر کے خطاب کے دوران ڈی جی آئی اپنی مدت ملازمت میں توسیع کے اعلان کی توقع کر رہے تھے۔
مجھے امید ہے کہ یہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں نہیں آئے گا!
خلاصہ:
عاصم منیر کا خطاب لگ بھگ 20 منٹ پر مشتمل تھا جس میں انہوں نے جمہوریت سے نفرت کی تبلیغ کی، سیاستدانوں کی مذمت کی اور انہیں کرپٹ کہا۔ انہوں نے عمران خان کو انارکیسٹ بھی کہا۔
ضیاء الحق 2.0 بننا ان کے وژن کا حصہ ہے اور وہ اپنی حکمرانی کو جاری رکھنے کے لئے کھربوں ڈالر کی معدنیات کی دولت کے بارے میں جعلی بیانیے سے کام لیں گے جو عاصم منیر کو اچانک اور معجزانہ طور پر مل گئی ہے۔
ضیاء الحق کو افغان جہاد مل گیا تھا، اور عاصم منیر عرف ضیاء الحق 2.0 کو معدنیات مل گئی ہیں جو صرف اس صورت میں استعمال کی جا سکتی ہیں جب وہ آرمی چیپ رہیں، معذرت چیف رہیں!
پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان کو ایک عدالتی فیصلے کے نتیجے میں جلد بازی میں گرفتار کیا گیا ہے۔ سابق وزیراعظم عمران خان کے موقف کو سنے بغیر عجلت میں فیصلہ دینا پاکستان کے عدالتی فیصلوں پر ایک سوال کھڑا کررہا ہے۔ ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان اس واقعے پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتی ہے۔ ہم پاکستان کی اعلی عدلیہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس معاملے میں قانون و انصاف کے تقاضوں کو پورا کیا جائے اور صاف شفاف قانونی ٹرائل کیا جائے۔
#HRC_Pakistan
#ImranKhan
آئی ایس آئی کے سینئر ذرائع نے تصدیق کی کہ عمران ریاض خان آئی ایس آئی سنٹرل/اسلام آباد کے سیکٹر کمانڈر بریگیڈیئر فہیم رضا کی تحویل میں ہیں۔
ڈی جی سی، ڈرٹی ہیری نے عمران ریاض کو انتخابات تک وہاں رکھنے کا منصوبہ بنایا ہے اور ان کی رہائی کو طول دیا جائے گا۔
عمران ریاض خان کی رہائی کے سلسلے میں بہت سے صحافیوں کی بیک ڈور ڈپلومیسی بھی ناکام رہی ہے۔
اگر عدلیہ میں اخلاقیات اور اقدار کا کوئی بھی نظام باقی رہ گیا ہے تو چیف جسٹس سپریم کورٹ سوموٹو نوٹس لیں۔
میڈیا اور صحافیوں کو ان کی رہائی کے لیے تحریک چلانی چاہیے۔
مبینہ طور پر، وکلاء نے عمران ریاض خان کے کیس کو صرف خراب کیا ہے، اور ان وکلاء کی ہینڈلنگ نے (آئی ایس آئی کے اندر محب وطن افسران کے دعوے کے مطابق) عمران ریاض کو قید کرنے والے آئی ایس آئی انٹرنل ونگ افسران کے لئے آسانیاں پیدا کی ہیں۔
میرے ذرائع کے مطابق عمران ریاض خان الحمدللہ صحت مند ہیں۔ میں جان بوجھ کر اس مسئلے پر کافی عرص�� سے خاموش رہا تاکہ IRK کی حفاظت کو خطرے میں نہ ڈالوں، لیکن اب وقت آگیا ہے کہ عوام کو حقیقت سے آگاہ کیا جائے۔
آگے بڑھنے کا واحد راستہ میڈیا اور صحافی برادری کی طرف سے ملٹری اسٹیبلشمنٹ پر دباؤ ڈالنا ہے۔
میں ان کے وکلاء کے بارے میں مزید بات نہیں کرنا چاہتا کیونکہ اس سے غیر ضروری مسائل پیدا ہوں گے، لیکن ان کے وکیل نے یقینی طور پر اس معاملے کو غلط طریقے سے ہینڈل کیا ہے۔ اگر مجھے چیلنج کیا گیا تو میں انتہائی شرمناک تفصیلات پیش کر سکتا ہوں۔
آج ملکی تاریخ کا سیاہ دن ہے، ایک ایسے کیس میں سزا جس میں کچھ غلط کیا ہی نہیں گیا تمام قانونی تقاضے پورے کرکے گھڑی حاصل کی جبکہ غیر قانونی طور پر گاڑیاں لینے والے آزاد گھوم رہے ہیں۔
#دلاور_کی_جانبداری_نامنظور