إِنَّ اللّهَ لاَ يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُواْ مَا بِأَنْفُسِهِمْ ( القرآن)
بیشک اللہ اُس قوم کی حالت تب تک نہیں بدلتا جب تک وہ قوم اپنی حالت خود نہیں بدلتی..!
آئی ایم ایف بالکل صحیح کہتا ہے کہ پاکستان میں پالیسیاں اشرافیہ کو سہولت دینے کیلئے بنائی جاتی ہیں اور اسکا ثبوت حکومت نے جیٹ فیول کو سو روپے سے زیادہ سستا کر کہ دے دیا۔۔کتنے لوگ اور کونسے لوگ ہوائی سفر کرتے ہیں اس ملک کی ایلیٹ ہی ہوائی سفر کر سکتی ہے۔حکمرانوں کے دل میں عام پاکستانیوں کیلئے کوئی جگہ یا رحم نہیں ہے۔اس لیے اشرافیہ کا فیول 320 روپے اور عام پاکستانی کا پیٹرول اور ڈیزل 410 روپے ہے۔
رات کی ٹرین میں ایک آفس ورکر خاموشی سے سینڈوچ کھاتے ہوئے آنسو بہاتا دکھائی دیا، اور یہ منظر لوگوں کے دلوں کو چھو گیا۔
کبھی کبھی زندگی کی تھکن انسان کو اندر سے خاموش کر دیتی ہے… اسی لیے خود کا خیال رکھنا بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا کام کرنا
Had a heartfelt call with Shapoor Zadran’s brother today. Truly saddened to hear about his condition.
You’ve always been a fighter on the field, and I know you’ll fight this too.
Praying for your speedy recovery.
#ShapoorZadran#StayStrong#CricketFamily#Prayers
ایرانی بھائیوں نے پوری امت کا قرضہ چکا دیا ، ایران نے کر کے دکھا دیا کہ جب کافر کا خوف دل سے نکل جائے تو وہ بکری بن جاتا ہے اور جب کافر کا خوف اندر آ جائے تو ہم واحد ایٹمی طاقت کے باوجود بکری بن جاتے ہیں، ہمارے بڑے اور چھوٹے دشمن کے خوف سے نکل ہی نہیں رہے ۔۔
مولانہ طارق جمیل
کاشف عباسی پر پابندی، حبیب اکرم پر پابندی،پارس جہانگزیب پر پابندی، ثمنہ پاشا پر بابندی، عارف حمیل پابندی، خالد جمیل پر پابندی، سمیع ابراہیم پر پابندی اور جاوید چوہدری پر بھی پابندی لگ گئی
سچ بولنے پر اور کتنے لوگوں پر پابندیاں لگائیں گے
حامد میر
پاکستانی عوام جانتے ہیں خطہ کے حالات کے باعث پیٹرول قیمتیں زیادہ ہیں مگر غریب سڑک پر نکلتا ہے تو اُسے ہر تیسری گاڑی سبز بتی والی دکھائی دیتی ہے، پاکستان میں ایسی گاڑیاں 85 ہزار سے زائد ہیں جو سالانہ 114 ارب کا پیٹرول/ڈیزل استعمال کرتی ہیں جبکہ برطانیہ میں ایسی گاڑیوں کی تعداد صرف 86 ہے۔ غریب پاکستان میں وزراء کی تعداد 137 دیکھ کر بھی پریشان ہوتا ہے۔
ماہرِ اقتصادیات فرخ سلیم
ہمسایہ ملک ایران جو ایک مہینہ پانچ دن سے عالم کفار سے جنگ لڑ رہا ہے اس کے اندرونی حالات کچھ یوں ہیں:
1- اس وقت تک 35 روزہ جنگ میں کسی ملک سے مالی مدد نہیں لی
2- کھانے پینے کی اشیاء کے لیے اپیل نہیں کی
3- ادویات کی اپیل نہیں کی
4- ملک کے اندر جنگ شروع ہوتے ہی روٹی ؛ پٹرول اور ڈیزل مفت کر دیا گیا ہے
*5- ایک مہینے جنگ اور مسلسل پوری عالم کفر کی شب و روز بمباری کے باوجود ایک بھی ایرانی نے ملک سے ہجرت نہیں کی بلکہ دوسرے ملکوں میں مقیم ایرانی وطن کے دفاع کے لیے واپس آ رہے ہیں۔
6- لاک ڈاؤن کی اصطلاح کسی ایرانی کو شاید معلوم ہی نہ ہو۔
7- بڑے بڑے تاجروں نے لکھ کر لگا دیا ہے کہ مال لے جاؤ اور جنگ کے بعد پیسے دے دینا۔
8- جنگ اور بمباری میں وزراء عوام کے درمیان روڈوں پر امریکی مخالف مظاہروں میں برابر شریک ہیں۔
9- ایرانی صدر خود شاپنگ مالز پر جا کر ریٹ اور سہولیات چیک کر رہا ہے۔
پٹرول کے ٹیکس یعنی لیوی کے بغیر قیمت 245 بنتی ہے لیکن ٹیکس چوروں سے ٹیکس وصولی میں ناکامی کے بعد حکومت یہ کمی عام آدمی کی جیب پر ڈاکہ ڈال کر پورا کرتی ہے۔
میرا مشورہ ہے بارشوں سے بچاؤ کی تدبیروں کے بجاۓ آنسؤوں سے بچاؤکی تدبیر کرو کیونکہ یہ مظلوموں محروموں محکوموں کے آنسو ہی ہیں جو بارش بن کر برس رہے ہیں ۔ جس دن آنسو روک لو گے بارش رحمت بن کر برسے گی زحمت نہیں ورنہ ان کے سمندر میں ایک دن تم بھی ڈوب جاؤ گے ۔۔۔