مسکین کو دے کر خود پانی سے افطار کیا۔
پماری تعلیمات ایسی نہیں تھیں۔ جس طرح کا ہمارا معاشرہ ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں صحیح معنوں میں رمضان المبارک کی لذت سے آشنا کرے۔ آمین
دعاگو: ابنِ سکندر
لندن کے ایک ریسٹورنٹ کے مالک نے ماہ رمضان کے آتے ہی اپنے مسلمان بہروں(ویٹرز) کو ایک ماہ کی چھٹی دے دی اور کہا کہ " آپ کی تنخواہیں آپ کو گھر بیٹھے مل جائیں گئیں۔ بعد ازاں معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ ایسا کیوں کیا تو ریسٹورنٹ کے مالک نے کہا کہ " مجھے اچھا نہیں لگتا کہ یہ روزے سے ہوں
حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے کہ " بھوکے مسکین کے پیٹ میں ایک لقمہ پہنچانا ایک ہزار مساجد کی تعمیر سے بہتر ہے۔
حضرت معین الدین چشتی ا��میری رحمۃ اللّٰہ نے افطاری کے لیے ایک انار بچا کر رکھا ہوا تھا۔ دروازے پر مسکین نے صدا لگی۔ آپ نے وہ انار