افسوسناک
نارووال میں پولیس چھاپے کے دوران تحریک انصاف کا ورکر یاسر ملہی جان کی بازی ہار گیا
پاکستانیو ان ظالموں کے خلاف اب بھی نہ نکلے تو ایسے ہی ایک ایک کر کے سب ناحق مارے جاو گے۔
إنّا لله وإنّا إليهِ رَاجعُون
نارووال، بدوملہی میں 24 نومبر کے احتجاج پر پی ٹی آئی ورکر یاسر ملہی کے گھر پنجاب پولیس نے غیر قانونی چھاپا مارا، گرفتاری سے بچنے کی کوشش میں یاسر ملہی چھت سے گر کر شہید ہو گئے، اس خون ناحق کی زمہ دار اسٹیبلشمنٹ، محسن نقوی شہباز شریف، مریم نواز ہے۔
فسطائیت اور ظلم کی انتہا!
عوام کی خدمت کے بجائے عسکری ٹولے کی غلامی کرنے والی پولیس نے چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے یاسر ملہی کے گھر پر چھاپہ مارا۔ گرفتاری سے بچنے کی کوشش کے دوران یاسر ملہی چھت سے گر کر شہید ہو گئے۔
خدا جانے یہ ریاست اور کتنے بے گناہوں کی جان لے گی!
#UndeclaredMartialLaw
#نومبر24_خان_کی_کال
“ہمارے تین مطالبات ہیں:
26ویں آئینی ترمیم کا خاتمہ اور آئین کی بحالی
مینڈیٹ کی واپسی
تمام بےگناہ سیاسی قیدیوں کی رہائی
24 نومبر کا احتجاج نہ مؤخر ہو گا نہ معطل ہو گا-
آج علی امین گنڈا پور اور بیرسٹر گوہر نے احتجاج کی تیاریوں پر بریفنگ دی- میں ��پنے پارٹی عہدیداران، ممبران اسمبلی، ٹکٹ ہولڈرز، ورکرز اور سپورٹرز کو یہ ہدایت کرتا ہوں کہ احتجاج کی جامع منصوبہ بندی کریں اور اپنے حلقے اور علاقے کے لوگوں کو اس کے حوالے سے مکمل آگہی دے کر ایک بھرپور لیکن پرامن احتجاج کے لیے تیار کریں۔
ہم ملک کی خاطر ہمیشہ مذاکرات کے لیے تیار ہیں- جس دن احتجاج کی کال دی تھی اسی دن لیڈرشپ کمیٹی بھی تشکیل دے دی تھی- مذاکرات جب کرنے ہونگے جس سے بھی کرنے ہوں گے، ہینڈلرز جس کسی کو آگے کریں گے ہماری لیڈرشپ کمیٹی ان سے ہمارے تین مطالبات کے مطابق مذاکرات کرے گی- اگر مسائل مذاکرات سے حل ہوتے ہیں تو اسے اچھی بات کیا ہوسکتی ہے!!
ملک میں کئی ��ہائیوں بعد نظریاتی سیاست واپس آگئی ہے- 1985 میں غیر جماعتی انتخابات کراکے نظریاتی سیاست کا جنازہ نکالا گیا تھا اور تب سے سیاست میں پیسہ چلنا شروع ہوا، غیر جماعتی بنیادوں پر سیاست ہوئی اور ممبران اسمبلی کو ترقیاتی فنڈز ملنے شروع ہوئے- 8 فروری کے بعد تحریک انصاف بطورِ نظریاتی جماعت ابھر کر سامنے آئی ہے- لوگوں نے پارٹی ٹکٹ اور نظریے کو ووٹ دیا ہے- الیکٹیبلز کی سیاست ختم ہونا خوش آئند بات ہے- تحریک انصاف کے تمام لوگ پارٹی ٹکٹ پر جیتے ہیں کیونکہ یہ نظریے کی لڑائی تھی- میں خود بھی نظریے کی وجہ سے جیل میں ہوں-
ڈاکٹر یاسمین راشد ایک بیان دیتیں تو وہ بھی عندلیب عباس کی طرح باہر آ جاتیں، شاہ محمود قریشی ایک بیان دیتے تو وہ بھی باہر آ سکتے تھے، عمر سرفراز چیمہ، اعجاز چوہدری اور میاں محمود الرشید سمیت ہمارے لیڈرز اور کارکنان بھی آسان راستے کا انتخاب کر سکتے تھے لیکن انہوں نے نظریے کا سودا کرنے سے انکار کیا- اب ہماری جماعت انقلابی جماعت بن چکی ہے، انقلاب ہی ملک کو مسائل اور دلدل سے نکال سکتا ہے-
24 نومبر کو جو ��اہر نہ نکلا وہ پارٹی سے باہر ہو جائے گا، پارٹی میں چاہے کوئی کتنا بھی پرانا ہو، باہر نہ نکلا تو اسکی پارٹی میں کوئی جگہ نہیں ہوگی- یہ احتجاج ٹیسٹ ہے پارٹی اور پارٹی لیڈرز کیلئے- مطالبات کی منظوری تک احتجاج اسلام آباد سے واپس نہیں جائے گا!“
سابق وزیراعظم عمران خان کی اپنے وکلأ اور صحافیوں سے گفتگو
سابق وزیراعظم عمران خان کے اڈیالہ جیل میں صحافیوں کے سوالات کے جوابات:
"ہمارا احتجاج بالکل مؤخر یا معطل نہیں ہو گا۔
اگر مذاکرات میں ہمارے تین مطالبات کے حوالے سے بات ٹھوس انداز میں آگے بڑھتی ہے تو اسلام آباد میں ہمارا احتجاج celebrations میں بدل جائے گا۔ جمعے سے ہمارے قافلے 24 نومبر کے احتجاج کے لیے نکلنا شروع ہو جائیں گے!
تالی دو ہاتھوں سے بجتی ہے۔ ہم نے احتجاج اور مذاکرات کے لیے اپنا تین نکاتی ایجنڈا دیا ہوا ہے۔ جب دوسری پارٹی اپنے نکات سامنے رکھے گی تو بات کریں گے۔ مذاکرات ان کے ساتھ ہوں گے جن کے پاس طاقت ہے۔ اب آپ خود سوچ لیں کہ طاقت کس کے پاس ہے؟
فروری کے بعد میں نے دو کالز دی ہیں۔ چار اکتوبر کو صرف اپنی پارٹی کو نکلنے کی کال دی اور چوبیس نومبر کو پوری قوم کو نکلنے کی کال دی ہے۔ کیونکہ یہ پاکستان کی بقا اور حقیقی آزادی کی تحریک ہے-
ملک آئین کے تحت نہی�� چلایا جا رہا۔ اگر ملک آئین کے مطابق چلتا تو ملک کی سب سے بڑی جماعت کو نشانہ نہ بنایا جاتا۔
تحریک انصاف کو الیکشن سے باہر رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی۔ ہمارا نشان تک چھین لیا گیا اس کے باوجود ہم 8 فروری کو ہونے والا الیکشن دو تہائی اکثریت سے جیتے۔ الیکشن فراڈ کو ہوئے ہوئے دس مہینے گزر گئے ہیں اتنا عرصہ گرنے کے باوجود الیکشن ٹربیونلز نے اور خصوصاً پنجاب میں کتنے کیسیز کا فیصلہ کیا ہے؟
ہمارے ورکرز اور رہنماء ڈیڑھ سال سے جھوٹے مقدمات میں بغیر کسی ثبوت کے جبر کا سامنا کر رہے ہیں۔ انکی ضمانتیں کیوں نہیں لی جاتیں؟
کہا جاتا ہے کہ میں نے فوج پہ حملہ کرنے کی بات کی۔ میری ویڈیوز موجود ہیں میں نے کبھی کسی پہ حملہ کی ترغیب نہیں دی۔ جب نو مئی کو رینجرز کی طرف سے مجھے غیر قانونی طور پہ اغوا کیا گیا تو اس کے مناظر عوام کے سامنے آئے جس پہ ردعمل آیا۔ میں تو ان کی تحویل میں تھا، مجھے کیسے علم ہوتا کہ باہر کیا کیا ہوا؟
نہتی عورتیں، بچے فوج پہ کیسے حملہ آور ہو سکتے ہیں؟ کیا یاسمین راشد ٹینک پہ سوار تھیں جو انہوں نے کور کمانڈر ہاؤس پر حملہ کر دیا؟ ان کی ویڈیوز بھی موجود ہیں جن میں مسلسل پرامن رہنے کی تلقین کر رہی ہیں-
صرف ملٹری آپریشن کسی مسئلے کا حل نہیں ہوتا۔ اس کے ساتھ ساتھ Political Engagement ہونا لازم ہوتا ہے- ملک میں صرف ��حریک انصاف ہی واحد وفاقی پارٹی ہے جو کہ دہشت گردی کے مسئلے سے سیاسی طور پہ نبرد آزما ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
ملک کو صرف عوامی مینڈیٹ رکھنے والی سیاسی قوتیں ہی اکٹھا رکھ سکتی ہیں۔"
The ideology behind an initiative does matter. When it comes to a political party’s ideology in a democratic country, it should solely serve and strengthen democracy. However, consider why the PPP and PML-N were created. They continue to serve the ideology they established from the very first day of their creation. PPP and PML-N: these two parties and their leaders have no right to call themselves democratic parties. They were created to help facilitate unconstitutional processes in the country and benefit from the system. Decades later, these two chairpersons are still doing the exact same thing today.
#مارشل_آئینی_ترامیم_نامنظور
بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کا اڈیالہ جیل سے پیغام؛
۱-
قابض مافیا اور اس کے ہینڈلرز ملکی مفاد سے قطع نظر صرف اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ عدلیہ کی آزادی پر حملہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ ملک میں تمام اداروں کو تباہ کر دیا گیا ہے۔ ایک سپریم کورٹ بچا ہے جوقوم کی آخری امید اور سہارا ہے۔ قوم کی اس آخری امید کو آئینی ترمیم کے ذریعے ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور ایک مرتبہ پھر من پسند شخص کو ایکسٹینشن دینے کے لیے پورے ادارے اور ملک کے نظام کو داؤ پر لگایا جا رہا ہے۔ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور انتخابی فراڈ کی شفاف تحقیقات سے بچ نکلنے کے لیے نئی آئینی ترامیم کی ذریعے قاضی فائز عیسیٰ کو لانے کی کوشش کی جا رہی۔ ۲۰ سے کم سیٹیں جیتنے والی نون لیگ عدلیہ پر بالکل اسی طرز کا حملہ کرنے کی تیاری کر رہی ہے جس طرح مسلم لیگ ن کی حکومت نے 1997 میں ڈنڈوں سے سپریم کورٹ پر حملہ کر دیا تھا۔ فرق صرف یہ ہے کہ اب کی بار حملہ عدلیہ کے اختیارات سلب کرکے کیا جا رہا ہے۔
لیکن میں آج ایک بات واضح کرنا چاہتا ہوں کہ پوری قوم عدلیہ کے پیچھے کھڑی ہے۔ عوامی مینڈیٹ سے عاری فارم 47 کی حکومت نے اگر آئینی ترمیم کے ذریعے عدلیہ کو اپنے تابع کرنے کی کوشش کی تو پوری قوم جانتی ہے کہ عدلیہ کی حفاظت کیسے کرنی ہے۔ اگر یہ سمجھتے ہیں کہ ہم چپ کر کے بیٹھ جائیں گے تو یہ ان کی بھول ہے ہم کسی صورت اس کو قبول نہیں کریں گے ۔ آئینی عدالت کا جو شوشہ انہوں نے چھوڑا ہے اس پر میں یہ واضح کر دوں کہ پاکستان تحریک انصاف ہر صورت ملک کی عدلیہ کے ساتھ کھڑی ہو گی۔ ہم ملک بھر میں بھرپور احتجاج کی کال دیں گے۔
۲-
مجھ پر حمود الرحمان کمیشن رپورٹ کی ٹویٹ کی ایف آئی آر کاٹ دی گئی ہے تو ساتھ میں ان کو چاہیے کہ یہ حمود الرحمان کمیشن رپورٹ بھی قوم کو پڑھ کر سنا دیں۔اگر حمود الرحمان کمیشن رپورٹ پر عمل کر لیا جاتا تو پاکستان میں کبھی مارشل لا نہ لگتا۔ اس وقت بھی ملک میں غیر اعلانیہ مارشل لاء نافذ ہے۔ ن لیگ اور پیپلز پارٹی پارلیمانی سیاست نہیں بلکہ کٹھ پتلیوں کی طرح چند اشخاص کے اشاروں پر ناچ رہی ہیں۔ ووٹ کو عزت دو کا کہہ کر بوٹ کو عزت دی جا رہی ہے۔
یہ مکمل طور پر قوم کو غلام بنانے جا رہے ہیں۔سپیکر کی مرضی کے بغیر پارلیمنٹ سے لوگوں کو کیسے اٹھایا جا سکتا ہے۔آج جو ہمارے ساتھ ہو رہا ہے کل ان کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے۔ پارلیمنٹ سے آج تک کسی کو نہیں اٹھایا گیا۔ شہباز شریف کو منی لانڈرنگ کیس میں سزا ہونے والی تھی باجوہ نے اس کو بچا لیا۔شہباز شریف پر منی لانڈرنگ کا ثابت شدہ کیس تھا۔منی لانڈرنگ کے کیس کے علاوہ شہباز شریف ، نواز شریف اور اسحاق ڈار پر تمام کیسز پرانے تھے۔ ہمارے دور میں رانا ثنا اللہ پر اے این ایف نے کیس بنایا تھا۔ ہمیں کیا پتہ تھا کہ رانا ثنا اللہ سے منشیات پکڑی گئی ہے ۔ اے این ایف کا سربراہ میجر جنرل تھا۔میں نے اے این ایف کے سربراہ کو بلایا اور اس سے پوچھا تھا۔ اس نے آ کر کابینہ کو بریفنگ دی تھی اور رانا ثنا اللہ کے کیس سے متعلق ثبوت پیش کیے تھے ۔ انھوں نے ہی ہمیں بتایا تھا کہ رانا ثنا اللہ سے منشیات پکڑی گئی ہے ۔ ہم سے پہلے کسی میں جرات نہیں تھی کہ ان کو بلا کر کابینہ کے سامنے اپنے ہی مخالفین کے بارے میں یہ سوال پوچھا جائے کہ آپ نے ان پر منشیات کا یہ کیس کیوں بنایا۔۔صحافی مطیع اللہ جان کو جب اٹھایا گیا تھا تو اس کو میں نے چھڑوایا۔
۳-
جلسہ کرنا ہمارا جمہوری اور آئینی حق ہے۔ اجازت ملے یا نہ ملے، 21 ستمبر کو ہم ہر صورت لاہور میں جلسہ کریں گے۔ اسلام آباد میں رکاوٹیں کھڑی کی گئیں مگر اسکے باوجود لوگ نکلے۔ پنجاب کیا پولیس اسٹیٹ بن گیا ہے جو ہمیں جلسہ نہیں کرنے دیا جائے گا۔ ہم پارٹی کو سٹریٹ موومنٹ کے لیے تیار کر رہے ہیں۔ میں اپنی قوم اور پارٹی کو کہہ رہا ہوں کہ تیاری کریں۔ جو بھی ہوگا اس کا ذمہ دار موجودہ رجیم ہو گا۔
جب آزادی کی جنگ ہوتی ہے تو قربانیاں دینا پڑتی ہیں۔میں جیل میں سوا سال سے ناحق قید ہوں کیا یہ کوئی قربانی نہیں؟ میں لا اله الا الله پر یقین رکھتا ہوں۔ میں جان کی قربانی کے لیے بھی تیار ہوں لیکن کسی کی غلامی قبول نہیں کروں گا۔ قوم سے بھی کہتا ہوں کہ ان کی غلامی ہرگز قبول نہیں ک��نی۔
کورکمانڈر ہاؤس لاہور جس پر جناح ہاؤس کی عمارت کھڑی کھڑی کرکے بیانیہ پھیلایا گیا ۔۔ ایک میجر کا خط جس میں وہ قائداعظم جو اسکے مالک تھے انہیں یہ جگہ دینے سے انکار کیا گیا
عمران خان کی بہن علیمہ خان کے پریشان کن انکشافات کے مطابق:
"ہمارے خاندان نے آج صبح اڈیالہ میں القادر جیل ٹرائل میں شرکت کی۔ ہم اڈیالہ سے تقریباً 2:10 بجے روانہ ہوئے۔ گزشتہ چند دنوں سے جیل انتظامیہ کی کارروائیاں جاری ہیں۔ جیل کی کمرہ عدالت میں اضافی پابندیاں لگا دی گئیں ہیں، اضافی پولیس اہلکار موجود ہیں، ڈی ایس پی طاہر شاہ جان بوجھ کر عمران خان کے ساتھ بدتمیزی کر رہے ہیں۔ آج ڈی ایس پی طاہر نے 3 یا 4 میڈیا والوں کو عمران خان سے کوئی سوال کرنے کی اجازت نہیں دی۔ کچھ دیر پہلے ہمیں اڈیالہ کے باہر عجیب و غریب حالات کی اطلاع ملی۔
1) کیا اڈیالہ میں کوئی ہائی الرٹ ہے؟
2) جیل کے احاطے کے باہر کئی سادہ لباس اہلکار کیوں موجود ہیں؟
3) بغیر شناخت کے متعدد گاڑیاں اڈیالہ جیل میں جا چکی ہیں، کس لیے؟
4) اڈیالہ کے باہر پولیس اہلکار اڈیالہ کے سامنے سڑک پر گزرنے والی تمام گاڑیوں اور لوگوں کی چیکنگ کر رہے ہیں۔ کیوں؟
عمران خان جب اڈیالہ جیل میں ہیں تو ان کی حفاظت کی سو فیصد ذمہ داری آئی ایس آئی کے کرنل اور میجر کی ہے۔"
https://t.co/DcX30O5tud
#عمران_خان_کیلئے_آواز_اُٹھاو
#عمران_خان_کی_جان_کو_خطرہ