اس قدر ابتر حالات پیدا کر دیے گئے ہیں کہ کشمیر کے حق میں محض آواز بلند کرنے پر صحافی وقاص جاوید صاحب کے گھر پولیس داخل ہوئے انہوں نے گھر کا سامان تہس نہس کیا اور اہلِ خانہ کو ہراساں کیا یہ نظام اس قدر گھٹن زدہ ہو چکا ہے کہ اگر کوئی معمولی سی بات بھی کرے تو اس کے خلاف فوری کارروائی عمل میں لائی جاتی ہے
یہ نہایت شرم ناک صورتحال ہے
قاضی گیا۔ اب مسرت ہلالی گئیں۔ ایسے ہی باقی لوگ عہدوں سے جائیں گے یا فوت ہو جائیں گے۔۔ دیکھنے اور سیکھنے کی بات یہ ہے کہ آپ کی رخصتی پر لوگ آپ کو کن الفاظ میں یاد کر رہے ہیں۔ آپ کو انصاف کا علمبردار سمجھتے ہیں یا انصاف کا قاتل۔ فیصلے کے لیے اب تاریخ کے انتظار کی بھی ضرورت نہیں۔
ہمارا بھائی قید میں ہے ہمیں ان لڑائی جھگڑوں سے کوئی کام نہیں، وہ ناحق ناجائز قید میں ہے ہم خاموش نہیں بیٹھیں گے، ہمارا فوکس صرف عمران خان پر ہے۔ علیمہ خان
یہ اس ملک کے ایک صوبے کی ہائیکورٹ کا چیف جسٹس کہہ رہا ہے
میں نے اپنے آپ پر بڑا جبر کیا، اپنے بچوں پر کیا، فیملی پر کیا لیکن آپ کے اس بھائی کو کوئی خرید نہ سکا، پشاور ہائیکورٹ کے سابق چیف جسٹس ابراہیم خان
اسلام آباد ہائیکورٹ کے پانچ ججز نے اس پر باقاعدہ رپورٹ کیا مگر بجائے اس پر سپریم کورٹ کوئی ایکشن لیتی ان ججز پر ایک ٹاؤٹ مسلط کر دیا اور ان کے تبادلے کر دئے گئے
ایسے ملکوں میں کون انویسٹمنٹ کریگا
سبین یونس جو پاکستانِ تحریک انصاف کی نہایت سرگرم اور ثابت قدم کارکن نیز سماجی ذرائع ابلاغ کی مؤثر شخصیت ہیں انہیں گرفتار کر لیا گیا ہے
اس گرفتاری کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے
"اقوامِ متحدہ نے بھی ان کی حمایت میں آواز اٹھائی اور کہا کہ یہ من مانی گرفتاری ہے اور یہ حراست تشدد کے مترادف ہو سکتی ہے۔ " قاسم خان کی کرسٹیان امان پور سے گفتگو
خبر کا سورس لنک جاننے کیلئے QR Code سکین کریں۔۔
کوٹ لکھپت میں شاہ محمود ڈاکٹر یاسمین اعجاز چوہدری عمر چیمہ اور محمود رشید صاحب موجود ہیں ہفتے میں دو سے تین دفعہ ان کا جیل ٹرائل ہوتا اور وہاں پر کوئی بھی وکیل جا کے ان سے ملاقات کر سکتا ہے تو کوئی بھی بڑا فیصلہ کرنے سے پہلے ان کی بھی رائے ضرور لینی چاہیے سیاسی لوگ نہیں جا سکتے لیکن وکلا مل سکتے ہیں تو ان کے ذریعے اپ اپنا پیغام بھیج سکتے ہیں اور اس پر ان کی رائے لی جا سکتی ہے اور لینی بھی چاہیے کیونکہ وہ سب تجربہ کار سیاست دان ہیں وہ اپ کو ان حالات میں بہتر مشورہ دیں گے
بیرسٹر سلمان صفدر نے اڈیالہ جیل سپرنٹنڈنٹ کی رپورٹ مسترد کر دی۔
انہوں نے کہا کہ اڈیالہ جیل کی آج کی رپورٹ "فیک" اور گمراہ کن ہے، کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ عمران خان کو اپنی قانونی ٹیم سے بھی ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
انہوں نے عدالت کو بتایا کہ علیمہ خان گزشتہ دس ماہ میں تقریباً چالیس مرتبہ ہر منگل اڈیالہ جیل گئیں، مگر ہر بار ملاقات سے محروم رہیں۔
بیرسٹر سلمان صفدر کے مطابق عمران خان کسی دہشت گردی یا آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے مقدمے میں ملزم نہیں، جبکہ سائفر کیس میں بھی بری ہو چکے ہیں، اس لیے ملاقاتوں پر پابندی کی کوئی قانونی یا قومی سلامتی کی بنیاد موجود نہیں۔
شبر زیدی۔ پاکستان کا سب سے بڑا جرم ساہیوال کول پاور پلانٹ ہے۔ اسکا کوئلہ کراچی سے آتا ہے اور ساہیوال میں بجلی بننا تھی۔ کسی نے پوچھا آپ نے یہاں کیوں لگایا پلانٹ تو شہباز شریف نے کہا میں چاہتا ہوں پنجاب میں بجلی بنتی نظر آنی چاہیے۔ اب اس سمیت سی پیک کے پانچ پلانٹ بند پڑے ہیں.
کیا عمران خان کو کوئی Regret ہو گا ؟ اینکر کا سوال
عمران خان جس قسم کے انسان ہیں انہیں کسی قسم کا Regret نہیں ہو گا جب بھی کوئی عمران خان سے مل کر آیا اور عمران خان کا ٹویٹ آیا وہ پہلے سے سخت ہی ہوتا تھا اور شائید یہ ہی وجہ ہے کہ عمران خان سے ملاقاتیں بھی بند ہیں ۔
قاسم خان
اگر اپ چاہتے ہیں کہ 27 کو لانگ مارچ کامیاب ہو تو وقت ضائع کیے بغیر پشاور میں بیرسٹر گوہر اور سلمان اکرم راجہ صاحب ایک میٹنگ کال کریں جس میں سہیل افریدی بابر سلیم سواتی اسد قیصر عاطف خان جنید اکبر خرم ذیشان علی امین شاہد خٹک معین قریشی حلیم عادل شیخ قیوم نیازی سلار بھائی اور زوم پر مراد سعید شیخ وقاص خالد خورشید قاسم سوری احمد خان نیازی عمر ایوب صاحب اور ان کے علاوہ کوئی اور جو اہم عہدے پر ہے مل کر بیٹھیں چاہے دو دن لگیں تمام گلے شکوے دور کریں اور مل کر خان صاحب کی رہائی کے لیے ایک سٹریٹجی بنائیں جس پر سارے متفق ہوں کیونکہ کوئی ایک یا دو گروپس یہ کام نہیں کر سکتے اور کسی ایک بندے پر ساری ذمہ داری نہ ڈالے جیسے پہلے کیا گیا تھا اور سارے مل کر فیصلے کریں سب مل کر گلے میں گھنٹی باندھیں گے تو وزن ڈیوائڈ ہو جائے گا اور اس کے ساتھ پورے ملک میں میرٹ پر تنظیمیں لگائیں اور اس کو مکمل کریں
لفظ کاکروچ استعمال نہیں کرنا۔ جنرلز نے نئے احکامات دے دئیے ہیں کہ ٹی وی پر کسی اینکر اور مہمان کے بھی لفظ کاکروچ استعمال کرنے کی پابندی لگا دی گئی۔
مطلب انہیں نوجوانوں سے اتنا خوف۔ پہلے کبھی نہیں دیکھا۔
کیا 5 اگست کو "یومِ عمران خان" قرار نہیں دیا جانا چاہیے، تاکہ عمران خان اور اُن کی اہلیہ کی قید اور اُن پر ہونے والے ظلم و ستم کو تسلیم کیا جا سکے، جو صرف اس لیے برداشت کرنا پڑا کیونکہ انہوں نے ریاست سے بالاتر اختیار کو چیلنج کیا؟ عمران خان پاکستان میں مزاحمت کی سب سے نمایاں علامت بن چکے ہیں۔ امیر عباس
#pakistan @ameerabbas84
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
بیرسٹر سلمان صفدر کا بڑا انکشاف !!!
عمران خان کو اڈیالہ جیل حکام نے چھوٹی اور بڑی عید، دونوں کی نماز پڑھنے کی اجازت نہیں دی، بیرسٹر سلمان صفدر کا اسلام آباد ہائیکورٹ کے سامنے انکشاف
لوگوں کے ساتھ جا کر بات کرنی پڑے گی لیکن مسئلہ یہ ہے کہ یہاں کچھ لوگوں کا پاس ایک سے زیادہ عہدے ہیں کچھ لوگ چار چار پانچ پانچ کمیٹیوں میں ہیں اور باقی لوگ گھر بیٹھے ہیں جن کے پاس ایک سے زیادہ عہدے ہیں یا ایک سے زیادہ کمیٹیوں میں ہیں ان کے نام واپس لیں نئے لوگوں کو ایڈ کریں ان کو اونرشپ دیں اپنی پنجاب کی تنظیم میرٹ پر مکمل کریں یہ وہ کام ہیں جو بہت پہلے ہو جانا چاہیے تھے لیکن اب 27 کے حوالے سے اپنی پسند ناپسند سے نکل کر اس پر زور لگانا ورنہ پھر ہم 27 کے بعد بھی یہی باتیں کر رہے ہوں گے جو عہدے کی طاقت ہے اس کا صحیح استعمال کرنا چاہیے اس کو نیچے تک بانٹیں طاقت بانٹنے سے بڑھتی ہے سزا اور جزا کا عمل شروع کریں