نوازشریف، شہبازشریف، مریم نواز کے 2024 الیکشن کے فارم 45 دکھا دیں، اگر وہ جیتے ہیں تو خدا کی قسم میں زندگی میں سیاست اور وکالت کا نام نہیں لوں گا، قادرمندوخیل کا جواب
I dedicated my whole life to improve health care for the poor & under privileged of Pakistan.
The #InsafSehatCard , a dream of @ImranKhanPTI an amazing milestone to cross.
Imprisoned for 280 years but firmly believe justice will prevail, now or soon, for a better Pakistan
جی @DrTariqFazal نے بالکل درست کہا 8 فروری 2024 جیسے الیکشن ہی ان جیسے ضمانت ضبط شدہ لوگوں کے تمام مسائل کا حل ہے ورنہ جو انہوں نے اس ملک کا حال کر دیا ہے پاکستانی عوام تو انہیں جوتیاں مارنا بھی پسند نہ کرے۔
61 ہجری کے یزید پر لعنت بھیجنا بہت آسان ہے. وہ ہے بھی نہیں. سن بھی نہیں رہا. اس دور کے یزید کو للکارنا مشکل ہے.
حسینیت درس یہی دیتی ہے۔ اپنے زمانے کے ہزید کو پہچانو، نہ صرف پہچانو، بلکہ للکارو اسے. ––– علامہ نصرت عباس
حضرت امام حسینؓ جانتے تھے کہ ظالم یزید کے پاس ایک بہت بڑا لشکر ہے، مگر پھر بھی وہ باطل اور ظلم کے سامنے نہیں جھکے۔
حسینیت ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ ظلم اور جبر کے سامنے کبھی سر نہ جھکایا جائے۔ میں بھی ظلم کے آگے نہیں جھکوں گا اور اپنی قوم کو بھی نہیں جھکنے دوں گا۔ غلامی کی زندگی سے بہتر عزت اور آزادی کی موت ہے! عمران۔
مریم نواز آج اگر زندہ ھوتی تو ڈاکٹر مہرنگ بلوچ کو سزا سُنائے جانے پر رو رو کر اپنا بُرا حال کرلینا تھا اور ڈاکٹر مہرنگ بلوچ کی رہائی تک کوئٹہ جیل کے باہر دھرنہ دے دینا تھا لیکن بہرحال اس سزا سے پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے لئے بلوچستان میں نفرت میں مزید اضافہ ھوگا
محترم ایف بی آر سپوکس پرسن
آپ نے اس کیس میں بہت بڑی چول ماری ہے آپ کے پاس کونسے جوڈیشل اختیارات ہیں کہ آپ کسی بھی اکیلے انسان کے اکاؤنٹ سے پیسے ٹرانسفر کروائیں کسی بینک کو کہہ کر اس کے لیے آپکو عدالت سے آرڈر لینے چاہیئے تھے اگر میں وفاقی ٹیکس محتسب ہوتا تو اس بینک اور ایف بی آر
ایک بات کی تصدیق ہوچکی ہے کہ ایف بی آر میں ٹیکس گذاروں کی مبینہ ہراسانی کے واقعات زبان زد عام ہیں ، گذشتہ پوسٹ میں کئی ایسے ٹیکس گذار سامنے آئے ہیں جنہوں نے ایف بی آر کی جانب سے زبردستی ٹیکس وصولی کی شکایت کی ہے ۔
قطر میں مقیم پاکستانی شہری ارسلان آدم کے بینک اکاؤنٹ سے رقم نکالے جانے کے بعد کئی ٹیکس گذاروں نے ایف بی آر کے خلاف شکایات کے انبار لگا دیے ہیں
ٹیکس گذار @NasheedurRahim کا کہنا ہے کہ ایف بی آر نے ان کے بینک اکاؤنٹ سے پیسے نکالے جو کہ ترسیلات زر کے طور پر پاکستان بھیجے گئے تھے ۔
اسی طرح ٹیکس گذار عامر نواز ڈوگر @amirnawazdogar کا کہنا ہے کہ ان کے ایک عزیز کے بینک اکاؤنٹ سے 16 لاکھ روپے کی رقم نکال لی گئی ہے جو کہ امریکی شہری ہیں
سجاد مصطفیٰ باجوہ نے بھی سچا واقعہ سنایا کہ کس طرح ان کے ایک دوست کے بینک اکاؤنٹ سے رقم نکالی گئی جو آج تک واپس نہیں ملی @sajjadmustafa
سہیم خضر نے بھی ایف بی آر کی ہراسانی سے متعلق بتایا کہ ان کے دوست نے اسٹاک ایکسچینج میں کی گئی سرمایہ کاری نکال لی ہے ۔ @Saheem_Khizar
وزیر خزانہ بار بار یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ایف بی آر سے ہراسانی اور انسانی مداخلت ختم کر دی گئی ہے ۔ وزیر اعظم شہباز شریف ایف بی آر میں اصلاحات پر ہر ہفتے اجلاس کی صدارت کرتے ہیں۔ سب سے بڑھ کر چیئرمین ایف بی آر کسی افسر کی سفارش تک برداشت نہیں کرتے کرپشن پر تو بلا توقف گھر بھیج دیتے ہیں۔
ایف بی آر سال کے آخر میں اپنا ٹیکس ہدف پورا کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہا ہے ۔ اس دوران کئی ٹیکس گذاروں کے اکاؤنٹ سے مطلوبہ ٹیکس کاٹا جا سکتا ہے ، اگر آپ کے بینک اکاؤنٹ سے زبردستی ٹیکس کاٹا جائے اور اکاؤنٹ خالی کردیا جائے تو اس کو رپورٹ لازمی کریں ۔
@miandawoodadv@adeelraja@ImtiazGul60@AmerSharifOFCL
وزیر صاحب کے مطابق اس روڈ کو 20 سال تک کسی نے نہیں بنایا تھا۔۔۔ان 20 سالوں میں پنجاب میں کس کی حکومت تھی؟ بیشتر وقت شریف خاندان انکی جماعت یا انکے موجودہ کابینہ کے ساتھیوں کی۔۔۔اس عرصے کے دوران پنجاب کے بااختیار وزرائے اعلیٰ سے متعلق حقائق ملاحظہ فرمائیں:۔
سردار دوست محمد کھوسہ۔۔۔وزیراعلیٰ ن لیگ(اپریل 2008 سے 6 جون 2008)
شہباز شریف۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جون 2008 سے مارچ 2013
شہبازشریف۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔2013 سے 2018
عثمان بزدار۔۔۔۔۔۔۔۔اگست 2018 سے اپریل 2022
حمزہ شہباز شریف۔۔۔۔۔اپریل 2022 سے جولائی 2022
چوہدری پرویز الہی۔۔۔۔۔۔جولائی 2022 سے جنوری 2023
محسن نقوی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جنوری 2023 سے فروری 2024
مریم نواز۔۔۔۔۔۔۔۔۔فروری 2024 سے ابتک۔۔۔۔
یعنی کہ وزیرصاحب کے بیان شدہ اس سارے عرصے میں شریف خاندان اور انکے ساتھی( پارٹی، موجودہ کابینہ والے) لگ بھگ 14 برس تک اقتدار میں رہے ہیں۔۔۔اس دوران اس سڑک کی خرابی کی وجہ سے ان گنت لوگ حادثات کا شکار ہوکر جان گنوا بیٹھے۔۔۔اب جب یہ سڑک بالکل تباہی کے اۤخری درجے پر پہنچی تو کسی کو رحم اۤیا اور اسکو بنوایا گیا۔۔۔ورنہ تو یہاں کے باسیوں کے ساتھ دہائیوں سے سوتیلوں جیسا سلوک جاری تھا۔۔ایسا سلوک کرنیوالے تمام افراد کے نام اوپر درج ہیں۔۔۔ٹاپ پر شریف خاندان رہا۔