یہ نہتی لڑکی اپنی قوم کے حقوق کے لیے بندوق والوں سے لڑی ہے۔ اسکا پرامن احتجاج دہشت گردی نہیں ہے۔ جبری گمشدگیوں اور مسخ شدہ لاشوں میں اصل دہشتگردی ہے جسے روکنا ہر پاکستانی کا فرض ہے۔
ماہرنگ کے لیے آواز اٹھائیے ورنہ کل آپکی بیٹی بھی یہاں ہو سکتی ہے۔پاکستان زندہ باد بلوچستان پائندہ باد
کشمیر کو جلیانوالہ باغ بنا دیا گیا ہے، اپنے ہی بیٹوں پر گولیاں چلائیں گئیں، انکی لاشیں گرائی گئیں، کوئی اس پر بات کریگا؟
اسے پہلے 9 مئی کو قتلِ عام ہوا، ڈی چوک پر اپنے ہی شہریوں کا خون بہایا گیا۔ مریدکے سے پختونخوا تک، بلوچستان سے راولاکوٹ تک، اس ملک کو قبرستان بنا دیا گیا ہے۔
ان حالات کا ذمعہ دار عاصم منیر ہے۔ پاکستان پاکستانیوں کا ہے تم جرنیلوں کا نہیں! اپنے بیرکوں میں واپس جاو نہیں تو پورا پاکستان کشمیر بن جائیگا!
کشمیر میں قتل عام :
وہ فوجی درندے اور بھیڑیے جنہوں نے پچھلے سال اسلام آباد اور مریدکے میں سینکڑوں لوگوں کا قتل عام کیا، گزشتہ رات (7/8 جون 2026) احتجاج کرنے والے کشمیریوں پر وحشیانہ حملہ کردیا، جس نے عاصم منیر کو پاکستان کے معصوم شہریوں کا خبیث اور پاگل قاتل ثابت کر دیا ہے-
اس ایک واقعے نے پاکستان کے کشمیر پر 70 سالہ دعوے کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے۔ اب صرف آزادی کی جدوجہد ہی شروع ہو گی -
اس پاکستانی جنتا کو اجتماعی قتل کرنے پر کٹہرے میں کھڑا کرنا ہوگا ۔ مغل بادشاہ شاہ جہاں کے دور میں کشمیر کے بارے میں کہا جاتا تھا: اگر فردوس بر روی زمین است، ہمین است و ہمین است و ہمین است، جس کا مطلب ہے: "اگر زمین پر کہیں جنت ہے تو وہ یہی ہے، یہی ہے، یہی ہے۔"عاصم منیر نے اسے ایک زندہ جہنم بنا دیا ہے جو بالآخر خود اسے اور اس کی جنتا کو جلا کر راکھ کر دے گا۔
واقعے کی دو مختصر جھلکیاں۔
پاکستان تحریک انصاف خیبرپختونخوا کے صدر جنید اکبر خان کی گلگت بلتستان میں انتخابی مہم کے دوران گرفتاری اور بعد ازاں صوبہ بدری بدترین سیاسی انتقام، پری پول ریگنگ اور جمہوری اقدار پر کھلا حملہ ہے۔یہ عوامی ووٹ پر ڈاکہ کی کوشش ہے،
حکمران خوفزدہ ہیں اور فسطائیت پر اتر آئے ہیں۔
ایک طرف سرکاری مشینری من پسند امیدواروں اور جماعتوں کیلئے استعمال کی جارہی ہے اور دوسری طرف تحریک انصاف سے جلسہ،جلوس اور انتخابی مہم کا جمہوری حق چھینا جارہا ہے۔
گلگت بلتستان کے باشعور عوام اس فاشزم کو مسترد کرینگے۔
دنیا کے اسٹیج پر اس وقت دو ہی فاشسٹ موجود ہیں: ایک ڈونلڈ ٹرمپ اور دوسرا عاصم منیر۔ دونوں ایک دوسرے کی دن رات تعریف و توصیف میں مگن ہیں۔
آج سکردو کی فلائٹ پر جاتے ہوئے اسد قیصر کے ساتھ جو سلوک کیا گیا، وہ سب کے سامنے ہے۔ وفاقی دارالحکومت کے ایئرپورٹ کی ٹریفک کئی گھنٹوں تک صرف اس لیے بند رکھی گئی کہ ایک سیاسی جماعت کا رہنما انتخابی مہم کے لیے نہ جا سکے۔ جنید اکبر کو بھی انتخابی مہم کے علاقے سے نکال دیا گیا۔
عاصم منیر، تم ایک فاشسٹ ہو۔ اور فاشسٹ، چاہے وہ مسولینی ہو، رومانیہ کا چاؤشیسکو ہو یا ہٹلر، ان سب کا انجام تاریخ میں درج ہے۔
جب اپنی ہی عوام اور اپنی ہی فوج کسی کے خلاف ہو جائے تو پھر کیا ہوتا ہے؟