@khattak_Zalanda@Shahab7Afridi I think this is so disappointing. You should have blocked him but insulting someone in front of others is nothing but solely inappropriate and disgusting. So-called teacher😊
(پروفیسر جیانگ شوئے چھِن (Jiang Xueqin) — چینی نژاد کینیڈین ماہرِ تعلیم، مصنف اور جیوپولیٹیکل تجزیہ کار؛ یوٹیوب چینل Predictive History کے بانی و میزبان۔ ییل کالج سے انگریزی ادب میں بی اے کی ڈگری رکھتے ہیں۔)
#reading#IsraelIranWar
فروفیسر جیانگ کا دعویٰ: “ایران نے 20 سال اس جنگ کی تیاری کی ہے — امریکہ 21ویں صدی کی جنگ لڑنے کے لیے تیار نہیں”
"میرے تجزیے کے مطابق جس طرح یہ جنگ آگے بڑھ رہی ہے، میرا ماننا ہے کہ ایران کو امریکہ پر کئی اسٹریٹجک برتریاں حاصل ہیں. See more…
#IranWar
تیسرا: نظریۂ آخرت اور خفیہ طاقتیں۔ ایپسٹین فائلز سے ظاہر ہوتا ہے کہ دنیا پر خفیہ گروہ حکمرانی کرتے ہیں۔ کچھ لوگ انہیں الومیناتی کہتے ہیں — جن میں جیسیوٹ، سباطین فرینکسٹ اور فری میسن شامل ہیں۔ ان کے نزدیک مشرق وسطیٰ کی جنگ آخری زمانے کے منصوبے کا حصہ ہے۔"
دوسرا: اندرونی سیاسی فائدہ۔ اگرچہ امریکہ کو اس جنگ سے فائدہ نہیں، مگر ٹرمپ کو ذاتی طور پر فائدہ ہو سکتا ہے۔ سعودی عرب نے جیرڈ کشنر کے فنڈ میں 2 ارب ڈالر لگائے۔ اسرائیلی شخصیات نے ٹرمپ کی مالی مدد کی۔ اگر جنگ بڑھی اور ایمرجنسی اختیارات ملے تو وہ سیاسی فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
یہ سوال اہم ہے کہ یہ سب کیوں ہو رہا ہے؟ میرے نزدیک تین ممکنہ وجوہات ہیں:
پہلا: تکبر (Hubris)۔ تاریخ میں سلطنتیں اسی طرح رویہ اختیار کرتی ہیں۔ جلدی کامیابیاں حد سے زیادہ اعتماد پیدا کرتی ہیں۔
اس لیے سعودی عرب پورے مشرق وسطیٰ کے تیل پر کنٹرول چاہتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ وہ رپورٹ درست ہو سکتی ہے کہ سعودی عرب نے ایران پر حملے کے لیے دباؤ ڈالا، کیونکہ وہ اسرائیل اور امریکہ کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے دے رہا ہے
ایران حوثیوں کی مدد کرتا ہے جو سعودی عرب کے لیے مسئلہ رہے ہیں۔ سعودی معیشت اس وقت دباؤ میں ہے، وہ سیاحت، ای اسپورٹس اور نیوم جیسے منصوبوں کے ذریعے معیشت بدلنے کی کوشش کر رہا ہے، مگر یہ کامیاب نہیں ہو رہے۔
میرا ہمیشہ سے مؤقف رہا ہے کہ سعودی عرب اور اسرائیل دونوں ایران میں حکومت کی تبدیلی چاہتے ہیں۔ سعودی عرب کے لیے ایران زیادہ بڑا وجودی خطرہ ہے کیونکہ سعودی معیشت مکمل طور پر تیل پر منحصر ہے، جبکہ ایران ایک تھیوکریسی ہے جو سعودی بادشاہت کے خلاف ہے۔