18 سال سے مسلسل اقتدار میں موجود پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت کے بادشاہی نظام کا تازہ ترین انکشاف حاضر ہے آج وزیراعلیٰ مراد ع��ی شاہ کے حکومتی دربار میں 19 وزراء، 5 مشیر، 24 معاونین خصوصی اور 14 ترجمان شاملُ ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ سندھ سے دو گنا سے زیادہ آبادی والے پنجاب میں یہ تعداد آدھی سے بھی کم ہے، جبکہ وفاقی حکومت کی کابینہ بھی سندھ کے اس سیاسی لشکر سے پیچھے نظر آتی ہے۔اٹھارویں ترمیم نے اختیارات مرکز سے صوبوں کو دیے تھے، مگر سوال یہ ہے کہ سندھ میں یہ اختیارات شہروں اور اضلاع تک کیوں نہیں پہنچے؟ سیاسی عہدے بڑھتے گئے، مگر پانی، ٹرانسپورٹ، بلدیات اور انتظامی کارکردگی کے مسائل اپنی جگہ موجود ہیں۔آج کے On My Radar میں ہم اسی 18 سالہ حکمرانی کی حقیقت کھول رہے ہیں۔ مکمل شو دیکھنے کے لیے OMR یوٹیوب لنک پر کلک کریں اور پورے پروگرام سے محظوظ ہوں۔ https://t.co/e1EaUKQsUm
اگر آپ نے بجلی پیٹر��ل اور مہنگائی کی وجہ سے موجودہ حکومت کو ووٹ نا دینے کا فیصلہ کیا ہے تو موجودہ اپوزیشن خاص کر پی ٹی آئی کو بھی ووٹ نا دینے کا عہد کریں کیونکہ عوامی مسائل پر وہ مکمل خاموش بلکے حکومت کے ساتھ ہے اور جو جماعت یا لوگ پیٹرول بجلی پر احتجاج کرتے یہ ان کو گالیاں دیتے ٹرول کرتے ہیں
یہ لیاری ہے۔ وہی لیاری جس نے محترم بینظیر بھٹو اور ان کے والد کو منتخب کیا تھا۔ یہ پیپلزپارٹی کا لاڑکانہ سے زیادہ مضبوط گڑھ تھا لیکن سندھ سرکار نے کیا حشر کر دیا ہے۔
کراچی کرچی کرچی ہے۔
پیپلز پارٹی کی سندھ میں 18 سالہ بدحکمرانی کے خلاف کراچی کی چارج شیٹ تیار ہے—اور اس چارج شیٹ کا ہر صفحہ سوال کرتا ہے کہ آخر تین کروڑ شہریوں کا قصور کیا ہے؟2008 سے سندھ پر مسلسل پیپلز پارٹی کی حکومت ہے۔ خزانہ، پولیس، پانی، ٹرانسپورٹ، بلڈنگ کنٹرول، اسپتال، بلدیاتی نظام اور ترقیاتی بجٹ—سب اس کے اختیار میں رہے۔ پھر بھی کراچی پانی ٹینکروں سے خریدتا ہے، پبلک ٹرانسپورٹ کو ترستا ہے، ٹوٹی سڑکوں پر رینگتا ہے اور اسٹریٹ کرائم کے خوف میں جیتا ہے۔کے فور دہائیوں بعد بھی ادھورا، سیف سٹی نامکمل، ریڈ لائن شہریوں کے لیے عذاب، نکاسیٔ آب تباہ اور غیر قانونی تعمیرات کا جنگل پھیلتا جارہا ہے۔ سرکاری اسپتالوں میں استعمال شدہ سرنجوں کا معاملہ نظامِ صحت پر مزید سنگین سوال اٹھاتا ہے۔آج On My Radar میں کراچی پیش کررہا ہے پیپلز پارٹی کی 18 سالہ حکمرانی کے خلاف اپنی مکمل Charge Sheet۔اس دھماکہ خیز OMR کو دیکھنے کے لیے YouTube لنک ضرور کلک کریں https://t.co/63orientDx
ایک ایک نوکری دس دس لوگوں کو بیچی اور وہ بھی جعلی اپائنٹمنٹ لیٹر پر
بدین سے انتظامی یونٹ اور چھوٹے صوبوں کے خلاف یہ بھی ایک ریزن ہے اگر اہل لوگ سامبےچآئیں گے تو پھر نسل پرست سندھ توا جماعت پیپلزپارٹی ایسے scam کیسے چلائے گی۔
تھرپارکر سندھ کے سرکاری اسپتال میں تین ہفتوںیں 45 نومولود بچوں کی اموات۔۔۔ کوئی بھولڑو انکم سپورٹ ٹیم صدر پاکستان کی بہن سے استعفیٰ مانگتی نظر آئے تو بتائیے گا ۔۔
ملیر کراچی میں پولیس نے بچے کو تشدد کرکے کرنٹ دے کار مار ڈالا، بہادر ماں نے پولیس افسر کا گریبان پکڑ لیا کہ مجھے بچہ واپس چاہیے. جس پر گزرتی ہے اسے کرب کا اندازہ ہوتا ہے. اک ماں کی گود اجڑ گئی، اس پہ اور اہل خانہ پر کیا بیت رہی ہوگی؟ کراچی میں آئے دن بچے زیادتی کے بعد اور بچے یا نوجوان پولیس کے ہاتھوں مارے جارے ہیں
کراچی کو برباد کرنے والوں نے اس نہج پر پہنچا دیا ہے کہ کوئی اسے ٹھیک کرنا چاہے تو بھی سرکار اسے اپنی مدد آپ بھی کرنے نہیں دیتی۔
دیکھیں حکومت سندھ کا کارنامہ
کراچی میں سندھ حکومت کی بد انتظامی اور 18 سالہ بدترین کارگردگی کے خلاف “غیر سیاسی” احتجاج شروع ہوچکے ہیں۔
کب تک روز کسی کا باپ بھائی یا بیٹا ڈاکووں کی گولیوں کا نشانہ بنتا رہے گا؟
یہ CCTV صرف عوام سے چالان وصول کرنے کیلئے کیوں استعمال ہوتے ہیں؟
کراچی میں روٹین بن گئی آن لائن کاروبار کرنے والوں کو آدھے گھنٹے کے کوئی پارٹی آتی ہے ان کو اغوا کرتی ہے ٹارچر کرتی ہے سارے بنک اکاونٹ خالی کرتی ہے ان کو پھینک کر چلی جات�� ہے، میر رضا کوئی غیر قانونی کام نہیں کر رہا تھا، جبران ناصر ایڈووکیٹ کا خطاب
شارع فیصل پر میر رضا کے انصاف کیلیے احتجاج، 84 سالہ بزرگ بھی ہم آواز بن گئے، نوجوانوں کے عزم کو سراہا اور پُرامن رہنے کا درس دیا
#ZarayeNews#JusticeForMirRaza#MirRazaCase
شہبازشریف بتاؤ آئی پی پیز کی آمدن کا انکم ٹیکس کہاں جاتا ہے۔ یہ عوام پر لیوی لگاتے ہیں، آئی پی پیز کا ٹیکس معاف کرتے ہیں
حافظ نعیم الرحمان کا پشاور میں جماعت اسلامی کے لیوی ختم کرو دھرنا سے خطاب
حکومت ہمارے دباؤ کے باعث ڈیزل 32 روپے کم کر رہی ہے، یہ ہماری کامیابی ہے لیکن یہ ابھی آغاز ہے، دھرنوں کا سلسلہ مزید پھیلانے کا اعلان
18 اگست 2026
کراچی کے شہری سراپا ئے احتجاج!
میر رضا علی کے بہیمانہ قتل کے خلاف اور قاتلوں کی گرفتاری کے لئے روزانہ مظاہرے ہورہے ہیں جس میں بڑی تعداد میں جین۔زی اور عوام شرکت کرہے ہیں۔
#JusticeForMirRazaAli
اداکار شمعون عباسی نے 12 اگست کو میر رضا کیلیے ہونے والے بہادرآباد مظاہرے میں شرکت کے تجربے کو شیئر کرتے ہوئے کہا کہ نوجوان پُرامن اور اُن کا مقصد کسی کو نقصان پہنچانا نہیں بلکہ نظام ٹھیک کرنا ہے، جہاں احتجاج ہورہا ہے وہاں کاروبار کھلے ہیں
#ZarayeNews#JusticeForMirRaza