Reactive Network 101 - The Blockchain That Coordinates Blockchains 🧵
Blockchains today are passive, they only act when you (the user) push a transaction. Reactive Network flips that, It’s a blockchain built for reaction.
The synaptic tissue between every chain, enabling real-time coordination across the multi-chain ecosystem.
سابق وزیراعظم عمران خان کی جیل میں وکلاء اور اہل خانہ سے گفتگو:
“ملک میں دہشتگردی کا ناسور بے قابو ہے۔ جعفر ایکسپریس کا سانحہ انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے- اس قسم کی منظم دہشتگردانہ کاروائیاں کسی بھی ملک کی سیکیورٹی پر سوالیہ نشان ہیں۔ دہشتگردی کے واقعات میں فوجی اور سویلینز کی قیمتی جانوں کے ضیاع کا جتنا دکھ ہمیں ہے کسی کو نہیں ہوسکتا کیونکہ تحریکِ انصاف وہ واحد سیاسی جماعت ہے جس سے تمام صوبوں کی اکثریت جڑی ہے- افسوسناک امر یہ ہے کہ تمام ایجینسیاں دہشتگردی کی روک تھام کی بجائے تحریک انصاف کو ختم کرنے پر لگائی ہوئی ہیں-
تحریک انصاف کی جانب سے نیشنل سیکورٹی کمیٹی کے بائیکاٹ کا فیصلہ بالکل درست ہے۔ اس اجلاس میں نہ مجھے بلایا گیا، نہ میری رائے لی گئی اور نہ ہی بلوچستان کے نمائندوں کو بلایا گیا- ان کی نیت اس معاملے میں صاف ہوتی تو میری جماعت کے ارکان کو سب سے پہلے مجھ سے مشاورت کرنے کی اجازت دیتے۔ اس وقت تحریک انصاف پاکستان کی واحد جماعت ہے جس کی سپورٹ تمام وفاقی اکائیوں میں موجود ہے جبکہ پیپلز پارٹی اور نون لیگ سندھ اور پنجاب کے چند مخصوص علاقوں تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں- ملک کی سب سے بڑی جماعت اور فیڈریشن کی علامت واحد سیاسی پارٹی کے سربراہ کو باہر رکھ کر کون سا اتفاق رائے حاصل کیا جا سکتا ہے؟
اردلی حکومت کی خارجہ و داخلی پالیسیاں ملک کے لیے زہرِ قاتل ہیں۔ دہشتگردی کا مسئلہ صرف تب حل ہو گا جب اس کا سیاسی حل دریافت کیا جائے گا اور لوگوں کی منشاء کے مطابق ان کے فیصلے ہوں گے۔ دہشتگردی کا مسئلہ صرف فوجی حکمت عملی (Kinetic Operations)سے حل نہیں ہو سکتا۔ ہمسایہ ممالک کو لے کر ہماری خارجہ پالیسی آزاد اور خود مختار ہونی چاہیے۔ افغانستان کے ساتھ معاملات بھی بات چیت سے حل ہونے چاہئیے۔ رجیم چینج کے بعد ان کی غیرسنجیدگی کا اندازہ اس بات سے لگا لیں کہ بلاول نے پوری دنیا کے دورے کیے لیکن ایک بار بھی افغانستان نہیں گیا- فوجی آپریشنز کبھی مسائل کا حل نہیں ہوتے، بڑی بڑی جنگوں کا حل بھی مذاکرات اور امن و استحکام کی کوشش سے ہی نکلتا ہے۔
ملک صرف تب ہی متحد اور مضبوط رہ سکتا ہے جب عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے، سیاسی جماعتوں کو ان کی جگہ دی جائے اور اسٹیبلشمنٹ سیاست میں مداخلت سے باز رہے۔ اکہتر میں بھی ایک سیاسی جماعت کو دیوار سے لگایا گیا پھر جو ہوا وہ تاریخ بھلا نہیں پائی-تب بھی اگر سیاسی جماعتوں کو متوازن مواقع ملتے تو ملک دو لخت نہ ہوتا۔ آج بھی لوگوں کی آواز کو دبایا جا رہا ہے اور ان کی نمائندگی کرنے والی سیاسی جماعتوں کا گلا گھونٹا جا رہا ہے۔ بلوچستان میں یہی ماڈل نافذ کیا گیا جس کی وجہ سے آج وہاں کے حالات بے قابو ہیں۔ جب تک عوام کی نمائندہ حکومتوں کو اقتدار منتقل نہیں کیا جائے گا یہ مسائل جوں کے توں رہیں گے بلکہ بڑھتے جائیں گے۔
اردلی حکومت مجھ پر دباؤ بڑھانے کے لیے تمام غیر قانونی ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے۔ میری اہلیہ کو بے جا جیل میں ڈالا گیا ہے۔ نہ تو یحیٰی خان نے مجیب الرحمٰن کی اہلیہ کو جیل میں ڈالا، نہ جنرل ضیا نے بھٹو کی اہلیہ کو جیل میں ڈالا، اور نہ ہی مشرف نے کلثوم نواز کو جیل میں ڈالا، مگر اس اسٹیبلشمنٹ نے اخلاقی پستی کی بدترین سطح پر پہنچ کر میری اہلیہ کوبھی جعلی کیسز میں پابندِ سلاسل کر رکھا ہے۔
پچھلے قریباً ایک ہفتے سے میری مواصلات کے ذرائع تک رسائی پر کڑی بندش ہے۔ حالاتِ حاضرہ سے بےخبر رکھنے کیلئے ٹی وی دیکھنے پر پابندی عائد ہے اور اخبار اور کتابوں کی ترسیل بھی معطل ہے۔ میرے بچوں سے میری بات نہیں کروائی گئی۔ بار بار یاددہانی کے باوجود مروّجہ طریقے کے مطابق 90 دنوں میں میری اہلیہ سے 72 گھنٹے کی ملاقات بھی نہیں کروائی جارہی۔ میرے ذاتی معالج کو مجھ سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی نہ ہی ڈینٹسٹ کو ملوایا جا رہا ہے۔ میرے پارٹی رہنماؤں سے ملاقات بھی نہیں کروائی گئی۔ مجھے مکمل طور پر بے خبر رکھا گیا تا کہ اے پی سی کے بارے میں مجھے علم نہ ہو سکے۔
یہ جو کچھ بھی کر لیں میں ان کی فسطائیت کے آگے نہ ہی پہلے جھکا تھا نہ ہی اب جھکوں گا- میں پاکستان کی حقیقی آزادی کے لیے کھڑا تھا، کھڑا ہوں اور کھڑا رہوں گا ۔ چاہے مجھے تمام عمر جیل کاٹنی پڑے۔ میں انشاللہ اپنے ملک اور اپنی قوم کی خودمختاری کے لیے آخری سانس تک لڑوں گا۔”
ریاستی ترجیحات ملاحظہ فرمائیں۔
جس نے ورلڈ کلاس کینسر ہاسپٹلز اور تعلیمی ادارے بنائے، اسے چودہ سال کی سزا
جس نے لندن، دبئی، بلیجئم، پانامہ اور سوئٹزرلینڈ میں دولت جمع کی، اسے اقتدار دلایا۔
لکھ دی لعنت ایسی ریاست پر، ایسے ریاستی اداروں پر اور ان اداروں کے سربراہان پر ۔ ۔ ۔
لکھ دی لعنت جرنیل پر۔
یہ بات وہ حرامزادہ کہہ رہا ہے جس نے:
ڈیڑھ سال سے عمران خان کی قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے
عمران خان کا نام، تصویر ٹی وی پر دکھانے پر پابندی عائد کردی
عمران خان کیلئے جیل کے اندر عدالتیں لگوانی شروع کردیں کہ کہیں عوام اسے دیکھ نہ لیں
عدت کا گھٹیا ترین مقدمہ بنوایا،
اس کے بھانجے کو ملٹری کورٹ سے دس سال کی سزا دلوائی
اس کے جماعت سے مینڈیٹ چھینا
اس کے کارکنوں پر سیدھے فائر کروا کر شہید کروا
اے حرامزادے!
بتا کہ یہ سب تُو نے محض اختلاف رکھنے پر کیا تھا یا نفرت میں؟
جنرل باجوہ ریٹائرمنٹ کے وقت تیرہ ارب کے اثاثے بنا چکا تھا۔ کسی حرامی جرنیل کی جرات نہ ہوسکی کہ اس سے سوال کرتا کہ گریڈ بائیس کے ملازم کے پاس تیرہ ارب کہاں سے آئے۔
عاصم منیر جس مریم کے چڈوں میں منہ دے کر بیٹھا رہتا ہے، اس مریم سے کبھی یہ پوچھنے کا حوصلہ نہ کرسکا کہ کروڑوں کی جیولری اور گارمنٹس کیلئے رقم کہاں سے آتی ہے۔
وہ بلاول جس نے نہ خود ساری عمر کوئی کام کیا، نہ ہی اس کے حرامی باپ نے 1988 کے بعد کوئی کام دھندا کیا۔ حرامی جرنیل ہر وقت زرداری اور بلاول کے پاؤں دھو کر پیتے ہیں لیکن سوال نہیں کرتے کہ زرداری نے سندھ درجنوں شوگر ملیں کیسے بنا لیں؟
انہیں مسئلہ یہ نہیں تھا کہ ملک ریاض نے زمین ڈونیٹ کیوں کی، انہیں مسئلہ یہ تھا کہ اس زمین پر فارم ہاؤس، کمرشل پلازے یا پیلس بنانے کی بجائے عمران خان نے اسے ٹرسٹ کے نام کرکے اس پر سیرت النبی پڑھانے والی یونیورسٹی کیوں بنائی؟
عوام کو یہ کیوں جاننے کا موقع دیا کہ ایک طرف عمران خان ہسپتال اور یونیورسٹیاں بناتا ہے، دوسری طرف جرنیل اور کرپٹ سیاستدان ہاؤسنگ سوسائیٹیاں، پلازے اور محلات بناتے ہیں۔
ہر وہ شخص جو حلال کھائے، عوام کی فلاح کے منصوبے بنائے، وہ جرنیلوں کا دشمن نمبر ون کہلاتا ہے!
بائیڈن نے اپنے الوداعی خطاب میں سوشل میڈیا کو جی بھر کر کوسا اور اسے آزاد صحافت کیلئے خطرہ قرار دے دیا۔
ظاہر سی بات ہے کہ اگر سوشل میڈیا نہ ہوتا تو سی این این, ایس این بی سی، نیویارک ٹائمز، واشنگٹن پوسٹ والے تو بائیڈن کو بھاری اکثریت سے جتوا چکے ہوتے۔
دنیا کے ہر ملک میں سوشل میڈیا کی وجہ سے اسٹیبلشمنٹ اور کرپٹ سیاستدانوں کی سب سے زیادہ پھٹی پڑی ہے۔
پاکستان میں تو بیڑے ہی غرق ہوئے پڑے ہیں۔
منیریا، تیرا باپ بھی روتے روتے گیا،
تُو بھی روتے روتے جائے گا!!!
جنرل باجوہ کے الفاظ پھر یاد کرلیں جو اس کے باندر جاوید چوہدری نے دہرائے تھے۔ جنرل باجوہ کی عمران خان پر چارج شیٹ تھی کہ وہ:
شلوار قمیض کیوں پہنتا ہے؟
ہر وقت ہاتھ میں تسبیح کیوں رکھتا ہے؟
مدینہ منورہ ننگے پاؤں کیوں جاتا ہے؟
عاصم منیر نے اس چارج شیٹ میں ایک اور اضافہ کردیا:
عمران خان قوم کو سیرت النبی ﷺ کیوں پڑھانا چاہتا ہے؟
یہ جرنیل اسلامی جمہوریہ پاکستان کے ہیں یا مجوسی آمریہ پاکستان کے؟