ٹھیک 3 سال پہلے آج کے دن لاکھوں پاکستانیوں نے دھرتی کے بیٹے ارشد شری�� کو مٹی کے حوالے کیا تھا۔ چشم فلک نے یہ منظر پہلی بار دیکھا کہ اسلام آباد میں جگہ کم پڑ گئی تھی۔ لوگوں کو سڑکوں پر کھڑے ہو کر نمازِ جنازہ ادا کرنا پڑا تھا۔
شہباز گل کو علی آمین نے دھمکیاں دی🛑🛑
علی آمین مکمل طور پر اپنی ساکھ کھو چکا ہے۔۔ علی آمین کے پاس کوئی جواز نہیں کو وزیر اعلیٰ کے سیٹ پر رہے۔۔ اسکے آخری دن آچکے ✊
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں وکلاء اور میڈیا سے گفتگو!!
“آ��ھ فروری کو ملک بھر بشمول پنجاب،سندھ اور صوابی میں ہونے والے احتجاجی مظاہرے پر عوام کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ اس ننگی فسطائیت کے دور میں بھی عوام ہر مرتبہ میری کال پر خوف کے بت توڑ کر نکلتی ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ قوم اب ہر حال میں حقیقی آزادی کی منتظر ہے۔ اردلی حکومت اندر سے ڈری ہوئی ہے۔ ملک بھر میں چھاپے مارے گئے اور لوگوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ کرکٹ کا بہانہ بنا کر ہمیں مینار پاکستان جلسے کی اجازت نہیں دی گئی، اس سے صاف ظاہر ہے کہ یہ کھوکھلی حکومت اندر سے کس قدر بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔
میں نے آرمی چیف کے نام خط ملک کی بہتری کے لیے نیک نیتی سے لکھا تھا۔ یہ میرا ملک ہے اور مجھے اس کی فکر ہے۔ میں ڈی جی آئی ایس پی آر کو کہنا چاہتا ہوں ��ہ فوج کی ساکھ مکمل طور پر تباہ ہو رہی ہے۔آپ کہتے تو یہ ہیں کہ ہم سیاست میں مداخلت نہیں کرتے مگر بچہ بچہ واقف ہے کہ ملک کا نظام آرمی چیف ہی چلا رہا ہے۔ ملک پر محسن نقوی جیسے ٹاوٹس مسلط کر دئیے گئے ہیں جس نے کبھی کونسلر کا انتخاب نہیں لڑا، مگر اب وہ کرکٹ سے لے کر خارجی اور داخلی معاملات تک ہر چیز کا کرتا دھرتا ہے۔
ملک میں ہر جانب جبر و فسطائیت کا بازار گرم ہے۔ چھبیسویں آئینی ترمیم کے ذریعے سپریم کورٹ کی خودمختاری کا جنازہ نکال دیا گیا۔ قاضی فائز عیسیٰ تاریخ کے جانبدار اور بے شرم ترین چیف جسٹس تھے جن کا کردار جسٹس منیر سے بھی زیادہ گھناونا تھا۔ ان کے دور میں جمہوریت پر شب خون مارا گیا، انسانی حقوق بری طرح پامال ہوئے مگر انہوں نے بجائے کوئی ایکشن لینے کے، ہر غیر قانونی اقدام کی سہولتکاری کی۔ ملک میں قانون کی حکمرانی اور انسانی حقوق دونوں بری طرح پامال ہیں۔ انتخابات کے نام پر ڈھونگ رچا کر عوام سے ان کا مینڈیٹ چھینا گیا۔ چیف الیکشن کمشنر اور قاضی فائز عیسیٰ اس سب میں اسٹیبلشمنٹ کے سہولتکار بنے رہے۔ ان دونوں چہروں نے اپنے عہدوں اور عوام سے غداری کی۔ اس سب کے نتیجے میں جعلی ایم این ایز، جعلی پارلیمان جعلی وزیراعظم اور جعلی صدر کا وجود عمل میں آیا ہے۔
قاضی فائز عیسیٰ کا کام اب آئینی بینچ سے لیا جا رہا ہے۔ملک کو بنانا ریپبلک بنا دیا گیا ہے۔ ججز کا یہ فرض ہوتا ہے کہ دو طرفہ مؤقف سنا جائے مگر یہاں ایک ہی طرف کا مؤقف سن کر فیصلے سنا دئیے جاتے ہیں۔
جسٹس یحیٰی آفریدی کو خصوصی پیغام دینا چاہتا ہوں کہ جو ملک میں انسانی حقوق اور قانون کا حال ہے آپ کو اس کے خلاف کھڑے ہ�� کر تاریخ میں سرخرو ہونا چاہیئے اور قاضی جیسا شرمناک کردار ادا نہیں کرنا چاہیئے۔
پیکا کے کالے قانون کے ذریعے میڈیا اور سوشل میڈیا کا گلا گھونٹ دیا گیا ہے۔انٹرنیٹ کا جو حال کیا گیا وہ سب کے سامنے ہے۔معیشت کو 1.7 بلین ڈالرز کا نقصان اٹھانا پڑا۔ملک میں brain drain تیزی سے جاری ہے۔17 لاکھ افراد بیرون ملک منتقل ہو چکے ہیں۔معاشی تباہی اور بے روزگاری سے پوری قوم پریشان ہے۔
ہم نے 9 مئی اور 26 نومبر پر کمیشن کا مطالبہ اسی لیے کیا تھا کیونکہ ہمیں معلوم تھا کہ مذاکرات صرف ایک ڈرامہ ہیں۔ آٹھ فروری پر کمیشن بنانا تو ان کے بس کی بات ہی نہیں تھی۔ اگر ان کی نیت صاف ہوتی تو 9 مئی اور 26 نومبر پر کمیشن بنا کر دودھ کا دودھ پانی کا پانی کرتے کیونکہ یہ انسانی حقوق سے متعلق معاملات تھے اور فوری طور پر ان پر ایکشن لیا جا سکتا تھا مگر ایسا نہیں کیا گیا۔ 26 نومبر کو اسٹیبلشمنٹ نے گولیاں چلوا کر نہتی عوام کا قتل کیا۔
ملک کے سب سے بڑے منی لانڈررز ک�� قوم پر مسلط کر دیا گیا ہے۔ 30 سال سے خفیہ ایجنسیاں ہمیں بتا رہی تھیں کہ ملک کو ان دو خاندانوں نے کس طرح لوٹا۔ سرے محل اور مے فئیر فلیٹس کی فائلیں انہوں نے ہمیں خود دکھائیں۔ نیب نے 1100 ارب ریکور کرنے تھے۔ ہمارے دور میں 480 ارب ریکور کیے گئے کیونکہ ہم احتساب کو لے کر سنجیدہ تھے جبکہ پچھلے 17 سال میں صرف 80 سے 90 ارب ہی اکٹھے ہو سکے۔ نیب ترامیم کر کے ان دو خاندانوں کے تمام مقدمات بند کر دیے گئے۔ مقصود چپڑاسی، مے فئیر، ون ہائیڈ پارک میں رشوت، اومنی گروپ سمیت تمام مقدمات بند کر دیے گئے۔ ہمیں خود ہی بتایا گیا کہ یہ لوگ کرپٹ ہیں اور اب دھاندلی کے ذریعے ان کو ہم پر مسلط کر دیا گیا صرف اس لیے کیونکہ بوٹ پالشی ان کی مہارت ہے۔ پاکستان کی عوام جن چہروں کو مسترد کر چکی ہے ان کو حکومت دے کر فوج نے اپنی ساکھ تباہ کر لی ہے اور عوام میں نفرت پیدا کی ہے۔ اس جعلی نظام کی بقاء صرف تحریک انصاف کو کچلنے اور ہمارے لوگوں کو جیلوں میں رکھنے میں ہے تاکہ اردلی حکومت ق��ئم رہے اور انتخابی فراڈ سامنے نہ آئے۔ آپ کوئی بھی سروے کروا کر دیکھ لیں آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ عوام اور فوج کے درمیان خلیج کس قدر بڑھ چکی ہے۔ 1/2
معتبر ذرائع اور دستیاب ٹھوس شواہد کے مطابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کے سیکریٹری اور انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی سے نکالے گئے ڈاکٹر مشتاق سپریم کورٹ کو بھرپور انداز میں استعمال کرتے ہوئے یونیورسٹی سے خوب بدلہ لے رہے ہیں۔
دسمبر 2023 میں بطور ایک رکن بورڈ آف ٹرسٹیز شریک ہوتے ہوئے چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے صدر مملکت عارف علوی اور بینالقوامی یونیورسٹیوں کے سربراہان کی موجودگی میں یونیورسٹی کے سعودی صدر اور ریکٹر ڈاکٹر ثمینہ ملک اور یونیورسٹی کے ماتحت اہلکاروں کو باری باری بلا کر اُن سے بھی بدزبانی اور بدسلوکی کی۔
صدر عارف علوی تو بزدلی کا مظ��ہرہ کرتے ہوئے خاموش رہے مگر ویڈیو لنک پر موجود سعودی اور دیگر یونیورسٹیوں کے سربراہان نے انہیں سمجھانے کی کوشش کی کہ یہ اسلامک یونیورسٹی کے بورڈ آف ٹرسٹیز کی میٹنگ ہے نہ کہ اُنکی سپریم کورٹ، اسکے باوجود قاضی صاحب اس حد تک بدتمیزی پر چلے گئے کہ خود کو محض رکن بورڈ کی بجائے چیف جسٹس تصور کرتے ہوئے حراسیگی کا الزام لگانے والی ایک خاتون کو بھی کمرے کے باہر سے بلوا کر بین القوامی یونیورسٹیوں کے سربراہان کے سامنے نام لیکر پیش کر دیا-
��ونیورسٹی کے سعودی صدر پر طنز کرتے رہے اور اس حد کہہ دیا کہ وہ یہ الزامات سعودی شھریوں پر نہیں بلکہ یونیورسٹی کے بدعنوان پاکستانی افسران پر لگا رہے ہیں۔ اسلامک یونیورسٹی کی انتظامیہ کیطرف سے تین سال تک بورڈ کا اجلاس نہ بلانے پر ریکٹر ڈاکٹر ثمینہ کی کھلے عام بے عزتی کی جس پر سعودی یونیورسٹیوں کے سربراہان نے بھی ناراضگی کا اظہار کیا۔
آج سرکاری یونیورسٹیوں میں اعلیٰ عہدوں پر عدم تعیناتی کا کیس خود ہی سنتے ہوئے جب اسلامک یونیورسٹی کے وکیل سینئیر ایڈوکیٹ سپریم کورٹ روحان الدین نے مزکورہ بالا واقعات کی روشنی میں چیف جسٹس کی بنچ پر موجودگی پر تحریری اعتراض کر دیا تواعتراضات پر سماعت کرنے اور دلائل سننے کی بجائے چیف جسٹس آگ بگولہ ہو گئے اور توہین عدالت کی کاروائی اور لائسنس معطلی کی دھمکی دے ڈالی، ساتھ ہی پوچھا کے ریکٹر ڈاکٹر ثمینہ کدھر اور کیوں نہیں آئی، جس پر وکیل کی طرف سے پیش کردہ میڈیکل سرٹیفیکیٹ پر ڈاکٹر ثمینہ ملک کی بجائے ثمینہ یاسمین لکھا ہونے کے باعث ایمبولنس اور ویل چئیر پر ڈاکٹر ثمینہ کو عدالت میں فوری پیشی کا حکم دیتے ہوئے سماعت میں وقفہ کر دیا۔
غصہ اس بات کا بھی ہے کہ یونیورسٹی بورڈ کے بین القوامی ممبران نے چیف جسٹس کے اِس شرمناک روئیے کے باعث اُس اجلاس کی تمام کاروائی اور اُس کے منٹس مسترد کر دئیے ہیں اور اب لگتا یہ ہے کہ موصوف جج کی ریٹائرمنٹ تک اجلاس بھی بلانے سے انکاری ہیں۔
جس جس کو اغوا کیا گیا ہے یا کسی کا کاروبار بند کیا ہے یا کسی بھی قسم کی دھمکی دی گئی ہے اسکو پھر بھی سٹینڈ لینا چاہئیے کیونکہ اگر یہ آئینی ترمیم نہ کرسکے تو حکومت گھر جائے گی نظام بدلے گا صرف کچھ ہفتوں کی گیم رہ جائے گی خدارا ملک کا سودا مت کریں یہ 71 سے بڑا سانحہ ہوگا
ہمارے کچھ ایم این ایز کے بکنے کی خبریں چل رہی ہے کچھ کہ ہمارے پاس ثبوت بھی موجود ہے جو وقت آنے پر دکھائیں گے لیکن میں یاد دلاتا ہوں کہ آپ نے ووٹ عمران خان کے نام پہ لیا ہے اگر ایسی کوئی غلطی کی تو ہم یوتھ اور ورکرز آپ کے گھروں اور ہجروں کا محاصرہ کریں گے انشااللہ
سپریم کورٹ کے وضاہتی بیان کے بعد سب سے بڑا ڈاکو تو الیکشن کمیشن ہی نکلا جس کی بد فعلیؤں کی فہرست مزید تویل ہوگئی۔
وہ کیا کہانی ہے کہ۔۔۔ گاوں میں ایک غلیز جانور کوویں میں گر کر مَر گیا اور لوگ سیکڑوں بالٹیاں گندے پانی کی نکالتے رہے مگر بدبو نہیں گئی۔ پھر ایک سپریم کورٹ کے جج جتنے سیانے نے مشورہ دیا کہ جب تک کُتّا نہیں نکالو گے کوواں پاک نہیں ہوگا۔
سکندر سلطان راجہ اور اُسکے ہینڈلرز نے اِس ملک کو جتنا نقصان پہنچایا شای�� ہی کسی اور نے تاریخ میں اِس سے زیادہ بگاڑ کو جنم دیا ہو۔
The Supreme Court in clarification of their verdict have stated that:
“Leaves in little doubt that the clarification sought by the Commission … is nothing more than a contrived devise and the adoption of dilatory tactics, adopted to delay, defeat and obstruct implementation of the decision of the Court….
“the attempt of the Commission to confuse and cloud what is otherwise absolutely clear as a matter of the Constitution and the law must therefore strongly deprecated….
“Nonetheless, the continued failure of, and refusal by, the Commission to perform this legally binding obligation may, as noted, have consequences.”
This is beyond the original verdict in which the Commission was reprimanded strongly for misinterpreting the already biased & wrong SC decision depriving PTI of the bat symbol and said that ECP went a step further and removed PTI as a party too.
سکندر سلطان راجہ ! آرٹیکل 6 آپکا انتظار کر رہا ہے۔ ہم بھاگنے نہیں دیں گے۔ قانون کے مطابق سزا ضرور پاؤ گے۔
☀️ The #SUNWAVES Token is set to transform the festival experience through blockchain technology.
👉 https://t.co/sd0WIGUShb
🎁 Sign up today and receive 500 $SW Tokens as a welcome gift!
🌟 Part of the @ice_blockchain#ION Ecosystem
#SWToken#CryptoCommunity #FestivalExperience
☀️ The #SUNWAVES Token is set to transform the festival experience through blockchain technology.
👉 https://t.co/sd0WIGUShb
🎁 Sign up today and receive 500 $SW Tokens as a welcome gift!
🌟 Part of the @ice_blockchain#ION Ecosystem
#SWToken#CryptoCommunity #FestivalExperience
IT’S XYRO SEASON! 👾
⚡️ TESTNET IS LIVE [https://t.co/t5aUX8CMMH]
Detailed guide: https://t.co/XUVbiSPBGw
🔮 XYRO PORTAL [https://t.co/rVt8Mra4am]
Rank up points and claim your share of our expanding Competitive Airdrop Prize Pool!
Join the action and be part of the future!