@blasphemy_files عدالت نے تو اپنا فرض نبھا دیا اور سچ سامنے رکھ دیا، اب اصل امتحان ہمارے تحقیقاتی اداروں کا ہے کہ وہ کتنی جلدی اس گینگ کا صفایا کرتے ہیں۔
@qaiseraraja People shouldn't air such Private matters publically just to seek cheap fame and attention. Have some shame and use your common sense
@TamkenatM
"عورتوں میں مردوں سے زیادہ جنسی خواہش ہوتی ہے مرد ایک بار میں ڈن ہو جاتا مگر عورت بار بار ۔۔۔ مرد پونے دو منٹ میں ڈکار مار کر منہ ادھر کر کے سو جاتا ہے مردانہ کمزوریاں قدرت نے مردوں کی دی ہیں کبھی زنانہ کمزوری نہیں ہوتی اس میں عورت کا کیا قصور "
کیا یہ ممکن ہے کہ ایسی بیغیرتی کو باحیاء خواتین کی نمائندگی نہ کہا جائے، بلکہ ویڈیو کے آغاز میں disclaimer لگایا جائے کہ یہ صرف سیکولر عورتوں کی نمائندگی ہے اور اس مقصد صرف سیکولر مردوں کی سماعتی چسکا خوری کو پورا کرنا ہے؟ 🙂
@saniwriter93@blasphemy_files junaid saleem research kry toh tab hai nah narrative ke baat hai pesa do or kuch bhe narrative phelwa do usey pta mera chehra bikta toh nah cash karwaoun mn
چائلڈ پورنوگرافی کے خلاف گرفتاریاں: فحش توہین، بچوں کا جنسی استحصال اور منظم ڈیجیٹل نیٹ ورکس کے خلاف جامع کارروائی کب ہوگی؟
نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کی جانب سے چائلڈ پورنوگرافی اور بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق حالیہ کارروائیوں میں انتہائی تشویش ناک انکشافات سامنے آئے ہیں۔ کراچی میں تین کمپنیوں کے خلاف کارروائی کے دوران 42 افراد کو حراست میں لیا گیا، جن میں سے 13 کو باقاعدہ گرفتار کرکے عدالت میں پیش کیا گیا۔
دوسری جانب اسلام آباد میں ایک ایسے مبینہ بین الاقوامی نیٹ ورک کا انکشاف ہوا ہے جس میں ایک باپ پر اپنے ہی چار سے پانچ سالہ معصوم بچوں کی جنسی استحصال پر مبنی ویڈیوز تیار کرکے فروخت کرنے کا الزام ہے۔
یہ انکشافات کسی بھی صاحبِ ضمیر انسان کے رونگٹے کھڑے کرنے کے لیے کافی ہیں۔ جن والدین کی ذمہ داری اپنے بچوں کی عزت، عصمت اور معصومیت کا تحفظ ہے، اگر انہی میں سے کوئی اپنے بچوں کو جنسی استحصال کا شکار بنا کر ان کی معصومیت کا سودا کرنے لگے تو اس سے زیادہ دل دہلا دینے والی بات کیا ہوسکتی ہے؟
ہم این سی سی آئی اے کی ان کارروائیوں کو خوش آئند قرار دیتے ہیں اور توقع رکھتے ہیں کہ تفتیش کو منطقی انجام تک پہنچاتے ہوئے مجرم ثابت ہونے والے افراد کو قانون کے مطابق قرار واقعی سزا دلوائی جائے گی۔
تاہم ہمیں ان جرائم کے سامنے آنے پر حیرت ہرگز نہیں ہوئی!
اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم ایک طویل عرصے سے حکومت پاکستان اور متعلقہ ریاستی اداروں کی توجہ ایسے ڈیجیٹل نیٹ ورکس کی جانب مبذول کراتے چلے آرہے ہیں جن کی سرگرمیاں محض فحش مواد کی تشہیر تک محدود نہیں بلکہ ان کے بعض پہلو مذہبی مقدسات کی فحش توہین اور دیگر سنگین جرائم سے بھی متعلق ہیں۔
یہ محض ہمارا خدشہ نہیں، بلکہ متعدد مقدمات میں ایسے شواہد بھی سامنے آئے ہیں جن کی بنیاد پر ان مختلف جرائم کے باہمی تعلق کی جامع تحقیقات ناگزیر ہیں۔
مثال کے طور پر فحش توہین پر مبنی بعض مقدمات، جن کی ایف آئی آرز کے نمبر درج ذیل ہیں: ایف آئی آر نمبر 07/24، 57/24، 335/25 اور 179/26.
ان مقدمات میں ملزمان پر نہ صرف اسلام اور مقدساتِ اسلام کی فحش انداز میں توہین کے شواہد عدالت کو دیئے گئے بلکہ ان کے زیرِ استعمال ڈیجیٹل آلات سے بچوں کے جنسی استحصال پر مبنی مواد بھی برآمد ہوا۔ متعلقہ فارنزک رپورٹس اور مقدماتی ریکارڈ کی روشنی میں ان شواہد کی مکمل تحقیقات ہونی چاہییں۔
ہم بارہا توجہ دلا چکے ہیں کہ بعض ڈیجیٹل حلقوں کی سرگرمیوں میں چار انتہائی تشویش ناک پہلو ایک دوسرے سے منسلک دکھائی دیتے ہیں:
1. مقدساتِ اسلام کی فحش اور جنسی نوعیت کی توہین۔
2. چائلڈ پورنوگرافی، یعنی بچوں کے جنسی استحصال پر مبنی مواد کی تیاری اور تشہیر۔
3. اِنسیسٹ (Incest)، یعنی محرم رشتوں کے درمیان جنسی تعلقات پر مبنی مواد کی تشہیر اور اس کی ترغیب۔
4. ریاست پاکستان کے خلاف نفرت اور دشمنی پر مبنی مواد کی تشہیر۔
یہ چاروں پہلو ہر مقدمے میں لازماً موجود نہیں، تاہم متعدد مقدمات میں ان کا بیک وقت سامنے آنا ایک ایسے ممکنہ باہمی تعلق کی نشاندہی کرتا ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔
مذہبی مقدسات کی فحش توہین سے متعلق مختلف مقدمات میں عدالتوں کے سامنے پیش ہونے والا ڈیجیٹل اور فارنزک ریکارڈ بھی انتہائی پریشان کن ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ریاست ان شواہد کا مجموعی جائزہ لے اور یہ معلوم کرے کہ آیا ان مختلف سرگرمیوں کے پیچھے مشترکہ افراد، گروہ، ڈیجیٹل پلیٹ فارم یا منظم نیٹ ورکس کام کر رہے ہیں۔
یہاں حکومت پاکستان کو اس کے اپنے سرکاری اعداد و شمار بھی یاد دلانا ضروری ہیں۔
جولائی 2023ء میں حکومت کی جانب سے جاری کردہ معلومات کے مطابق چار لاکھ سے زائد سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی نشاندہی ہوئی تھی جو شدید توہین آمیز مواد کی تشہیر میں ملوث تھے۔
اس سے بھی آگے بڑھ کر حکومت پنجاب نے 25 اگست 2026ء کو ضابطۂ فوجداری کی دفعہ 99-A کے تحت ان کے مرکزی کتابچے کی اشاعت اور تشہیر پر پابندی عائد کی۔ حکومتی نوٹیفکیشن میں اس مواد کو توہین آمیز اور بغاوت پر مبنی نوعیت کا قرار دیا گیا۔
سوال یہ ہے کہ جب ریاست خود اس نوعیت کے مواد کی سنگینی کو تسلیم کرچکی ہے، اس کے پھیلاؤ سے متعلق سرکاری اعداد و شمار موجود ہیں، اور اس کی اشاعتوں پر باقاعدہ پابندی بھی لگائی جاچکی ہے، تو پھر اس کے پیچھے موجود افراد اور ممکنہ نیٹ ورکس کے خلاف جامع کارروائی میں رکاوٹ کیا ہے؟
افسوس یہ ہے کہ ایک طرف چائلڈ پورنوگرافی سے متعلق کارروائیوں میں پیش رفت نظر آرہی ہے، جس کا ہم خیرمقدم کرتے ہیں، مگر دوسری جانب فحش توہین کے زیرِ التوا مقدمات اور شکایات میں گرفتاریوں اور تحقیقات کی رفتار سست ترین ہے۔
خصوصاً ان مقدمات میں جہاں دونوں نوعیت کے جرائم سے متعلق شواہد موجود ہیں تاخیر کا کوئی معقول جواز نہیں ہونا چاہیے۔
@qaiseraraja والدین کے روپ میں چھپے ایسے بھیڑیے کسی رعایت کے مستحق نہیں۔ جب شواہد اور قانون دونوں موجود ہیں تو ان نیٹ ورکس کے خلاف فیصلہ کن ریاستی ضرب کب لگے گی؟
@qaiseraraja بالکل درست نشاندہی! اگر ریاست نے وقت پر ان فحش گو اور گستاخ ڈیجیٹل گروہوں کو کچل دیا ہوتا تو آج معصوم بچوں کے استحصال کے یہ ہولناک واقعات سامنے نہ آتے۔