@fawadchaudhry بکواسات پھر شروع
فواد چوہدری سن لیں پاکستان اسلام کے نام پر بنا ہے تو مسجد اور مدارس کے لیے قبضے کے ضرورت نہیں پڑتا جہاں عوام چاہیں اللہ کا گھر بنا کر عبادت کر سکتے ہیں تمہیں لگتا ہے مسجد ایک کاروبار کا مرکز تیری سوچ دے لعنت
ڈی جی آئ ایس پی آر کا دہشتگردی کے حوالے سے حالیہ بیان ناصرف حقائق کے برعکس بلکہ گمراہ کن ہے۔ عمران خان اور ان کی کابینہ نے کبھی بھی افغانستان سے تحریکِ طالبان پاکستان کی واپسی اور آبادکاری کے حوالے سے پالیسی کی منظوری نہیں دی۔ امریکہ کے افغانستان سے انخلا سے قبل یکم جولائی ۲۰۲۱ کو عسکری قیادت نے پارلیمان کو تین نکات پر بریفنگ دی۔ جن میں سے ایک نقطہ امریکی انخلاء کے پاکستان کے امن و امان پر اثرات، دیگر نکات ریجن میں طاقت کے توازن اور عالمی سطح پر پاور گیم کے حوالے سے تھے۔ اس کے بعد اکتوبر ۲۰۲۱ میں ڈی جی آئی ایس آئی کی تعیناتی کے اگلے روز عسکری قیادت ایک پانچ نکاتی پلان منظوری کے لیے وزیراعظم کے پاس لے کر آئی جس کی فوری منظوری پر زور دیا گیا۔ عنوان مذاکرات کا طریقہ کار تھا مگر نکات طالبان کی واپسی کے تھے۔ مجھ سمیت کابینہ کے دیگر اراکین جو زمینی حقائق سے آگاہی رکھتے تھے انہوں نے عسکری قیادت کے پیش کردہ منصوبے پر اعتراضات اٹھائے جن کا کوئی تسلی بخش جواب نہیں دیا گیا بلکہ بھرپور کوشش کی گئی کہ بنا مین میخ کے ان کے پلان کی منظوری دی جائے تاہم وزیراعظم عمران خان نے ایسے کسی بھی پلان کی منظوری دینے سے احتراز کیا کہ جس میں بیش بہا قربانیوں کے بعد حاصل کردہ امن کے بربادی کا امکان ہو۔
اس میٹنگ میں موجود تمام وزرا گواہی دیں گے کہ میری باتیں اس وقت عسکری قیادت کو جتنی بھی ناگوار گزریں مگر جو سوالات میں نے اٹھائے اور جن خدشات کا اظہار کیا میرے وہ تمام خدشات درست ثابت ہوئے۔رجیم چینج کے بعد جون ۲۰۲۲ میں پی ڈی ایم حکومت کی منظوری کے بعد پہلا وفد افغانستان گیا جس سے سب کو لاعلم رکھا گیا۔ تب جب دہشتگردی کی واپسی کے متعلق میں نے بہت احتیاط سے سوالات اٹھائے تو اس وقت کی حکومت اور آئی ایس پی آر کی جانب سے ایسی کسی پیش رفت سے مکمل لاعلمی کا اظہار کیا گیا اور مجھ پر ناصرف پراپگینڈہ کرنے کا الزام لگایا گیا بلکہ پہلے دبے لفظوں میں اور پھر کھلم کھلا دھمکیاں پہنچائی گئیں۔ ریاستی اداروں کی نیت بھانپتے ہوئے میں نے اپنی قوم سے رجوع کیا اور تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک پرامن تحریک کے زریعے ہم نے اپنے علاقوں کو ان عناصر سے خالی کرایا۔ تاہم مجھے بتایا گیا کہ یہ انخلا عارضی تھا اور برف پگھلنے پر گرمی تو بڑھے گی مگر اس سے پہلے آپ کا بندوبست کیا جائیگا۔ حقائق اور بھی بہت ہیں (اور اس حوالے سے باقی سیکوئنس آف ایونٹس میری اگست ۲۰۲۲ سے ۲۰۲۳ تک کی تقریروں اور پریس کنفرنسز میں مل جائیگا)۔ مگر خلاصہ یہی ہے کہ عمران خان دور میں نہ ڈرون حملہ ہوا نہ دہشتگرد آئے اور نہ آپ کی غلط پالیسیوں کی منظوری دے کر قوم کو نئی جنگ کا ایندھن بننے دیا گیا۔
ناحق قید میں 500 دن مکمل ہونے پر سابق وزیراعظم عمران خان کی اپنے ورکرز اور وکلأ سے اڈیالہ جیل عدالت میں گفتگو:
“ایاک نعبد وایاک نستعین
سب سے پہلے تو آپ نے گھبرانا نہیں ہے!!
میں ساری عمر بھی جیل میں گزارنے کے لئے تیار ہوں، لیکن وقت کے یزید کے آگے کبھی نہیں جھکوں گا۔
اللہ الحق ہے- وہ حق سچ کا خدا ہے اور صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے- ہم سب اس ملک کی حقیقی آزادی کے لیےقربانی دے رہے ہیں۔ آپ نے صبر کرنا ہے اور میرے ساتھ مل کر ظلم کا مقابلہ کرنا ہے۔
ڈی چوک میں دور حاضر کے جنرل ڈائیر نے قوم کو اپنا غلام گردانتے ہوئے نہتے اور پر امن شہریوں پر بلااشتعال گولیاں چلوائیں- ہم اس واقعہ کو کبھی بھی بھولنے نہیں دیں گے اور اپنے ورکرز اور شہدأ کو انصاف دلائیں گے-
مجھے ورکرز اور وکلا نے بتایا ہے کہ ابھی تک سامنے آنے والے 12 شہدا وہ ہیں جنہیں 26 نومبر کو مغرب سے پہلے شہید کیا گیا اور باقی لوگوں کو رات کو علاقے کی بجلی بند کروا کر گولیاں ماری گئی ہیں۔ ان کو کدھر غائب کیا گیا ہے؟ ابھی بھی درجنوں افراد مسنگ ہیں- مسنگ پرسنز کو تلاش کرنا اور تمام ڈیٹا پبلک کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ میڈیا سمیت ہزاروں لوگوں نے اندھا دھند فائرنگ اور بربریت اپنی آنکھوں سے دیکھی اور اس کے بعد ہسپتالوں کا ریکارڈ غائب کرنے اور شہدا کی لاشیں ورثأ کو فراہم کرنے سے انکار کی بھی میڈیا رپورٹس موجود ہیں-
ہمارا مطالبہ ہے کہ جلد از جلد 9 مئی کے فالس فلیگ آپریشن اور 26 نومبر کے اسلام آباد قتل عام کی شفاف تحقیقات اور ذمہ داران کے تعین کے لئے آزادانہ جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے جس میں سینئر ترین سپریم کورٹ ججز شامل ہوں۔
قوم تیار رہے، میں جلد اگلے لائحہ عمل کا اعلان کروں گا- “
کیا پاکستان میں صرف فوج ایک ایسا ادارہ ہے جس کا احترام لازم ہے؟ کیا عدلیہ کا احترام لازمی نہیں؟ عدلیہ کے فیصلوں کو بوٹ تلے مسل دینے والے یہ توقع نہ کریں کہ وہ اپنی مرضی کے قانون بنا کر اپنا زبردستی احترام کروا سکتے ہیں میڈیا مالکان کے ذریعہ کارکن صحافیوں پر پابندیاں لگانے والے یاد رکھیں احترام کرو گے تو احترام ملے گا ون وے ٹریفک نہیں چلے گی
لاشیں چھپانے والی حکومت نے جمہوریت کو ایک زندہ لاش بنا دیا ہے۔ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ جمہوریت کے نام پر آمریت زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتی۔ ہمیں صرف سوگوارانِ جمہوریت نہیں بننا بلکہ اس جمہوریت کو مرنے سے بچانا ہے۔ جمہوریت نہ بچی تو پاکستان کا بچنا مشکل ہو گا۔ https://t.co/uu5AzEfHSZ
لاشیں چھپانے والی حکومت نے جمہوریت کو ایک زندہ لاش بنا دیا ہے۔ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ جمہوریت کے نام پر آمریت زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتی۔ ہمیں صرف سوگوارانِ جمہوریت نہیں بننا بلکہ اس جمہوریت کو مرنے سے بچانا ہے۔ جمہوریت نہ بچی تو پاکستان کا بچنا مشکل ہو گا۔ https://t.co/uu5AzEfHSZ