Member PEC,pakistan Excellence Club x-writer expressnews,Managing editor at siasiaffairs, analyst at PTV,KTN,Metro1 &TNN int tv,(Humanity is first then Faith)
مادرِ جمہوریت بیگم نصرت بھٹو کی برسی پر قذافی اسٹیڈیم میں ان کے لہولہان چہرے کی تصویر آنکھوں کے سامنے ہے، میرے لیے اس تصویر کو دیکھنا کبھی آسان نہیں رہا۔
میرے لئے یہ تصور بھی کبھی آسان نہیں رہا کہ بیگم نصرت بھٹو راولپنڈی جیل کی سلاخوں کے پیچھے شہید ذوالفقار علی بھٹو کو الوداع کہہ رہی تھیں اور جب عدالتی قتل کے بعد قائدعوام سپردِ خاک ہوئے تو ان کی شریک حیات کو تدفین میں شرکت کی اجازت تک نہیں ملی، اسی غم کے ساتھ انہوں نے بکھری ہوئی پارٹی کو سنبھالا اور آمریت کے خلاف تحریکِ بحالیٔ جمہوریت کو ایک بڑی تحریک بنادیا، انہوں نے بیٹی اور بیٹوں کی جدائی بھی سہی اور پھر بھی عام آدمی کے دکھ بانٹتی رہیں۔
شہید محترمہ بینظیر بھٹو کو جب حوصلے کی مثال دینا ہوتی تو وہ اپنی والدہ کا ذکر کرتی تھیں، آج بیگم نصرت بھٹو کو یاد کرتے ہوئے محسوس کررہا ہوں کہ جس ماں کی ہمت پر مجھے ناز ہے، اس کی ہمت کے پیچھے بھی ایک ماں تھی۔