نادیہ بلوچ آج کوئٹہ میں ہونے والے مظاہرے کے دوران پولیس کے تشدد اور گرفتاریوں سے متعلق تفصیلات سامنے لا رہی ہیں۔ پولیس نے طاقت کے استعمال سے متعدد مظاہرین کو حراست میں لیا، تاہم یہ افراد اب تھانے میں موجود نہیں ہیں
ایک باشعور قوم کی رہنمائی صرف الفاظ سے نہیں، کردار سے ہوتی ہے۔
یہ تصویر اُس بیٹی کی ہے جو خاموشوں کی آواز، گمشدہ لوگوں کی امید، اور بلوچستان کی جرات ہے۔
جہاں طاقتوروں کی خاموشی چیخ بن چکی ہو، وہاں یہ چہرہ انصاف کی صدا ہے۔
#Balochistan#EnforcedDisappearances#JusticeForBaloch
یادیں تو آج بھی زندہ ہیں، مگر جس کا چہرہ، آواز اور ساتھ تھا — وہ تین سال سے لاپتہ ہے۔
یہ تصویر صرف ایک بھائی کی نہیں، ایک قوم کے زخم کی علامت ہے۔
سلمان بلوچ 2022 سے جبری گمشدگی کا شکار ہے، اور اُس کی بہن آج بھی سوال لیے کھڑی ہے
کب واپس آئے گا وہ؟ کب ختم ہوگا یہ ظلم؟
31 دن سے ہم اسلام آباد کی سڑکوں پر ہیں…
نہ دھوپ رکی، نہ بارش، نہ تکلیفیں کم ہوئیں
بس دل میں ایک امید ہے،
کہ ہمارے پیارے واپس آئیں گے،
اور یہ ریاست ہمیں انسان سمجھے گی
یہ احتجاج صرف ایک جگہ بیٹھنے کا نام نہیں،
یہ ہر ماں، بہن، اور بیٹے کی صدا ہے
جو لاپتہ اپنوں کے لیے تڑپتے ہیں
یہ تصویریں احتجاج میں بلند ہونا محض ایک علامت نہیں بلکہ ایک سوال ہیں، یہ سوال حکمرانوں سے ہے، معاشرے سے ہے، اور ہم سب سے ہے کہ ہم کب تک ان گمشدہ چہروں کو صرف تصویروں میں دیکھتے رہیں گے؟ کب وہ دن آئے گا جب یہ تصویریں حقیقت میں بدل کر ہمارے بیچ ہوں گی؟
آنکھوں میں آنسو، چہرے پر دکھ، اور ہاتھوں میں ایک ایسی تصویر جو صدا بن چکی ہے۔ یہ صرف احتجاج نہیں، یہ صدیوں کے درد، ظلم اور ناانصافی کے خلاف ایک گہری خاموش چیخ ہے، یہ تصویر ان ہزاروں خاندانوں کی نمائندگی کر رہی ہے جو اپنے پیاروں کی واپسی کے منتظر ہیں ۔
یہ تصویر صرف ایک انسان کی نہیں، ایک سوچ، ایک تحریک، ایک مزاحمت کی علامت ہے،
آج وہ ناحق زندان میں ہے، لیکن اس کی آواز آج بھی شاہراہوں پر گونج رہی ہے۔
شاہ جی وہ نام ہے جس نے کمزوروں کو حوصلہ دیا، خاموشوں کو زبان دی، اور خوف کے اندھیروں میں سچ کا چراغ جلایا
#BajaurUnderStateAttack
وہ بہن ہے…
مگر صرف رشتہ نہیں، ایک پہچان ہے
وفا، درد، دعا اور انتظار کی علامت۔
وہ اپنے ہاتھوں میں جو تصویر تھامے کھڑی ہے،
وہ صرف ایک چہرہ نہیں،
بلکہ اس کی سانسوں کا سہارا ہے۔
بھائی تھا اُس کا…
بچپن کا ساتھی، ماں کا سہارا،
اور اب... کسی نامعلوم پردے کے پیچھے گم!
ایک طرف مذاکرات کے بلند و بانگ دعوے اور دوسری طرف راشد حسین جیسے کئی نوجوان زندانوں میں قید جنہیں عدالت تک رسائی نہیں دی جاتی یہ عمل ریاستی قول و فعل کے تضاد کو ایکسپوز کرتا ہے۔
راشد حسین کی بزرگ والدہ کئی برس سے اپنے بیٹے کی عدالتی رسائی کی منتظر ہیں۔
قبضہ ایک لالچ ہے، ایک ہوس ہے لیکن مزاحمت محبت کی بنیاد پر ہوتی ہے. اپنے سرزمین سے محبت، اپنی بقاہ سے محبت، اپنی شناخت سےمحبت اور اپنے کمزور ترین حالات میں بھی لالچ سے لاکھوں گناہ طاقتور اور عظیم تر ہے
بانک کریمہ بلوچ
#Lumma_E_Watan#KarimaBaloch#BalochWomenDay#Balochistan
کریمہ بلوچ ایک بہادر بلوچ بیٹی تھیں جنہوں نے ہر محاذ پر بلوچستان کی آزادی اور وہاں ہونے والے مظالم کے خلاف آواز بلند کی،ان کی جدوجہد نے انہیں ایک مضبوط اور نمایاں شخصیت بنایا، لُمّہ وطن 💔
کامریڈ حوراں بلوچ
#KarimaBaloch
ان مسکراہٹوں کے پیچھے اتنی درد بھری کہانیاں ہیں جنھیں بیان نہیں کیا جاسکتا !!!
کوئی قلم ماں کے درد کو لکھ نہیں سکتا، ہر آنسو ایک وسیع کائنات ہے ، ان کے آنسو ستاروں کی مانند چمکتے ہیں، ایک ایسا درد جو زبان سے ماورا ہے، پھر بھی عظیم ہے۔