عمران خان سے 5 اگست کے بعد پہلی ملاقات کا مکمل احوال!
عمران خان نے قرآن کی دو آیات کے ترجمے کے ساتھ صحافیوں سے گفتگو کا آغاز کیا اور کہا میں ہر ملاقات میں نئی قرآن کی آیات بتاؤں گا تاکہ قوم کو ایجوکیٹ کر سکوں۔پھر کہا پارہ نمبر 3 کی آیت 104 میں لکھا ہے خوشحال معاشرہ امر باالمعروف سے بنتا ہے اور پارہ 9 آیت 67 میں لکھا ہے منافق ہمشہ بدی کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے اور اچھائی کی مخالفت کرتا ہے۔میری حکومت کی رجیم چیج بھی منافقت کی ایک نشانی ہے۔ آیات کا حوالہ دینے کے بعد عمران خان نے کہا یہ پاکستان کو میانمار بنانا چاہتے ہیں ملک میں کوئی رول آف لاء نہیں ہے۔ ڈنمارک اور سنگاپور میں خوشحالی اس لیے ہے کیونکہ وہاں قانون کی حکمرانی ہے۔ یہ عدالت لگی ہے دیکھیں جنہوں نے توشہ خانہ سے غیر قانونی طور پر گاڑیاں لی ہیں اور جو سرٹیفائیڈ منی لانڈرر ہیں ان سے کوئی کچھ نہیں پوچھ رہا۔لیکن 20 ملین ڈالر کرپشن میں ایک افس بوائے میرے خلاف گواہ بن کر آیا ہے۔ ملک میں انصاف ختم ہو چکا ہے لوگوں کو اٹھا کر بیانات لیے جا رہے ہیں اور ان کے بچوں کو اٹھایا جا رہا ہے۔ غیر شرعی نکاح کیس پر بات کرتے ہوئے بولے پہلے باپ کو گرفتار کیا گیا اسکے بعد بچوں سے ماں کے خلاف بیان لیا۔ اِنہوں نے معاشرے کو نیچے گرا دیا ہے۔ انتخابی نشان بلے سے متعلق عمران خان بولے ہم سے بلا لے لیا ہمیں ٹی وی پر نہیں آنے دیا جا رہا۔ ہمارے اُمیدواروں کو گندے مندے انتخابی نشانات دیے گئے ہیں۔ سپریم کورٹ نے ہم سے بلا چھینا اور ساتھ JIT بنا دی۔ اسلام ہائیکورٹ سے مجھے ریجرز نے غیر قانونی طور پر گرفتار کیا انکے خلاف بات کریں تو غداری کے مقدمات بن جاتے ہیں۔ الیکشن کمیشن کو کچھ کہیں تو توہین الیکشن کمیشن کا کیس بن جاتا ہے۔ مریم نے اتنا کچھ کہا اس کے خلاف توہین الیکشن کمیشن کا کیس نہیں بنا۔سپریم کورٹ کا کام ہمارے حقوق کی حفاظت کرناہے۔ انٹرا پارٹی انتخابات اور عام انتخابات کے حوالے سے عمران خان نے کہا جس طرح ہم نے انٹرا پارٹی انتخابات کروائے کسی اورجماعت نے نہیں کروائے۔ میں یہ چیلنج کرتا ہوں یہ اپنی فیملی میں الیکشنز نہیں کروا سکتے۔ ٹکٹوں کی تقسیم کے حوالے سے کہا عدالت کے حکم کے باوجود رجسٹر اندر نہیں لانے دیا گیا۔ پلان سی پر کوئی بات نہیں کروں گا ورنہ وی گو ڈالا آ جائے گا۔ مہذب معاشروں میں وی گو ڈالے نہیں آتے۔ جمہوریت کی مضبوطی کے لیے سیاستدانوں کے اتحاد سے متعلق سابق وزیراعظم نے کہاسیاست دان تب اکٹھے ہوں گے جب ان کا قبلہ ایک ہو گا باقی سارے سیاست دان این آر او لے لیتے ہیں۔ نواز شریف پہلے باجوا کو برا بھلا کہتا تھا اب دیکھو این آر او لے کر چپ کر کے واپس آ گیا ہے۔ ان سب نے مل کر مجھے این آر او کے لیے بلیک میل کیا۔ میں جب تک زندہ ہوں لڑتا رہوں گا۔ نواز شریف الیکشن ہارنے کے بعد ملک سے بھاگ جائے گا اسکا نام ای سی ایل میں ڈالنا چاہیے۔ایران کی جانب سے پاکستان کی سر زمین پر میزائل فائر کرنے سے متعلق میرے سوال کے جواب میں عمران خان اپنا رد عمل دیتے ہوئے بولے مجھے نہیں سمجھ آ رہی اس وقت کیا ہو رہا ہےہم نے افغانستان سے متعلق دوحہ میں کانفرنس کروائی بلاول نے بطورِ وزیر خارجہ کابل کا کوئی دورہ نہیں کیاانہوں نے افغانستان اور ایران سے تعلقات خراب کر دیے۔اگر ہم تعلقات خراب کریں گے تو کیا ساری زندگی لڑتے رہیں گے۔ انہوں نے زیادہ محنت پاکستان تحریک انصاف کو ختم کرنے میں لگائی اور خارجہ پالیسی پر کوئی توجہ نہیں دی۔پاکستان کی وسطی ایشیا کے ساتھ تجارت کابل کے زریعے ہی ہونی ہے۔ معیشت پر بات کرتے ہوئے کہا پاکستان کو کسی نے پیسے نہیں دینے معیشت سرمایہ کاری سے ہی بہتر ہو گی۔ملک میں رول آف لاء نافذ ہو جائے تو بیرون ملک مقیم ایک کروڑ پاکستانیوں میں سے پانچ لاکھ اوورسیز پاکستانی سرمایہ کاری کریں تو پاکستان کو کسی کی ضرورت نہیں رہے گی۔ اخر میں قوم کے نام پیغام میں کہا ساٹھ سال سے یہ خاندان مسلط ہیں اب یہ آپ تک ہے آپ نے آزاد ہونا کے یا غلاموں کی طرح زندگی گزارنی ہے۔
حکومتِ پاکستان کی خارجہ پالیسی کے قصیدے توروز پڑھے جاتے ہیں،مگر کارکردگی کا پیمانہ دعوے نہیں بلکہ نتائج ہوتے ہیں۔
اگر سفارتکاری اتنی ہی کامیاب ہےتو پھر پاکستان کوشش کےباوجود اقوامِ متحدہ میں BLA اور اس کی مَجید بریگیڈ کو عالمی دہشت گرد تنظیم قرار دلوانےکی قرارداد کیوں ناکام ہوئی؟
26 اور 27 نومبر 2024 کی درمیانی رات کو اسلام آباد میں پیش آنے والے واقع کے بعد بھی بلیو ایریا اور ڈی چوک پر کووں کا راج تھا، یہ کوے بھی اسی چیز کی علامت دیکھائی دیتے ہیں۔
Goals and dreams that come in the form of thoughts are created out of inspiration.Goals and dreams that come from thinking are created out of desperation. (Joseph Nguyen)
پاکستان کرکٹ کے برے دن دراصل اُس وقت شروع ہوئے جب ٹیم کو ایبٹ آباد ٹریننگ کے نام پر بھیجا گیا اور اس کے بعد فیصلے میرٹ کے بجائے طاقت کے مراکز میں ہونے لگے۔ آج صورتحال یہ ہے کہ محسن نقوی پر تنقید کرنے سے اکثر لوگ ڈر رہے ہیں، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ کرکٹ بورڈ پر سیاسی مسلطی،گروپنگ،
Bumrah learned his slower ball variation from an associate team player.
On the other hand, when Mohammad Yousuf being a batting coach of the team identified technical flaws in Babar Azam’s batting & advised him to return to domestic cricket to correct them, many players in our team turned against him & then he resigned.
اور پسند ناپسند کی سیاست نے پورے نظام کو کھوکھلا کر دیا ہے۔
جس شخص کو ملک کا وزیرِ داخلہ بنایا گیا اور اس دور میں ملک کے حالات بگڑتے گئے، عوام پر گولیاں چلیں، اب وہی شخص کرکٹ کو ٹھیک کرنے آیا ہے۔ اندازہ کریں کہ جو ملک کے معاملات سنبھالنے میں ناکام رہا وہ کرکٹ کو کیسے سنبھالے گا؟
آپ اج کل رائیٹ ہینڈ مین ہیں ، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کا ایس ایچ او اشفاق وڑائچ سے مکالمہ
نہیں میں رائٹ ہینڈ مین نہیں ہوں، اشفاق وڑائچ کا جواب
آپ تھانہ سیکٹریٹ کے ایس ایچ او ہمیں پھر رائٹ ہینڈ مین ہی ہوئے ناں، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب
جی مائی لارڈ ایسا ہی ہے ، اشفاق وڑائچ
آج 8 فروری 2024 کو پاکستان میں الیکشن ہوئے، مگر ان انتخابات میں بنیادی حقوق کو پامال کیا گیا۔ میری نظر میں یہ پاکستان کے عوام پر کھلا ظلم تھا۔آج پی ٹی آئی کی جانب سے اعلان کے باوجود نہ کوئی ہڑتال ہوئی اور نہ ہی مؤثر احتجاج۔ یہ خاموشی کئی سوالات کو جنم دیتی ہے
⚠️ : Big energy entering your feed! 🔥
A warm welcome to Saim Ayub, Usman Khan, Maaz Sadaqat, and Akif Javed to Team Hyderabad! 🤝🌟
It’s about to get electric! ⚡