مولانا فضل الرحمٰن کی سیاست سے میں ہمیشہ اختلاف کرتا رہا ہوں، اور ہمیشہ ان سے سوالات بھی کرتا رہا ہوں، خاص طور پر افغانستان کے حوالے سے ان کی پالیسی پر۔ اس لیے میں ان کا ناقد رہا ہوں۔
میں اس تقریر ک�� میرٹس پر بات کروں گا۔ میں نے پوری تقریر بار بار سنی، مگر مجھے اس میں کہیں بھی شہداء کی توہین نظر نہیں آئی۔
مولانا صاحب نے صرف ذمہ داری (Responsibility) کی بات کی ہے۔ جب یہ کہا جاتا ہے کہ "ہم تو شہداء دیتے ہیں"، تو مولانا صاحب نے کہا کہ دہشت گردی، داخلی سیکیورٹی (Internal Security)، خارجی سیکیورٹی (External Security)، داخلی خطرات (Internal Threats) اور خارجی خطرات (External Threats) سے نمٹنا کس کی ذمہ داری ہے؟ یہ فوج کی ذمہ داری ہے، اور یہ ذمہ داری آئین و قانون کے تحت اسی ادارے کو سونپی گئی ہے۔
یہ تو ایسے نہیں ہو سکتا کہ کوئی سرکاری ملازم یا واپڈا کا ملازم کہے کہ "میں یہ میٹر نہیں لگاؤں گا، کیونکہ میرے لوگ مرتے ہیں۔"
میرے خیال میں مولانا صاحب کی تقریر میں شہداء کی توہین والی کوئی بات نہیں آتی۔ اگر آپ واقعی مولانا صاحب کو شہداء کی توہین کا مرتکب قرار دینا چاہتے ہیں، تو پھر تاریخ کا بھی حساب کریں۔
پاکستان کے اپنے جرنیلوں نے کتابیں لکھی ہیں۔
سینئر صحافی عبداللہ مہمند کی گفتگو
#حلف_نبھاؤ_بارڈرجاؤ
#سلیکشن_مافیا_نامنظور
#آئین_شکن_مقدس_گائے
#شہداء_کو_ڈھال_نہ_بناؤ
#معافی_مائی_فٹ
#مولانا_شان_پاکستان
@TruthTrumpPost ⭕The US has shown no mercy to Iranian deer either
After the US attacks on Kharg Island, 25 deer have been confirmed dead so far.
The deputy director of the Department of Environmental Protection's Wildlife Protection Office says that these wildlife loss figures relate to areas