اس پر 300 مقدمات قائم ہیں، جھوٹے مقدمات میں قیدتنہائی کی سزا کاٹ رہا ہے، اس کی بیوی سخت ترین حالات میں جیل کاٹ رہی ہے، ایک بھانجا ملٹری کورٹ سے دس سال کی سزا بھگت رہا ہے، دوسرے دو بھانجوں کو بھی گرفتار کرکے غداری کے مقدمات کی دھمکیاں مل رہی ہیں، چار ماہ سے بہنوں سے ملاقات نہیں ہونے دی گئی، آٹھ ماہ سے دونوں بیٹوں سے بات نہیں ہوسکی، اسے وضو کیلئے صاف پانی نہیں دیا جاتا، کھانے کیلئے مناسب خوراک فراہم نہیں ہوتی، ٹی وی، اخبارات کی سہولت واپس، بیرونی دنیا سے رابطہ منقطع۔
اس سب کے باوجود آج جب اس کی ملاقات کروا دی گئی تو وہ اپنی مشکلات کی بجائے وزیرستان میں جاری آپریشن پر فکرمند نظر آیا۔ اس نے بجائے اپنی رہائی کیلئے کوششیں کرنے کے، اپنی جماعت سے کہا ہے کہ وزیرستان میں جاری آپریشن بند کروائے۔
کہاں سے آیا ہے یہ لیڈر؟
کہاں سے لاؤ گے ایسا لیڈر؟
@imdad_soomro اگر ایساہے تو پہر وہ 50 روپے سٹمپ پیپر پہر 4 ہفتوں کے لیے جس نے پلیٹیں گرای اور دنیا میں ایسا نہیں تھا جو اس وقت نوازشریف میں گھسا تھا اور پہر 3 سال بعد بوٹ چاٹ کر ایا
وہ کیا تھا
لعنت پٹواریوں بیعیرتو
بریکنگ نیوز 🚨: انٹرنیشنل میڈیا پر تازہ رپورٹ. عمران خان کے آج جیل میں دو سال مکمل ہوگئے جس پر پی ٹی ائی نے ملک گیر احتجاج کیا۔ دفعہ 144 کے باوجود لوگ سڑکوں پر نکل آئیں 🔥
خبردار اسکو ریٹویٹ کیے بغیر کوئی نہ گزرے 🚨
بریکنگ نیوز 🔴
سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ"شدید Psychotic Disorder" میں مبتلا ہو گئے
سائیکوٹک ڈس ارڈر میں انسان دنیا سے خود کو لاتعلق محسوس کرتا ہے غیر حقیقی اوازیں یا خیالات اتے ہیں دوسروں سے انسان خوف محسوس کرتا ہے یہاں تک کہ اپنے سائے سے بھی اور خود کو اگ میں جلتا ہوا دیکھنے جیسے خیالات اتے ہیں اور شدید الجھن اور وہم کا شکار ہوتے ہیں۔ زرائع
مریم نواز کیری بہت اچھا کرتی ہے - عاصم منیر چوہان
لے فیر مریم نواز،
پندرہ مہینوں میں دس کھرب کی کرپشن۔۔۔ روزانہ کے حساب سے بائیس ارب روپے کیری کر رہی ہے۔۔
اخے، مریم نواز کیری بہت اچھا کرتی ہے۔
جیسا کنجر شریف خاندان، ویسا کنجر عاصم منیر چوہان!!!
ایران پر اسرائیلی حملے کی جزوئیات طے کرنا تھیں، اسی لئے باربار سعودی عرب اور امارات کے دورے ہورہے تھے، ورنہ حج کے دنوں میں کون عمرہ کرنے جاتا ہے؟ عاصم یزید نے ایک دفعہ پھر ثابت کیا کہ جرنیل ہمیشہ بکنے کیلئے تیار ہوتے ہیں۔۔
ماہ رنگ بلوچ اس وقت فوج کی تحویل میں ہے۔ فوج کا ترجمان خود ہی اس پر چارج شیٹ عائد کررہا ہے، خود ہی پراسیکیوٹ کرے گا، خود ہی ملٹری کورٹ میں مقدمہ چلوائے گا۔
ملٹری کورٹ کا جج کوئی کرنل رینک کا افسر ہوگا، جب وہ اپنے اعلی ترین افسر کی ماہ رنگ بلوچ کے بارے میں رائے پڑھے گا تو کیا وہ انصاف کے تقاضوں کو پورا کرسکے گا؟ کیا وہ وہی سزا نہ سنائے گا جو اوپر بیٹھے جرنیل اسے کہیں گے؟
ملٹری کورٹس جنگل کا قانون ہے اور ملٹری اس جنگل کے بھیڑیئے جن کے منہ کو انسانی خون لگ چکا ہے۔
اس ادارے کا مکمل صفایا کئے بغیر یہ ملک آگے نہیں بڑھ سکتا!!!