ستائیس ستمبر کا احتجاج پی ٹی آئی کا آئینی اور قانونی حق ہے اور ہم اس حق کے لیے پی ٹی آئی کے ہم آواز ہیں۔ لیکن موجودہ حکومت اور ریاستی مشینری کی حالیہ تاریخ خون اور قتل و غارت سے بھری پڑی ہے۔ میں پاکستان کے بڑے علماء، سینئیر صحافیوں، سول سوسائٹی کے بڑے ناموں، تاجروں اور بڑے انفلوئنسرز سے درخواست کرتا ہوں کہ آگے بڑھیں اور دونوں فریقین کو کسی ایک متفقہ نکتے پر قائل کرنے کی کوشش کریں۔ ہم سب کو کوشش کرنی چاہیے کہ اس سارے معاملے میں کوئی ایک لاش نہ کرے، کسی ایک گھر سے بھی جنازہ نہ اُٹھے۔
اللہ پاکستان پر رحم فرمائے
#ReleaseImranKhan
جیسے سقراط جان گیا تھا کہ زہر کا پیالہ اُسے مارنے والا نہیں ہے، یہ جو کہتے ہیں عمران خان جیل میں مزید خطرناک ہوگیا ہے درست کہتے ہیں۔ بہت خطرناک ہوتا ہے وہ آدمی جو اپنے انجام کی قید سے آزاد ہوجائے۔ جو جان جائے کہ اُس نے اپنی زندگی اُس کام میں لگا دی کہ جس کے لیے اُسے تخلیق کیا گیا تھا، جو اپنی پراگریس سے مطمئن ہوجائے۔ جسے اپنے خالق کے سامنے پیش ہونے میں کوئی عُذر نہ رہے۔ میں سوچتا ہوں کہ وہ جو اپنے رب سے سننا چاہتا تھا کہ “you tried your best” تو کیا ہم ساری قوم اور دنیا کا ہر مظلوم اس بات پر گواہ نہیں کہ اُس نے کوئی کثر نہیں چھوڑی؟ شوکت خانم سے لے کر نمل تک اور احساس سے لے کر ایک پوری قوم کو گویا کرنے تک؟ افغانستان سے لے کر کشمیر اور فلسطین پر ہوتے جبر سے لے کر اسلاموفوبیہ تک؟ اُمت مسلمہ کی آواز بننے سے لے کر آزادی کی اس جنگ تک۔۔ ?Didn’t he try his best اُس کے ہاتھ میں تو نیت اور کوشش تھی وہ اُس نے کرلی، دل و جان سے۔ وہ کامیاب بھی ہوگیا۔ اُس نے وہ کر دکھایا جو تاریخ میں کسی کو کرنا نصیب نہیں ہوا تھا۔ اُس نے اس قوم کو شعور دے دیا جس کی غفلت کی نیند پر کئی سوں کے خوابوں کے محل کھڑے تھے۔پر میں سوچتا ہوں اس سے آگے کیا وہ واقعی ہماری تقدیر کی قید سے آزاد ہوگیا ہے؟ کتنی آسانی سے کہہ دیتے ہیں عمران خان جیل میں خوش باش تھا۔ بشری بی بی کو اکلوتی تشویش یہ تھی کہ پیشیوں کے چکر میں ان کا اعتکاف نہ چھوٹ جائے۔ جب یہ کہتے ہیں کہ وہ سو سال بھی جیل میں رہنے کو تیار ہیں تو میرے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔۔ یہ جو چوبیس کروڑ کا ملک اپنے پنجوں پر چل رہا ہے اس خوف میں کہ کسی کی دُم پر پاؤں نہ پڑ جائے۔ یہ جو اپنے سانس لینے کے حق کے لیے دستِ سوال دراز کرتے ہوئے بھی “جل تو جلال تو” کا ورد کر رہا ہوتا ہے۔ یہ جو چہروں پر تفکر ہے۔ انداز میں بے بسی ہے۔ آنکھوں میں غصہ ہے۔ لہجوں میں حالات کی تلخی۔ یہ جو سجدوں میں اُسی کا تذکرہ ہے۔ یہ جو بے دلی آسیب کیطرح ہمارے شہروں میں منڈیروں سے لٹک رہی ہے۔ سڑک کنارے فٹ پاتھوں پر بے کسی کے مزاروں پر آنکھیں بجھتے دیوں سی ہوگئی ہیں۔ یہ جو اپنی ہی گلیاں اژدھے سی پھنک پھیلائے اپنے باسیوں کو نگلنے بیٹھی ہیں۔ لا قانونیت، مہنگائی، بے وقعتی، بے سروسامانی۔ یہ قوم تو اس شخص کے بغیر کسی قہرزدہ بستی کے باشندوں سی لگنے لگی ہے۔ وہ جو کچھ روز پہلے ایک شعر گردش کر رہا تھا۔۔ غریب شہر تیرا خیرخواہ قید میں ہے۔ یہ جو ہمیں اللہ کے بعد ایک اس بات کا آسرہ ہے کہ کوئی ہے جو ہمارا خیر خواہ ہے۔۔ کیا وہ واقعی یہ سوچتا ہے کہ اُس کی ہماری طرف حُجت تمام ہوگئی ہے؟ کہ بس اُس کی ضرورت یہیں تک تھی اور اِس سے آگے ہم اپنے والی آپ ہیں؟ چاہیں تو اُس کا پڑھایا سبق آنکھوں میں بسائیں عمل میں لائیں۔ چاہیں تو تاراج ہوجائیں۔ جئیں یا مریں۔ میں سوچتا ہوں، اپنے اردگرد دیکھتا ہوں، یہ جو چند “اپنے” ابھی سے بیٹھ کر وراثت کی تقسیم میں لگ گئے ہیں۔ یہ جو ایک ہی فکر ہے کہ کوئی اُس سے زیادہ نہ سمیٹ لے جائے۔ یہ جو لاکھوں کی جہد سے آنکھیں پھیر کر مقصد کے بجائے محض من مرضی کے صلے کی نیت سے قربانیاں ازبر کرائی جارہی ہیں۔ یہ جو اُس کو بھول کر ہر معاملے کی فکر طاری ہے۔ یہ جانتے بھی ہیں کہ جو وہ کہہ رہا ہے اُس کے معنی کیا ہیں؟ کسی کے ہاتھ ککھ نہ رہیگا۔ نہ طاقت والوں کے ہاتھ۔ نا طاقت کے متلاشیوں کے ہاتھ۔۔ وہ جو طاقت کا سرچشمہ ہیں کسی کی نسبت سے ہمارے، تمہارے ہیں۔ اور جس سے اُن کو نسبت ہے وہ سوچتا ہے اُس نے اپنی حُجت پوری کردی ہے۔ اس سے آگے اپنا انجام جانتے ہو؟ کون ہو تم؟ اپنی خوش قسمتی کو محض بدنصیبی میں بدلنے جتنے اہل ہو۔ کس گمان میں جیتے ہو؟ عمران خان جیل میں مطمئن ہوگا، اُس کا اطمینان صرف ہماری غیرت کے لیے تازیانہ بھی ہوتا تو بہت تھا مگر وہ جو اپنے انجام کی قید سے آزاد ہوگیا ہے، یوں جو ہماری تقدیر کی فکر سے بے اعتنا ہوگیا ہے، اُس کا اطمینان ہماری موت کا پروانہ بن جانا ہے۔
جب فرعون کی آنکھوں کے سامنے اللہ نے موسی کے لشکر کے لیے پانی میں رستہ بنایا تو اللہ نے اُسے ایک آخری موقع دیا تھا حق کو تسلیم کرنے کا۔ یہ ماننے کا کہ وہی ایک ذات ہے کہ جو قادرِ مطلق ہے۔ کہ فرعون کوئ نہیں ہوتا خلقِ خدا کے فیصلے کرنے والا۔ مگر فرعون اپنی طاقت کے غرور میں مست چلتا گیا۔ اس کے تکبر نے اُسے سامنے کی حقیقت نہیں دیکھنے دی۔ یہ حقیقت کہ اللہ تعالی لا الہ الا للہ پر ایمان رکھنے والوں کی پشت پر ہے۔ یہ کہ اُس کی خدائ جھوٹ پر کھڑی ہے۔ وہ اپنی گمراہی میں اس حد تک چلا گیا تھا کہ وہ خود کو ملنے والے آخری موقع کو بھی نہیں پہچان سکا۔
موسی کے لشکر کے سامنے بھی تو ایسا لمحہ آیا تھا کہ جدھر وہ نعوذ باللہ اللہ کی کبریائ سے مایوس ہو کر اُس کی حکمت پر سوال اٹھاتے۔ پیچھے خدائ کا دعویدار، آگے لپکتی لہریں۔ نا آگے جا سکتے نہ پیچھے مڑ سکتے۔ تھے تو وہ بھی انسان۔ ایک لمحے کو شاید انہوں نے بھی سوچا ہو کہ اُن کے سفر کا انجام بس یہی تھا۔ مگر کیا چیز تھی جو انہیں فرعون کے لشکر سے مختلف بنا رہی تھی؟ ایمان۔ ایمان کا تقاضہ تھا کہ وہ اپنا سرجھٹک کر اللہ پر بھروسہ رکھ کر آگے بڑھتے۔ کہ وہ اپنی reality کو confront کرتے، کیونکہ وہ حق پر تھے۔
فرعون کی فرعونیت اور اہلِ ایمان کا انجام صرف اس ایک لمحے کے فیصلے پر مربوط تھا۔ وہ ایک لمحہ جس میں فرعون نے اپنے تکبر میں رُکنے سے انکار کیا۔ وہ ایک لمحہ جس میں اہل ایمان نے کسی وسوسے کو دل میں جگہ نہ دے کر جھکنے سے انکار کیا۔ اُس ایک لمحے نے دونوں لشکروں کا انجام لکھا۔ اللہ چاہتا تو وہ فرعون کو اس لمحے سے پہلے بھی غرق کرسکتا تھا۔ اللہ چاہتا تو ایمان والو کو کسی اور راستے بھی نکال سکتا تھا اُس کی خدائ میں کون سی بات ناممکن تھی؟
مگر اللہ نے اُس ایک لمحے میں دونوں لشکروں کو موقع دیا۔ ایک کے تکبر نے اُسے غرق کردیا۔ دوسرے کے توکل نے اُسے امر کردیا۔
میرے پاکستانیو!
اللہ تبارک و تعالی جب ہم سے پچھلی قوموں کے واقعات بیان کرتا ہے تو کہتا ہے کہ اِن سے سبق سیکھو۔ آج ہم ایسے ہی ایک لمحے میں کھڑے ہیں۔ وقت کا فرعون اپنی طاقت کے نشے میں نقارۂ خدا کو جھٹلا چکا ہے۔ آپ کے فیصلے پر بارگیننگ اور ڈیلیں کی جارہی ہیں۔ اقتدار کا فیصلہ مفادِ عامہ/ ملکی مفاد نہیں اپنی ذات اور اپنے آقاؤں کے مفادات کو مدنظر رکھ کر کیا جارہا ہے۔ پاکستان کے مستقبل کو داؤ پر لگا کر چند افراد اپنی طاقت کو دوام دینے کی تگ و دو میں ہیں۔
مگر آپ نے گھبرانا نہیں ہے۔ جو ایمان ہمیں اس کنارے تک لے کر آیا ہے وہی ہمیں یہ دریا پار بھی کرائیگا اور اسی پانی میں ان کا تکبر بھی غرق ہوگا۔ ہمیں نظر اپنی منزل پر رکھنی ہے اور دل میں وسوسوں کو جگہ نہیں دینی۔ یہ اپنا آخری موقع گنوا چکے ہیں اور ہمیں اللہ کے بھروسے پانی میں قدم رکھنا ہے۔
اپنے امیدواروں کی پشت پر کھڑے رہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے دو سال کی فسطائیت اور ہر قسم کے دباؤ کو برداشت کیا ہے۔ صرف اللہ اور آپ کے بھروسے۔ یہ آگے کے مرحلے بھی آپ کی سپورٹ سے طے کریں گے۔
اگر آپ کے امیدوار جیت گئے ہیں تو اِس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کا کام یہاں ختم ہوگیا ہے۔ آواز اٹھاتے رہیں جس طرح ستائیس سال آپ کے لیڈر نے آپ کے حق کے لیے آواز اٹھائی ہے۔
یاد رکھیں یہ الیکشن نہیں ہماری آزادی کی جنگ ہے۔ ہمارے لیے ایک ایک حلقہ اہم ہے۔ اس امر کو یقینی بنائیں کہ تمام حلقوں پر فارم-۴۵ کے مطابق حتمی نتائج مرتب ہوں۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو پرامن طور پر متعلقہ آر او آفس کے باہر بیٹھیں اور تب تک بیٹھے رہیں جب تک درست نتیجہ جاری نہیں ہوتا۔
میں جانتا ہوں ہم میں سے بہت سے مایوس ہورہے ہوں گے۔ بہت سوں کے ذہن میں یہ ڈالا جارہا ہوگا کہ تمہارا اختیار بس یہیں تک تھا۔ مگر یاد رکھیں بحیثیتِ قوم ہماری زندگی موت کا فیصلہ اس لمحے نے کرنا ہے۔ اگر ہم ڈٹے رہتے ہیں۔ ہم اِن کی خدائی کے سامنے سر تسلیم خم کرنے سے انکار نہیں کرتے تو اُس ذات کے لیے نہ کل پانی میں رستے بنانا مشکل تھا نہ آج مشکل ہے۔
PTI نے یا اسکے کسی بھی امیدوار نے انتخابات کا کوئیبائیکاٹ نہیں کیا۔
کمپیوٹر سے جعلی ویڈیوز بنا کر پھیلائی جا رہی ہیں۔
مافیا ہار چکا ہے اور اب روندی مار رہا ہے۔