اس دس سال کے بچے کو پچھلے ہفتے اسرائیلی اغوا کر کے لے گئے تھے۔
کل اس کی لاش واپس کردی۔
فقط دس سال کا بچہ۔ فقط دس سال کا۔
ہے کوئ اس دُنیا میں جو اسرائیلیوں کو لگام ڈال سکے ؟ ہے کوئ ؟ https://t.co/761JyTI2KR
مطالبہ جاری رکھیں 🚨
آگر زیادہ نہیں تو کم از کم ایک ٹویٹ عمران خان کی علاج کے لئے ضرور کریں۔ مطالبہ کریں کہ شوکت خانم کے ڈاکٹرز کی موجودگی میں خان صاحب کو فوری شفا انٹرنیشنل منتقل کر دیا جائے۔
سوشل میڈیا اس پر ضرور آواز اُٹھائیں
آواز اٹھائیں 🚨
رپورٹس کے مطابق اعجاز چوہدری کے گردے صرف تقریباً 20٪ کام کر رہے ہیں، وزن تیزی سے کم ہو رہا ہے اور صحت مسلسل بگڑ رہی ہے۔
اعجاز چوہدری کا کوئی مخصوص گروپ نہیں اس لئے جتنا بھی ممکن ہو رہائی کے لئے آواز اٹھائیں
بختاور بھٹو کا بیان انہیں الٹا پڑ گیا : بختاور کے دعوے پر ٹویٹر کمیونٹی نوٹ لگ گیا ۔ مختلف جائیدادوں کی تفصیلات حوالوں کے ساتھ نوٹ میں ��امل : "دبئی ان لاکڈ" رپورٹنگ میں دبئی کی وہ جائیدادیں سامنے آئی ہیں جو زرداری خاندان سے منسلک بتائی جاتی ہیں:
• اپارٹمنٹ — جمیرا | مالکان: بلاول، آصفہ :
• اپارٹمنٹ — الصفاء | مالکان: بلاول، آصفہ:
• 2 جائیدادیں — دبئی | مالکان: بلاول، آصفہ، بختاور”
خبر کا سورس لنک جاننے کیلئے QR Code سکین کریں۔۔
پاکستانی انٹیلی جنس سروسز (ISI) دو الگ الگ ہیں۔ یعنی ایک ہی ISI ہے، لیکن حقیقت میں یہ ہیں
1️⃣ ایک طرف وہ لوگ ہیں جو برط��نوی فوجی اکیڈمی سینڈہرسٹ میں تربی�� یافتہ ہیں۔ وہ سب انگریزی بولتے ہیں جیسے تم اور میں۔ وہ امریکہ سے محبت کرتے ہیں۔ بہت سے یہاں چھٹیاں گزارتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ ان کے بچے امریکہ میں پڑھیں۔ "اور وہ CIA کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار ہیں" یہ وہ لوگ ہیں جو ہمارے لئے آپریشنز کرتے تھے۔
2️⃣ اور پھر دوسرے وہ لوگ ہیں جن کی لمبی داڑھیاں ہیں، چھوٹی شلوار قمیض پہنے ہوئے، جو تمہیں گھور کر دیکھتے ہیں۔ بن لادن کو ایبٹ آباد میں رکھا، جو ویسٹ پوائنٹ کے بالکل بیچ میں ہے۔ مغربی لوگوں پر گولی چلاتے ہیں اور جب دوسرے لوگ مغربیوں پر گولی چلاتے ہیں تو کوئی فالو اپ تفتیش نہیں کرتے۔ اس انٹیلی جنس سروس کے اندر دو بالکل مختلف قس��یں ہیں
(جان کریاکو سابق CIA)
جب امریکہ نے ویت نامی انقلابی��ں کے ساتھ مذاکرات کا فیصلہ کیا تو اس نے انہیں کہا کہ پیرس میں اپنا ایک وفد بھیجیں تاکہ جنگ بندی پر بات چیت ہوسکے۔ اُس وقت ویت نامی مجاہدین امریکی فوجیوں پر کاری ضربیں لگا چکے تھے اور ان کے ساتھ سخت سلوک بھی کیا تھا۔
چنانچہ ویت نامی انقلابیوں نے چار افراد پر مشتمل ایک وفد بھیجا، دو خواتین اور دو مرد۔ امریکی خفیہ اداروں نے اس وفد کے لیے پیرس کے اعلیٰ ترین ہوٹلوں میں قیام و طعام کا بندوبست کیا، ہر طرح کی آسائشیں، راحتیں اور نعمتیں مہیا کر دیں۔
لیکن جب وفد پیرس کے ہوائی اڈے پر اُترا تو وہاں موجود امریکی کاریں انہیں ہوٹل لے جانے کے لیے تیار کھڑی تھیں، مگر ویت نامی وفد ن�� ان میں بیٹھنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ وہ اپنی مرضی سے قیام کریں گے اور وقت پر اجلاس میں پہنچ جائیں گے۔
امریکی وفد کو یہ سن کر حیرت ہوئی۔ انہوں نے پوچھا: "آپ کہاں قیام کریں گے��"
وفد کے سربراہ نے جواب دیا: "ہم پیرس کے ایک مضافاتی علاقے میں مقیم ایک ویت نامی طالب علم کے گھر میں رہیں گے۔"
امریکی نمائندہ مزید حیران ہوا اور کہا: "ہم نے تو آپ کے لیے ایک شاندار اور آرام دہ ہوٹل کا بندوبست کیا ہے۔"
اس پر ویت نامی نے کہا:
"ہم تو آپ سے لڑائی کے دوران پہاڑوں میں رہتے تھے، چٹانوں پر سوتے اور گھاس پھوس کھا کر گزارا کرتے تھے۔ اگر اب ہماری زندگی بدل گئی تو ڈرتے ہیں کہ کہیں ہمارے ضمیر بھی نہ بدل جائیں۔ اس لیے ہمیں ہماری حالت پر رہنے دیں۔"
چنانچہ وفد نے اس طالب علم کے گھر میں قیام کیا، اور بعد ازاں یہی مذاکرات امریکی قبضے کے مکمل خاتمے کا سبب بنے۔
جب دونوں وفود ہوائی اڈے پر ملاقات کے لیے آئے تو امریکی نمائندہ مصافحہ کرنے کے لیے آگے بڑھا مگر ویت نامیوں نے ہاتھ بڑھانے سے انکار کر دیا اور ان کے سربراہ نے کہا:
"ہم اب بھی دشمن ہیں، ہمارے عوام نے ہمیں آپ سے مصافحہ کرنے کا اختیار نہیں دیا۔
جو اپنا ضمیر بیچ دے، وہ اپنا وطن بھی بیچ دیتا ہے۔"
ایک دن جنرل "جیاب" جو ویت نامی انقلابی رہنماؤں میں سے تھے، نے ستر کی دہائی میں ایک عربی دارالحکومت کا دورہ کیا، جہاں فلسطینی "انقلابی" تنظیمیں موجود تھیں۔
وہاں جا کر اُس نے دیکھا کہ ان کے قائدین پرتعیش زندگی گزار رہے ہیں: جرمن گاڑیاں، کوبائی سگری، اطالوی مہنگے سوٹ، اور فرانسیسی قیمتی خوشبوئیں۔ جب اس نے یہ سب اپنی ویت کانگ کے جنگلوں کی زندگی سے موازنہ کیا تو بے ساختہ ان سے کہا:
"آپ کی بغاوت کبھی کامیاب نہیں ہوگی !"
انہوں نے پوچھا: "کیوں؟"
جنرل جیاب نے جواب دیا:
"کیونکہ انقلاب اور دولت اکٹھے نہیں رہ سکتے۔
وہ بغاوت جو شعور کے بغیر ہو دہشت گردی میں بدل جاتی ہے، اور وہ بغاوت جس پر مال و دولت برسائی جائے اس کے قائدین چور بن جاتے ہیں۔
اگر کوئی شخص انقلاب کا دعویٰ کرے مگر خود محلوں اور کوٹھیوں میں رہے، لذیذ کھانے کھائے، اور عیش و عشرت کی زندگی بسر کرے، جبکہ باقی عوام کیمپوں میں رہیں اور زندہ رہنے کے لیے بین الاقوامی امداد کے محتاج ہوں… تو سمجھ لو کہ وہ قیادت حقیقتاً انقلاب لانا ہی نہیں چاہتی۔
اور جس قیادت کو انقلاب کی کامیابی مطلوب ہی نہ ہو، اس کی بغاوت کبھی کامیاب نہیں ہوسکتی۔
مستند حوالہ جات :
1) Stanley Karnow — Vietnam: A History
اس کتاب میں پیرس امن مذاکرات، ویت نامی قیادت کے اصولی رویّے، سادگی اور امریکی دباؤ کو مسترد کرنے کے واقعات تفصیل سے بیان کیے گئے ہیں۔
2) Vo Nguyen Giap — People’s War, People’s Army
جنرل جیاب کی یہ مستند تصنیف ہے جس میں وہ واضح کرتے ہیں کہ انقلاب کی کامیابی کے لیے اخلاقی دیانت، عوام سے قربت اور سادہ طرزِ زندگی ناگزیر ہے۔
3) Frantz Fanon — The Wretched of the Earth
یہ کتاب انقلابی تحریکوں کے زوال پر گہرا تجزیہ پیش کرتی ہے اور واضح کرتی ہے کہ جب انقلابی قیادت مراعات اور عیش و عشرت میں مبتلا ہو جائے تو تحریک اپنی روح کھو دیتی ہے۔
منتخب
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“قریب ہے کہ دیگر قومیں تم پر ایسے ہی ٹوٹ پڑیں جیسے کھانے والے پیالوں پر ٹوٹ پڑتے ہیں“ تو ایک کہنے والے نے کہا: کیا ہم اسوقت تعداد میں کم ہوں گے؟ آپﷺ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ تم اسوقت بہت ہو گے، لیکن تم سیلاب کی جھاگ کے مانند ہو گے، اللہ تعالیٰ تمہارے دشمن کے سینوں سے تمہارا خوف نکال دے گا، اور تمہارے دلوں میں «وہن» ڈال دے گا“ تو ایک کہنے والے نے کہا: اللہ کے رسولﷺ! «وہن» کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ دنیا کی محبت اور موت کا ڈر ہے“