سات جون کو راولاکوٹ میں سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں شہید ہونے والے عثمان صابر کے بھاٸی عمران کی گفتگو جس کا کہنا ہے کہ انہیں عثمان کی لاش نہیں دی گٸ۔دیگر ذراٸع سے تصدیق ہوٸی ہے کہ کم از کم 3 لاشیں ورثا کے حوالے کیے بغیر دفن کر دی گٸیں۔
میرے بیٹے کو رینجرز نے قتل کیا، میرا بیٹا گھر پر تھا جب اسے شہید کیا گیا
میرے بیٹے کے قاتلوں کو پھانسی دو، ہمارے ساتھ ایسی بربریت کیوں، اتنا ظلم کیوں
نوجوان کشمیری ڈاکٹر احسن سلیم شہید کے والد
پاکستانی فوج کا پہلا نشان حیدر کیپٹن سرورکو ملا جو سرزمین کشمیر کا دفاع کرتے ہوئے بھارت کے ہاتھوں شہید ہوئے اور اوڑی کی ایک پہاڑی پر دفن ہیں عظیم کشمیری حریت پسند رہنمامقبول بٹ کو بھی تہاڑ جیل دہلی میں بھارت نے پھانسی دی یاد رکھیں کہ بھارت کشمیریوں اور پاکستان کا مشترکہ دشمن ہے
سہیل آفریدی نے وفاقی حکومت کو اگلے مالی سال کا 305 ارب کا سرپلس بجٹ دینے کی یقین دہانی کرا دی تاکہ شہباز حکومت IMF کو کم خسارہ دکھا سکے۔ باقی تینوں صوبے خسارے کا بجٹ دے رہے ہیں
سہیل آفریدی اور انکی اسمبلی اسٹیبلشمنٹ کے نیچے لیٹ کر عمران خان کو بھلا بیٹھے ہیں
اب بھی ان سسروں کو غدار نہ کہا جائے تو کیا کہا جائے
لانگ مارچ کے تازہ ترین مناظر
لاکھوں لوگوں کا سمندر مظفرآباد کی طرف بڑھ رہا ہے
یہ صرف دو تین اضلاع کے قافلے ہیں اس میں ابھی بہت بڑے بڑے قافلے شامل ہونگے
احساس کے کِلّے سے بندھا ہاتھی اور انسان!
معروف ادیب اور دانشور اشفاق احمد ایک واقعہ بیان کرتے ہیں کہ ان کے والد محمد خان پیشے کے اعتبار سے جانوروں کے ڈاکٹر تھے۔ ایک مرتبہ ان کے گاؤں میں سرکس آئی۔ سرکس کا ایک ہاتھی بیمار ہو گیا تو علاج کے لیے اشفاق احمدؒ کے والد کو بلایا گیا۔ چونکہ اشفاق احمدؒ اس وقت کم عمر تھے، اس لیے وہ بھی اپنے والد کے ساتھ چلے گئے۔
جب وہ ہاتھی کے قریب پہنچے تو ہاتھی نے زور سے سونڈ ہلائی، چنگھاڑا اور اپنا بھاری پیر زمین پر دے مارا۔ ایک بچے کے لیے یہ منظر انتہائی خوفناک تھا۔ اشفاق احمدؒ گھبرا کر وہاں سے بھاگ نکلے۔
گھر واپس آنے پر والد صاحب نے محبت سے پوچھا:
"اشفاق! تم سرکس سے کیوں بھاگ آئے؟"
انہوں نے جواب دیا:
"ابا جی! مجھے لگا ہاتھی مجھ پر حملہ کر دے گا، اس لیے میں ڈر کر بھاگ گیا۔"
والد صاحب نے مسکراتے ہوئے پوچھا:
"تم نے ہاتھی کے پاؤں میں پڑی زنجیر نہیں دیکھی؟"
اشفاق احمدؒ نے کہا:
"ابا جی! اتنے بڑے اور طاقتور ہاتھی کو ایک باریک سی زنجیر اور چھوٹا سا کِلا کیسے روک سکتا ہے؟"
والد صاحب نے نہایت معنی خیز انداز میں جواب دیا:
"بیٹا! ہاتھی اس کِلے کو نہیں اکھاڑ سکتا جس سے وہ بندھا ہوا ہے۔"
اشفاق احمدؒ حیران ہوئے اور پوچھا:
"کیوں نہیں اکھاڑ سکتا؟"
والد صاحب بولے:
"جب یہ ہاتھی چھوٹا تھا تو اسی زنجیر اور اسی کِلے سے باندھا گیا تھا۔ اس نے آزادی حاصل کرنے کے لیے بہت زور لگایا، مگر اس وقت اس میں اتنی طاقت نہیں تھی کہ زنجیر توڑ سکے یا کِلا اکھاڑ سکے۔ بار بار ناکامی کے بعد اس نے یہ یقین کر لیا کہ یہ کِلا اس سے زیادہ طاقتور ہے۔ وقت گزرتا گیا، ہاتھی جوان اور بے حد طاقتور ہو گیا، لیکن اس کے ذہن میں بچپن کی وہ ناکامی نقش رہی۔ آج بھی وہ سمجھتا ہے کہ وہ آزاد نہیں ہو سکتا، اس لیے کوشش ہی نہیں کرتا۔"
یہ صرف ایک ہاتھی کی کہانی نہیں، بلکہ ہم میں سے بہت سے لوگوں کی حقیقت ہے۔
زندگی میں بار بار کی ناکامیاں، لوگوں کی منفی باتیں، معاشرتی رکاوٹیں اور اپنے بارے میں غلط تصورات ہمارے ذہن میں ایسے "احساسی کِلے" گاڑ دیتے ہیں جن سے ہم خود کو بندھا ہوا محسوس کرتے ہیں۔ ہم یہ مان لیتے ہیں کہ حالات ہم سے زیادہ طاقتور ہیں، نظام ہم سے بڑا ہے اور کامیابی ہمارے لیے نہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ اکثر ہماری اصل کمزوری طاقت کی کمی نہیں بلکہ یقین کی کمی ہوتی ہے۔ ہم اپنی صلاحیتوں، اپنی قوت اور اپنے اندر چھپی ہوئی بے شمار امکانات کو پہچان ہی نہیں پاتے۔ بالکل اس ہاتھی کی طرح جو اپنی جسامت اور طاقت سے ناواقف رہتا ہے۔
کامیابی کا پہلا قدم اپنے ذہن کے ان کِلوں کو پہچاننا ہے جو ہمیں روکے ہوئے ہیں۔ جب انسان اپنے خوف، مایوسی اور محدود سوچ کی زنجیریں توڑنے کا فیصلہ کر لیتا ہے تو راستے خود بخود کھلنا شروع ہو جاتے ہیں۔
یاد رکھیے! زندگی میں بہت سی رکاوٹیں حقیقت میں موجود نہیں ہوتیں، وہ صرف ہمارے ذہن میں موجود ہوتی ہیں۔ جس دن ہم اپنی اصل طاقت کو پہچان لیں گے، اسی دن احساس کے یہ کِلے اکھڑ جائیں گے اور کامیابی ہماری منزل بن جائے گی۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی صلاحیتوں کو پہچاننے، مایوسی کی زنجیروں کو توڑنے اور دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین ثم آمین۔
(((بریکنگ نیوز)
برطانیہ کے شہر لوٹن میں برٹش کشمیری اس وقت کوٹلی جموں کشمیر میں ہونے والی بربریت کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔لوٹن میں کوٹلی سے تعلق رکھنے والی ایک بڑی تعداد ہے کوٹلی میں جب خ و ن کی ہولی کھیلی جا رہی تھی تو لوٹن میں عوام سڑکوں پر نکل آئے تھے۔
مظفرآباد کی عوام نے حیران کر دیا ہے مظفرآباد سے لوگ نکل کر ان قافلوں کی طرف روانہ ہو گئے جن قافلوں کے راستوں کو بند رکھا ہے تاکہ راستے کلئیر کروائے جا سکیں ۔
ڈاکٹر شہباز گل
Breaking news 🔥
برطانیہ کے 50 سے زائد اراکین پارلیمنٹ نے ایک خط پر دستخط کیے ہیں جس میں پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں پاکستانی جبر اور بلیک آؤٹ پر سوال اٹھایا گیا ہے۔
افسوس مشرقی پاکستان کے بنگلہ دیش بننے پر بھی ہماری عقل سے ڈھول نہیں ہٹی۔ خدا کا خوف کرو اور پاکستان پر رحم کرو
آپ سب پر سلامتی ہو ❣️
ہائیڈ بھائی کے چالیسویں کا ختم ان شاء اللہ 16 جون کو منعقد ہوگا۔
تمام عزیزوں، دوستوں، بیٹیوں، بہنوں اور بھائیوں سے گزارش ہے کہ ہمارے بھائی کے ایصالِ ثواب کے لیے جو بھی قرآنِ پاک، درودِ شریف، کلمہ طیبہ، تسبیحات یا دیگر نیک اعمال پڑھ چکے ہیں یا آئندہ پڑھیں، براہِ کرم منصور بھائی کی پوسٹ کے کمنٹس میں درج کرتے جائیں تاکہ ختم اور اجتماعی دعا کے وقت ان تمام نیکیوں کا ثواب ہائیڈ بھائی کی روح کو پہنچانے کی دعا میں شامل کیا جا سکے۔
اللہ تعالیٰ ہمارے بھائی کی کامل مغفرت فرمائے، ان کی قبر کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنائے، اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔
آمین یارب العالمین 🤲
جزاکم اللہ خیراً
بہادر خاتون صحافی علینہ شگری نے ساری گیم چند ایکسپوز کر دی 🔥🔥🔥
پیپلز پارٹی نے گلگت بلتستان کی حکومت کے بدلے 28ویں ترمیم پاس کروانے پر اسٹیبلشمنٹ سے ڈیل کی ہے۔
گلگت بلتستان کے انتخابات میں تحریک انصاف کو باہر کیا گیا،
ن لیگ نے تو اپنے اگلے وزیر اعلیٰ کا نام تک سوچ لیا تھا،
لیکن خالد خورشید نے گلگت بلتستان کے تمام حلقوں سے تحریک انصاف کے امیدوار آزاد کھڑے کر کے اسٹبلشمنٹ کو چونکا دیا، جہاں سے ن لیگ کو دھچکا لگا، حبیب اکرم