It has now been around 1,100 days since my father, Imran Khan, was imprisoned, and my brother and I haven’t heard his voice since March. For months, we’ve been denied contact with him. We remain in the dark about his access to healthcare as his eyesight continues to deteriorate. He urgently needs medical attention, and with no family or legal access, we don’t even get any second hand information or reassurance.
I’ve found myself especially missing him recently. I want to speak to him about mundane things like my cricket, books I’ve been reading and what new movies are good. I understand the people of Pakistan want their chosen leader free, but I miss my father more than ever.
But this is not just about a father. It is about Pakistan, and its future. A rigged, authoritarian regime continues to crush political opposition, undermine democratic institutions, and deny millions of Pakistanis their right to freely choose their leaders, whilst terrorising those who speak their beliefs.
I once again plea to the international community to not look away. Silence in the face of injustice only enables it.
کیونکہ عمران خان سے ملاقات نہیں ہورہی پی ٹی آئی کو اپنے آئین میں تبدیلی کرکے 3 مہینے کیلئے چیرمین الیکٹ کرنا چاہیئے ہر 3 مہینے بعد نئے چیئرمین کیلئے الیکشن ہوں اس طرح کسی ایک کا مفاد عمران خان کی قید نہیں رہے گا اور شاید کچھ حرکت ہو!
اس ڈر سے کہ کہیں 5 اگست کو عوام سڑکوں پر نہ نکل آۓ ملک گیر احتجاج کی کال کے بجاۓ پشاور میں جلسے کا اعلان کر دیا گیا،
حالانکہ کہ بہترین آپشن یہ تھا کہ قومی اسمبلی کے تمام ممبران اور امیدوار اسلام آباد میں اکھٹے ہوتے اور وہاں پورا اسلام باد اور پنڈی اکھٹا کیا جاتا جبکہ پنجاب اسمبلی کے تمام ممبران لاہور میں اکھٹے ہوتے اور پورا لاہور احتجاج کے لیے اکھٹا کرتے ۔۔
اگر پولیس لاٹھی چارج کرتی یا گرفتاریاں کرتی تو اسمبلوں کو جوتے کی نوک پر رکھ دیا جاتا اور استعفے دے دئیے جاتے مگر افسوس کرسی کا نشہ ساری قیادت کے سر چڑا ہوا ہے ۔۔
عمران خان کی رہائ میں سب سے بڑی رکاوٹ خود پی ٹی آئ کی قیادت ان کے چمچے ہیں ۔۔
جنگ کے اس راؤنڈ کے بعد مجھے عمران خان بھی اڈیالہ جیل میں قید نظر نہيں آ رہے۔ انکی لوکیشن بنی گالہ کی آ رہی ہے۔
علیمہ خانم کا ساتھ دیں۔ اس زیرک خاتون نے صورتحال بھانپ لی ہے۔
اللہ تعالٰی بہتر کرے گا۔
گوہر ہمیشہ سے کمپنی کے ساتھ رابطے میں رہا ہے
گوہر کمپرومائز نہیں رہا بلکے ہمیشہ سے غداری کرتا رہا۔۔۔۔۔
جب پچھلے سال پمز سے ڈاکٹرز خان صاحب کا چیک اپ کرنے ائے تھے تو یہ گوہر تب وہاں آیا تھا
خان صاحب کو دور سے دیکھ کر واپس چلا گیا تھا
وہ چاہتا تو خان صاحب سے ملاقات کر سکتا تھا
اس گوہر کو بہت موقعے ملے خان صاحب سے ملاقات کے لئے لیکن اس بندے نے خان صاحب سے ملاقات نہیں کی۔۔۔۔
یہ چاہتا تو خان صاحب کی صحت پر سچ بتا کر خان صاحب کی آنکھ کو بچانے کے لئے کچھ کر سکتا تھا لیکن یہ چپ رہا، بلکے قیادت میں کافی لوگوں کو معلوم تھا کہ خان صاحب کی آنکھ میں تکلیف بہت زیادہ ہے لیکن سب کے سب خاموش رہے
میں نے گرفتاری سے پہلے ٹویٹس میں بتایا تھا کہ قیادت کو خان صاحب کی صحت کے حوالے سے سب معلوم تھا۔۔۔۔۔
میری بات کو نظر انداز کیا گیا
میں آج بھی اپنے ایک ایک دعوے اور ایک ایک بات پر قائم ہوں۔۔۔۔۔
میرے دعوے سچے ہیں اس لیے تو قیادت میرے سوالات سے بھاگتی ہے۔۔۔۔۔
بیرسٹر گوہر کو بطور چیئرمین اپنے عہدے سے استعفی دے دینا چاہیے، 26 نومبر کو شہید ہونے والے کارکنوں کے خون کے ساتھ دھوکہ کیا گیا ہے۔
پونے دو سال میں بیرسٹر گوہر علی نے اپنا بیان تک ریکارڈ نہیں کروایا
مطیع اللہ جان کی گفتگو 🔥
وقت آگیا ہے کہ پشاور جلسے میں تحریک انصاف کے کارکنان بھرپور شرکت کرتے ہوئے سہیل آفریدی کی آنکھوں سے وہ پٹی ہٹا دیں جو اقتدار نے باندھ دی ہے کہ تمہاری وقعت صرف تب تھی جب تم سے عمران خان کے لیے اس ملک کے لیے امید تھی۔ اب تم اسکی اسکے کسکے جسکے بھی ہو تم صفر ہو۔
ان لوگوں کو ابھی تک احساس نہیں ہوا کہ عوام اب اس ڈرامے کو مزید برداشت نہیں کرے گی۔ یہ کیوں سمجھتے ہیں کہ لوگ بے وقوف ہیں۔ ان سے مزید اچھے کی توقع مت رکھیں۔
بھارت میں مظاہرین پر ابھی تک سب سے سخت ہتھیار ڈنڈا استعمال کیا گیا ہے جبکہ پاکستان میں آغاز ہی G3 رائفلز سے ہوتا ہے، ڈی چوک اور مرید کے کی مثالیں آپ کے سامنے ہیں
۔26 نومبر کو پی ٹی آئی کے کارکنوں کی گولیوں سے شھادتوں کے ٹھوس شواہد کے باوجود بیرسٹر گوھر علی خان کو بطور چیئرمین پی ٹی آئی اپنی اس نا اہلی اور ناکامی پر اپنا عہدہ چھوڑ دینا چاہئیے، بیرسٹر اعتزاز احسن کیساتھ ماتحتی کا طویل تجربہ انکی سیاسی قائدانہ صلاحیتوں کو سامنے لانے میں آڑے ہے۔ آجکے عدالتی فیصلے نے پی ٹی آئی کے ۲۶ نومبر کے بیانیے کو شدید نقصان پہنچایا ہے جسکے ذمے دار بیرسٹر گوھر ہیں جو بظاہر اپنی بزدلانہ سوچ کا شکار ہوئے ہیں اور کسی خوف کے مارے اپنا بیان ریکارڈ کرانے سے بھاگتے رہے ہیں۔
ایم جے ٹی وی کی اس تحقیقاتی رپورٹ میں ثبوت بھی تھے
https://t.co/QWWGon3rsM
انسان کے کردار سے اُسکا قد بنتا ہے معزرت کے ساتھ اس ٹیبل کے پیچھے بیٹھے لوگ بونے نظر آ رہے ہیں ! کوئی مانے گا یہ دنیا کی آٹھویں بڑی اور ملک کی سب سے بڑھی سیاسی جماعت کا لایحہ عمل دے رہے ہیں !
عمران خان کی بہنوں کا بیان پی ٹی آئی کا موقف نہ سمجھا جائے، چیئرمین بیرسٹر گوہر
عمران خان کا صرف وہی پیغام صحیح سمجھا جاتا تھا جس کی تصدیق انکی بہنیں کریں۔ اگر بیرسٹر گوہر عمران خان سے منسوب کچھ کہتے تو کوئی انکا یقین نہیں کرتا تھا
تو آج بیرسٹر گوہر کے اس بیان کی کتنی اہمیت ہے؟