لاہور چیمبر آف کامرس کاشف انور نے کہا کہ تازہ بجٹ میں سب سے زیادہ توجہ آئی ٹی سیکٹر کو دی گئی ہے، فری لانسرز پر ٹیکس کی شرح کو کم کردیا گیا ہے، آئی ٹی کے شعبے میں ایکسپورٹ کرنے والی کمپنیوں کو کمپیوٹر وغیرہ درآمد کرنے پر چھوٹ دی گئی ہے، ایس ایم ای سیکٹر کو بھی بہت ریلیف دیا گیا ہے۔
کاشف انور نے کہا کہ حکومت، برآمدی شعبے کے فروغ کی بھی خواہشمند ہے، حکومت چاہتی ہے کہ اس بار ہماری برآمدات 30 ارب ڈالر تک چلی جائیں، ٹیکسٹائل انڈسٹری کے فروغ کے لیے بھی پاکستان میں نہ بننے والے دھاگے کی ڈیوٹی کو 5 فیصد کردیا گیا ہے۔
دوسری جانب پشاور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے قائم مقام صدر اعجاز خان آفریدی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں بدترین معاشی صورتحال ہے، تاریخی مہنگائی ہے، لوگ ملک چھوڑ کر بھاگ رہے ہیں، غیر معمولی حالات میں ایک غیر معمولی بجٹ ہونا چاہیے تھا تاکہ لوگوں کا اعتماد بحال ہو سکے مگر ایسا نہ ہوا۔
انہوں نے کہا کہ تازہ بجٹ میں ٹیکسز بڑھائے گئے ہیں، ہدف 7 ہزار 200 سے بڑھا کر 9 ہزار 200 ارب روپے رکھا گیا ہے حالانکہ درآمدات ابھی بھی بند ہیں، ریونیو کہاں سے ملے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ تازہ بجٹ محض اعدادوشمار کا گورکھ دھندہ ہے، اس میں کوئی ایسی بات نہیں ہے جس سے ہم موجودہ جمود سے نکل سکیں اور بحران ختم ہوسکے۔
#IshaqDar