گنڈاپور نے 26 نومبر احتجاج کے بعد ایک بار بھی نہیں یہ کہا کہ عمران خان کو باہر نکالا جاۓ؟
کیونکہ گنڈاپور بھی 26 نومبر کے بعد بدل گیا ہے یہ وہ Pti والا گنڈاپور نہیں ہے
تین تین دفعہ حکومت کرنے والے وہ اشرافیہ جو آج تک ایک ایسا ہسپتال نہ بنا سکے جہاں ان کا اپنا علاج ہو سکے وہ ذاتی مفاد اور گھٹیا سیاست کے لیے پاکستان میں کینسر کے مریضوں کے واحد سہارے شوکت خانم کینسر ہسپتال کو نشانہ بنانے کا کوئی موقع نہیں جانے دیتے۔ غریب اور کمزور طبقے کو ریلیف دینا تو دور، یہ لوگ اپنے ذاتی مقاصد کے لئے ان کو اذیت دینے سے بھی گریز نہیں کرتے۔
افریقہ کے تین ادوار
سب سے پہلے کا فرعونی دور
پھر عربوں کا شمالی افریقہ کے کلچر پر گہرا اثر جب مصر سے مراکش تک عربوں کی حکومت قائم ہو گئی حتی کہ ان کی زبان پر بھی اثر پڑا
پھر موجودہ دور ہے
آپ ان خواتین کے لباس سے ان کے کلچر کا اندازہ لگا سکتے ہیں ۔
براعظم افریقہ کے ملک مراکش کے ساحلوں کے قریب یہ اسپین کے Canary Islands ہیں یہاں انٹر ہو جائیں تو سمجھیں آپ اسپین کے اندر ہیں آجکل تارکین وطن نے اسپئن کی ان جزائر کو ٹارگٹ بنا رکھا ہے
موریطانیہ سے کناری آئی لینڈز تک کا سفر
انٹرنیشنل آرگنائزیشن فارمائیگریشن (آئی او ایم) کے مطابق 2023 سے موریطانیہ انسانی سمگلروں کا اہم مرکز بن چکا ہے۔ اس کی وجہ دوسرے راستوں پر پابندیاں ہیں یہ راستہ بہت خطرناک ہے آئی او ایم کے اعداد و شمار کے مطابق رواں برس 170 افراد (جن میں 14 بچے بھی شامل ہیں) اسی راستے ہلاک یا لاپتہ ہو چکے ہیں۔
بہت سے پاکستانی یورپ میں بہتر روزگار کی تلاش میں خطرہ مول لینے کے لیے تیار ہوتے ہیں۔ یورپ میں پہلے سے مقیم تارکین وطن وہاں کی زندگی کو بہت شاندار بنا کر پیش کرتے ہیں اور پھر انسانی سمگلر جن کا کاروبار انھی خوابوں پر چلتا ہے اس صورتِ حال سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔
یہ تارکین وطن یورپ پہنچنے کے لیے اپنا سب کچھ داؤ پر لگا دیتے ہیں۔ وہ یا تو اپنے خاندان کی ساری جمع پونجی لگا دیتے ہیں یا اپنا سب کچھ بیچ کر سفر پر نکلتے ہیں۔
پاکستان سے موریطانیہ کے لیے کوئی براہِ راست پرواز نہیں اس لیے کچھ لوگ ایتھوپیا یا مشرق وسطیٰ کے ممالک سے آتے ہیں۔ تقریباً سبھی پہلے سینیگال پہنچتے ہیں اور پھر سڑک یا سینٹ لوئس کے قریب سینگال دریا کے ذریعے چھوٹی کشتیوں میں موریطانیہ داخل ہوتے ہیں۔