سفید سنگِ مرمر سے تراشا گیا ایک روح پرور شاہکار!
مسجد پاک وگہہ شریف، کیروانوالہ شریف، ضلع گجرات
جہاں سفید مرمر کی خوبصورتی، اسلامی فنِ تعمیر اور روحانی سکون ایک ہی منظر میں سمٹ آئے ہیں۔
جمعہ مبارک
سقوطِ ڈھاکہ پہ لکھی گئی نصیر ترابی کی شہرہ آفاق غزل
وہ ہمسفر تھا مگر اُس سے ہم نوائی نہ تھی
کہ دھوپ چھاؤں کا عالم رہا جدائی نہ تھی
محبتوں کا سفر اس طرح بھی گزرا تھا
شکستہ دل تھے مسافر ، شکستہ پائی نہ تھی
کبھی یہ حال کہ دونوں میں یک دلی تھی بہت
کبھی یہ مرحلہ جیسے کہ آشنائی نہ تھی
نہ اپنا رنج ، نہ اوروں کا دکھ ، نہ تیرا ملال
شبِ فراق کبھی ہم نے یوں گنوائی نہ تھی
عداوتیں تھیں ، تغافل تھا، رنجشیں تھیں مگر
بچھڑنے والے میں سب کچھ تھا ، بے وفائی نہ تھی
بچھڑتے وقت ان آنکھوں میں تھی ہماری غزل
غزل بھی وہ جو کسی کو ابھی سنائی نہ تھی
عجیب ہوتی ہے راہ سخن بھی دیکھ نصیرؔ
وہاں بھی آ گئے آخر، جہاں رسائی نہ تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک دن ہارون الرشید کی مجلس میں کچھ لوگوں نے واقعۂ اسراء و معراج کا انکار کیا۔
انہوں نے کہا:
"نبی کریم ﷺ ایک ہی رات میں آسمان پر کیسے تشریف لے جا سکتے ہیں؟ یہ تو ناممکن ہے!"
علماء خاموش رہے۔ اتنے میں بہلول آگے بڑھے اور عرض کیا:
"اے امیرالمؤمنین! اگر اجازت ہو تو میں انہیں جواب دوں۔"
ہارون نے کہا:
"کہو، اے بہلول۔"
بہلول نے منکرین سے پوچھا:
"تم لوگ رات کو سوتے ہو، ہے نا؟"
انہوں نے کہا:
"جی ہاں۔"
بہلول نے کہا:
"اور خواب میں تم اپنے آپ کو دور دراز ملکوں کا سفر کرتے، پہاڑوں پر چڑھتے اور واپس آتے ہوئے دیکھتے ہو، اور یہ سب کچھ ایک ہی لمحے میں ہو جاتا ہے۔ پھر جب آنکھ کھلتی ہے تو خود کو اپنے بستر پر پاتے ہو۔
تو کیا تم اپنے خواب کو سچ مانتے ہو اور ایک نبی کے معراج کے واقعے کو جھٹلاتے ہو؟"
وہ سب خاموش ہوگئے۔
پھر بہلول نے ہارون الرشید سے کہا:
"اے امیر! کیا آپ نے بجلی دیکھی ہے؟"
ہارون نے کہا:
"ہاں۔"
بہلول نے کہا:
"وہ آسمان سے زمین تک پلک جھپکتے پہنچ جاتی ہے۔ جس ذات نے بجلی کو پیدا کیا اور اسے حکم دیا، کیا وہ اس بات پر قادر نہیں کہ اپنے نبی کو حکم دے اور انہیں بجلی سے بھی زیادہ تیزی کے ساتھ آسمانوں کی سیر کرا دے؟"
پھر بہلول نے دوسری مثال دیتے ہوئے کہا:
"اگر آپ جیسا کوئی بادشاہ کسی بادشاہ کے پاس اپنا قاصد بھیجے، تو کیا وہ قاصد ایک ماہ پیدل چل کر جائے گا؟ یا بادشاہ اسے اپنا سب سے تیز رفتار گھوڑا عطا کرے گا؟
تو پھر ملک الملوک، رب العالمین جب اپنے محبوب ﷺ کو عزت عطا کرنا چاہے تو وہ اپنی قدرت سے انہیں کیسے نہ لے جا سکتا ہے؟"
یہ سن کر ہارون الرشید کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور وہ کہنے لگا:
"اے بہلول! تم نے سچ کہا۔ اللہ کی قدرت کو سمجھنے کے لیے عقل کافی ہے، اگر دل اسے قبول کرنے کے لیے تیار ہو۔"
اس واقعے سے سبق:
1. اللہ تعالیٰ کی قدرت انسانی قوانین اور ہماری سمجھ کی حدود سے کہیں بلند ہے۔
قرآنِ کریم میں فرمایا گیا:
"اس کا کام تو یہ ہے کہ جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اسے کہتا ہے: ہو جا، پس وہ ہو جاتی ہے۔"
2. بہلول نے عقل، منطق اور روزمرہ زندگی کی مثالوں کے ذریعے بات سمجھائی۔
3. معراج صرف فاصلے اور وقت کا معاملہ نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے محبوب ﷺ کے عظیم اکرام اور اعزاز کا مظہر ہے۔
اور قرآنِ کریم میں ارشاد ہے:
"پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کو راتوں رات مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ تک لے گئی۔"
(سورۃ الإسراء: 1)
کیا اپ جانتے ہیں دس سے بارہ لاکھ میں ہونے والا IVF پراسیز جس کے تحت بے اولاد جوڑے اللہ کے حکم سے اپنی اولاد حاصل کرتے ہیں وہ پاکستان میں اک ہسپتال اسی ہزار روپے میں کر رہا ہے ۔
اولاد اللہ کی طرف سے ہوتی ہے یہ بات ہر مسلمان کے دل میں پتھر پر لکیر کی طرح کندہ ہے مگر جن جوڑوں کے گھر برسوں سے یہ نعمت نہیں آئی وہ جانتے ہیں کہ انتظار کی راتیں کتنی طویل ہوتی ہیں اور امید کا دیا کتنی بار بجھتے بجھتے دوبارہ جلتا ہے ۔
IVF دراصل کوئی معجزہ یا تخلیق کا متبادل نہیں بلکہ محض ان طبی رکاوٹوں کو دور کرنے کا ایک ذریعہ ہے جو بچے کی پیدائش کی راہ میں حائل ہو جاتی ہیں شریعت میں اس عمل کو جائز قرار دیا گیا ہے ۔
کیونکہ اس میں میاں بیوی کے اپنے مادہ تولید کو استعمال کیا جاتا ہے اور رحم مادر میں وہی امانت رکھی جاتی ہے جو اللہ نے پہلے ہی ان کے نصیب میں لکھ رکھی ہے پاکستان میں نوجوان جوڑوں میں اس کی کامیابی کی شرح ساٹھ سے ستر فیصد تک بتائی جاتی ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ یہ عمل نہ صرف شرعاً جائز بلکہ میڈیکل طور پر بھی قابل بھروسہ ہے۔
اسی میدان میں ایک نام ڈاکٹر محمد اعجاز انجم کا لیا جاتا ہے جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ پچیس برس امریکہ میں ڈاکٹری کر چکے ہیں اور IVF گائناکالوجی کے ماہر ہیں ۔ اور اسی فیلڈ میں امریکہ میں بہترین کام کر چکے ہیں ۔
ان کا اپنا بیان ہے کہ امریکہ میں ان کے پاس دولت بھی تھی اور بہترین زندگی بھی مگر دل میں ایک خیال بار بار آتا رہا کہ پاکستان کے غریب بے اولاد جوڑے جو دس سے بارہ لاکھ روپے کے اخراجات کے سامنے بے بس ہیں وہ یہ نعمت کیسے پائیں گے انہی کے بقول اسی خیال نے انہیں واپس پاکستان کھینچ لیا اور انہوں نے آزاد کشمیر پشاور سوات اور لاہور میں سنٹرز قائم کیے جہاں وہی طریقہ کار جو لاکھوں میں ہوتا ہے کہیں کم قیمت میں پیش کیا جانے لگا۔
ڈاکٹر صاحب کا دعویٰ ہے کہ اصل لاگت اتنی زیادہ نہیں جتنی مریضوں سے وصول کی جاتی ہے اور یہی بات جب انہوں نے کھل کر کہی تو ان کے بقول میڈیکل کمیونٹی کے ایک حصے نے اسے اپنے کاروبار کے لیے خطرہ سمجھا انہوں نے ان پر الزام لگانا شروع کر دیا ۔
پاکستان میں ای وی ایف ڈاکٹروں نے آپس میں مل کر ایک ریٹ طے کر رکھا ہے اور اس سے کم پر علاج نہ کرنے کی ضد ہے ڈاکٹر اعجاز انجم کے مطابق ان کے اس مؤقف کے بعد ان کے ہسپتالوں پر چھاپے پڑے مہنگی مشینری ضبط کی گئی اور انہیں ہر طرح سے تنگ کیا گیا۔
ڈاکٹر اعجاز انجم صاحب کا کہنا ہے کہ وہ ان مشکلات کے باوجود اپنے مشن پر ڈٹے ہوئے ہیں اور پورے پاکستان میں سستے IVF سنٹرز کھولنے کے ارادے پر قائم ہیں۔
اگر ان کا دعویٰ درست ہے تو یہ واقعی کسی نعمت سے کم نہیں کیونکہ بانجھ پن کا دکھ صرف وہی جانتا ہے جو برسوں سے اولاد کی دعا مانگ رہا ہو اور پیسے کی کمی کے باعث علاج کا سوچ بھی نہ سکتا ہو ایسے میں ۔
اگر کوئی شخص اپنی آسائشیں چھوڑ کر واپس آئے اور غریبوں کے لیے کم قیمت پر یہی سہولت دینے کی کوشش کرے تو یہ قابل قدر بات ہے مگر ساتھ ہی ایک سچے صحافتی اور دینی اصول کی بھی یاد دہانی ضروری ہے کہ کسی بھی طبی فیصلے سے پہلے خود تحقیق ضرور کریں ہسپتال کا طریقہ کار عملے کی قابلیت اور مریضوں کے تجربات خود دیکھیں دل مطمئن ہو تو ہی آگے بڑھیں ۔
کیونکہ اولاد کی خواہش جتنی مقدس ہے اتنی ہی احتیاط اس کے حصول کے راستے میں بھی ضروری ہے آخر میں دعا یہی ہے کہ اللہ پاک تمام بے اولاد جوڑوں کو نیک اولاد سے نوازے اور جو لوگ سچے دل سے انسانیت کی خدمت کر رہے ہیں انہیں ثابت قدمی اور حفاظت عطا فرمائے۔
اس انفارمیشن کو اگے تک بھجیں تاکہ بے اولاد جوڑے جو برسوں سے صرف اس انتظار میں ہیں کہ انکے پاس پیسے نہی ہیں ان تک مسیج پہنچ سکے ۔ اور اس مہنگای اور لوٹ مار کے دور میں ڈاکٹر اعجاز صاحب کا اس ملک میں انا کسی نعمت سے کم نہی ہے ۔
DAAD PhD Scholarship Programmes – Applications Open
DAAD has opened applications for fully funded PhD opportunities in Germany under three tracks:
Full PhD Programme: https://t.co/wHs3fF9oN8
Short-Term Research Grants (2–12 months): https://t.co/gf9jnfTiYQ
Bi-nationally Supervised Doctoral Degrees/Cotutelle (7–24 months): https://t.co/m3hP3eMNVn
Application Deadline: 31 August 2026.
Applications are now open for HEC's Overseas Scholarships for MS/MPhil Leading to PhD (Phase-III).
For eligibility criteria, thematic areas, and application procedure, visit:
https://t.co/9et9pSkeNI
Copy from social media
میرے نانا کی عمر 87 سال تھی اور انہیں دل کا دورہ پڑا۔ ہم نے علاج کے لیے AFIC، Shifa اور دیگر جگہوں سے بھی ڈاکٹروں سے مشورہ کیا، اس کے بعد ہم Kulsoom International Hospital پہنچے۔
وہاں ایک کارڈیالوجسٹ، جن کا نام شاید ڈاکٹر فرحان یا فرید تھا، نے ہمیں بتایا کہ اوپن ہارٹ سرجری کی جا سکتی ہے اور ان کے مطابق آپریشن کے بعد سب ٹھیک ہو جائے گا۔
دوسری جانب اسی ہسپتال کے ڈاکٹر انور علی نے ہمیں مشورہ دیا کہ اس عمر میں سرجری بہت زیادہ خطرناک ہو سکتی ہے اور اس سے گریز کرنا بہتر ہوگا۔ لیکن آخرکار سرجری کا فیصلہ کیا گیا۔
آپریشن تقریباً 3 بجے مکمل ہوا اور ہمیں بتایا گیا کہ سب کچھ ٹھیک ہے۔ لیکن چند گھنٹوں بعد، تقریباً 7 بجے، SICU میں موجود ڈاکٹر نے بتایا کہ مریض کے پاس شاید صرف 24 گھنٹے باقی ہیں۔ انہیں وینٹی لیٹر پر منتقل کیا گیا۔
افسوسناک بات یہ ہے کہ آپریشن کے بعد میرے نانا نے دوبارہ آنکھیں تک نہیں کھولیں۔ اگلے روز تقریباً 8 بجے ان کا انتقال ہوگیا۔ ہمیں بتایا گیا کہ گردوں نے کام کرنا چھوڑ دیا، دل مزید کمزور ہوگیا اور جسم کے دیگر اہم نظام بھی متاثر ہوگئے۔
سب سے زیادہ تشویش ہمیں ہسپتال کے بل کے حوالے سے ہے۔
کل بل تقریباً 14 لاکھ روپے بنایا گیا، جس میں آپریشن، SICU، ICU اور Executive Ward کے اخراجات شامل تھے۔ تقریباً 13 لاکھ روپے پہلے ہی جمع کروائے جا چکے تھے۔
ہسپتال کی جانب سے بتایا گیا کہ باقی 1 لاکھ روپے بھی جمع کروانے ہوں گے، تب ہی میت حوالے کی جائے گی۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ تقریباً 14 لاکھ روپے کے بل میں 8 دن کے اخراجات شامل تھے، جبکہ ہمارے مریض کا آپریشن کے اگلے ہی روز انتقال ہوگیا۔ سوال یہ ہے کہ جب مریض نے پورے 8 دن ہسپتال میں گزارے ہی نہیں تو ان دنوں کے اخراجات کس بنیاد پر وصول کیے جا رہے ہیں؟
ہم کسی ڈاکٹر یا ہسپتال پر بغیر ثبوت الزام نہیں لگانا چاہتے۔ ہمارا صرف یہ سوال ہے کہ:
کیا پاکستان میں نجی ہسپتالوں کے ایسے معاملات کی کوئی مؤثر نگرانی یا احتساب کا نظام موجود ہے؟
اگر کسی کو اس حوالے سے قانونی طریقہ کار، متعلقہ اتھارٹی یا شکایت درج کروانے کا درست طریقہ معلوم ہے تو براہِ کرم رہنمائی کریں۔
یہ صرف ہمارے خاندان کا مسئلہ نہیں، ایسے معاملات کسی بھی خاندان کے ساتھ پیش آ سکتے ہیں۔
ہم الزام نہیں، جواب اور انصاف چاہتے ہیں۔
#موناسکندر
DAAD has opened applications for fully funded PhD opportunities in Germany under three tracks:
Full PhD: https://t.co/2aWgausXpI
Short-Term Research Grants: https://t.co/vRndFOlP4y
Cotutelle: https://t.co/QKWUO5bvIk
Deadline: 31 August 2026.