نبی کریم ﷺ کو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے بے حد محبت تھی، اور آپ ﷺ ان کے وصال کے بعد بھی ان کا ذکر خیر فرمایا کرتے تھے۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ کبھی ایسا ہوتا کہ رسول اللہ ﷺ بکری ذبح فرماتے، پھر اس کا گوشت ٹکڑوں میں تقسیم کر کے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی سہیلیوں کے گھروں میں بھیج دیتے، صرف اس لیے کہ وہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی سہیلیاں تھیں۔
یہ محبت، وفاداری اور تعلق نبھانے کی اعلیٰ مثال ہے۔
حوالہ: صحیح مسلم
یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ سچی محبت وفات کے بعد بھی باقی رہتی ہے، اور اپنے پیاروں کے تعلقات کو نبھانا بھی وفاداری کا حصہ ہے۔
سن 2 ہجری کا وہ مبارک دن… مدینہ کی فضا میں سادگی تھی، مگر آسمانوں میں خوشی کا شور تھا۔ یہ کسی بادشاہ کی بیٹی کا نکاح نہ تھا، یہ کائنات کے سردار ﷺ کی سب سے پیاری بیٹی کا نکاح تھا۔
رسولِ اکرم ﷺ کی لختِ جگر، سیدہ فاطمہؓ کا نکاح سیدنا علیؓ سے طے پایا۔ یہ رشتہ دولت، جاہ و منصب یا ظاہری شان و شوکت کی بنیاد پر نہیں تھا، بلکہ ایمان، تقویٰ اور اخلاص کی بنیاد پر تھا۔
آپ ﷺ نے سیدنا انس بن مالکؓ کو فرمایا کہ معزز صحابہ کو بلایا جائے۔ مجلس میں سیدنا ابوبکر صدیقؓ، سیدنا عمر بن خطابؓ، سیدنا عثمان بن عفانؓ اور سیدنا عبدالرحمن بن عوفؓ جیسے جلیل القدر صحابہ موجود تھے۔ سب کے سامنے نبی کریم ﷺ نے خطبہ ارشاد فرمایا اور نہایت وقار کے ساتھ نکاح پڑھا دیا۔
یہ نکاح سادگی کا ایسا اعلان تھا جو قیامت تک کے لیے معیار بن گیا۔
جہیز میں کیا تھا؟
نہ سونے کے زیور، نہ قیمتی ساز و سامان۔
صرف ایک کملی، بان کی چارپائی، کھجور کی چھال سے بھرا ہوا چمڑے کا گدا، ایک مشکیزہ، ایک چھاگل، دو چکیاں اور چند مٹی کے برتن۔
یہی تھا دنیا کی سب سے افضل خاتونؓ کا سامانِ رخصتی۔
یہی تھا اس گھر کی بنیاد جس سے حسنؓ و حسینؓ جیسے چراغ روشن ہوئے۔
صحابی رسول حضرت حارثہ بن نعمانؓ نے اپنا مکان پیش کیا تاکہ یہ مقدس جوڑا وہاں سکونت اختیار کرے۔ یہ بھی اخوت اور ایثار کی ایک روشن مثال تھی۔
رخصتی کے بعد نبی کریم ﷺ خود تشریف لائے۔ پانی منگوایا، اس میں کلی فرمائی، پھر سیدنا علیؓ کے سینہ اور بازوؤں پر اور سیدہ فاطمہؓ کے سر اور سینے پر چھڑکا۔ پھر آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کر دعا فرمائی:
“اے اللہ! میں فاطمہ اور ان کی اولاد کو تیری پناہ میں دیتا ہوں، انہیں شیطان کے شر سے محفوظ فرما۔”
یہ دعا صرف ایک باپ کی دعا نہیں تھی، یہ امت کے لیے ایک پیغام تھا — کہ نکاح کی اصل برکت اللہ کی حفاظت اور دعا میں ہے، نہ کہ نمود و نمائش میں۔
Former #Pakistan prime minister #ImranKhan has suffered severe vision loss in prison.
His family and lawyer say he has 15% vision left in his right eye after prison authorities neglected to take action for months.
I have contacted Pakistani officials for comment.
⚠️اگر اپ اسے ری ٹویٹ نہیں کریں گے تو یہ ان لوگوں کے ساتھ زیادتی ہوگی جو عمران خان کے لیے باہر نکلے ہوئے ہیں⚠️
لاہور مال روڈ پارٹی کا حقیقی اثاثہ یہی نوجوان ہیں۔