🇵🇰 14 اگست — آزادی کا اصل مطلب
14 اگست صرف جھنڈے لہرانے، ملی نغمے سننے اور سوشل میڈیا پر مبارکبادیں دینے کا دن نہیں۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ پاکستان ہمیں صرف ایک ملک کی صورت میں نہیں ملا تھا، بلکہ ایک خواب، ایک نظریے اور ایک ذمہ داری کے ساتھ ملا تھا۔
قائداعظم نے ہمیں یہ پیغام دیا کہ مسلمان کبھی غلامی قبول نہیں کرتا، بلکہ آزادی کے لیے جدوجہد کرتا ہے۔ پاکستان بھی اسی نظریے کے تحت قائم ہوا کہ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ انسان کو ہر قسم کی غلامی سے نجات کا راستہ دکھاتا ہے۔
آزادی کا مطلب صرف سرحدوں کا آزاد ہونا نہیں، بلکہ انسان کا اپنے حق کے لیے آزاد ہونا بھی ہے۔ ایسا معاشرہ جہاں قانون سب کے لیے برابر ہو، ادارے اپنی آئینی حدود میں رہیں، اختلافِ رائے کو برداشت کیا جائے اور عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق حاصل ہو۔
اس ملک کے عوام کو ووٹ کے ذریعے اپنے حکمران منتخب کرنے کا حق آئین نے تسلیم کیا ہے۔ ووٹ صرف ایک پرچی نہیں، بلکہ عوام کی آواز، ان کا اختیار اور ان کے مستقبل کا فیصلہ ہے۔ عوام جسے اپنے ووٹ سے منتخب کریں، اس کے مینڈیٹ کا احترام کرنا ہی جمہوریت کی اصل روح ہے۔
پاکستان کسی ایک شخص، جماعت یا ادارے کا نہیں، پاکستان اس کے عوام کا ہے۔ اس کی عزت تب ہی ہوگی جب آئین کی عزت ہوگی، قانون کی بالادستی ہوگی اور ریاست کے تمام ادارے اپنی اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کریں گے۔
وطن سے محبت صرف 14 اگست کو سبز ہلالی پرچم لگانے کا نام نہیں۔ وطن سے محبت یہ بھی ہے کہ ہم ناانصافی کے خلاف آواز اٹھائیں، سچ بولنے کا حوصلہ رکھیں، اختلافِ رائے کو برداشت کریں اور اپنے ملک کے قانون اور آئین کا احترام کریں۔
ہمیں ایسا پاکستان چاہیے جہاں طاقت قانون کے تابع ہو، قانون سب کے لیے برابر ہو، ووٹ کی عزت ہو، عوام کی آواز سنی جائے اور کسی شہری کو اپنے بنیادی حقوق کے لیے خوف محسوس نہ ہو۔
آج یومِ آزادی پر صرف یہ نہ کہیں کہ پاکستان زندہ باد؛ بلکہ یہ عہد بھی کریں کہ ہم پاکستان کو ایسا ملک بنانے میں اپنا کردار ادا کریں گے جہاں آئین زندہ ہو، جمہوریت مضبوط ہو، انصاف سب کے لیے ہو اور عوام کی مرضی کو سب سے مقدم سمجھا جائے۔
کیونکہ پاکستان صرف ایک زمین کا ٹکڑا نہیں،
یہ ہمارے بزرگوں کی قربانیوں کی امانت ہے۔
اور امانت کی حفاظت صرف نعروں سے نہیں، کردار سے ہوتی ہے۔
آزادی کا مطلب غلامی کی ہر شکل سے انکار، اپنے حق کی حفاظت اور اپنے وطن کو اس کے اصل خواب کے مطابق مضبوط بنانا ہے۔
پاکستان ہماری پہچان بھی ہے، ہماری امید بھی، اور ہماری ذمہ داری بھی۔ 🇵🇰
#14اگست #یوم_آزادی #پاکستان_زندہ_باد #ووٹ_کی_عزت #آئین_کی_بالادستی #جمہوریت
عمران خان — ایک نام، ایک سفر، اور کروڑوں امیدیں
پاکستان کی سیاست میں کچھ نام صرف سیاست دان نہیں رہتے، وہ ایک پورے دور کی پہچان بن جاتے ہیں۔ عمران خان بھی ایسا ہی ایک نام ہے۔ ایک طرف وہ شخص ہے جس نے کھیل کے میدان میں پاکستان کو دنیا کے سامنے سرخرو کیا، اور دوسری طرف وہ سیاسی رہنما ہے جس نے روایتی سیاست کو چیلنج کیا اور ملک کے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد کو سیاست میں دلچسپی لینے پر مجبور کیا۔
عمران خان کے سیاسی سفر میں کامیابیاں بھی ہیں، غلطیاں بھی؛ مقبولیت بھی ہے اور شدید مخالفت بھی۔ لیکن اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ انہوں نے پاکستان کی سیاست کو بدل کر رکھ دیا۔ آج سیاست پر ہونے والی تقریباً ہر گفتگو میں عمران خان کا ذکر کسی نہ کسی صورت میں موجود ہے۔
ان کے حامی انہیں امید، خودداری اور تبدیلی کی علامت سمجھتے ہیں، جبکہ مخالفین ان کی پالیسیوں اور سیاسی فیصلوں پر سوال اٹھاتے ہیں۔ لیکن ایک جمہوری معاشرے میں کسی رہنما کی مقبولیت کا مطلب یہ نہیں کہ وہ تنقید سے بالاتر ہو جائے، اور اختلاف کا مطلب یہ بھی نہیں کہ کسی شخص کے خلاف نفرت کو جائز سمجھ لیا جائے۔
میری نظر میں اصل امتحان صرف عمران خان کا نہیں، بلکہ پاکستان کے پورے سیاسی نظام کا ہے۔
اگر عمران خان نے غلطی کی ہے تو اس کا فیصلہ آئین اور قانون کے مطابق ہونا چاہیے۔ اگر ان کے خلاف مقدمات ہیں تو انہیں شفاف اور منصفانہ قانونی عمل سے گزرنا چاہیے۔ اور اگر وہ سیاسی طور پر مقبول ہیں تو اس مقبولیت کا احترام بھی جمہوری اصولوں کے مطابق ہونا چاہیے۔
اسی طرح ریاست کے تمام اداروں کے لیے بھی ایک ہی اصول ہونا چاہیے: آئین سب سے بالاتر ہے۔ کوئی سیاسی جماعت، کوئی سیاسی رہنما، کوئی سرکاری ادارہ اور کوئی طاقتور فرد اپنے آئینی دائرے سے باہر نہیں ہونا چاہیے۔
کیونکہ آج اگر ہم اپنے پسندیدہ شخص کے لیے قانون کی بالادستی چاہتے ہیں تو کل ہمیں اپنے مخالف کے لیے بھی یہی اصول تسلیم کرنا ہوگا۔
عمران خان رہے یا نہ رہے، کوئی اور حکومت آئے یا جائے، اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم ایک ایسا پاکستان بنا سکتے ہیں جہاں حکومت عوام کے ووٹ سے آئے، ادارے اپنی آئینی حدود میں رہیں، عدالتوں پر اعتماد ہو، سیاسی اختلاف کو دشمنی نہ سمجھا جائے اور عام پاکستانی کو انصاف کے لیے طاقتور ہونے کی ضرورت نہ پڑے؟
شاید یہی وہ پاکستان ہے جس کی امید ہر پاکستانی اپنے دل میں لیے بیٹھا ہے۔
عمران خان ایک سیاسی حقیقت ہیں، لیکن پاکستان کسی ایک شخص کا نہیں۔ پاکستان ہم سب کا ہے۔
اس لیے میری خواہش کسی شخصیت کی فتح سے زیادہ پاکستان کے آئین، قانون، جمہوریت اور عوام کی فتح ہے۔
شخصیات آتی جاتی رہتی ہیں، قومیں اپنے اصولوں سے زندہ رہتی ہیں۔
🇵🇰 پاکستان سب سے پہلے۔ پاکستان ہمیشہ رہے گا۔
ازقلم : سعد فاروقی
Fake account alert 🚨 This account is impersonating me. It is fake. Please report it immediately and avoid responding to any messages from it. Thank you!
وقت دا بیلی ہرکوئی بندا اے
شالا وقت نہ کھاوے ڈولے
سجن بن دشمن ویندے
جدوں وقت نوں پیندے رولے
وقت سلامت ہووے ماہی
سجن آن کھلوندے نیں کولے
غلام فریدا سدا وقت نئیں رہندے
او کدے ماشے تے کدے تولے
خواجہ غلام فریدؒ
جیسا گمان کرو گے اللہ کو ویسا ہی پاؤ گے، اپنے رب سے کبھی مایوس نہ ہونا، چاہے ہر طرف اندھیرا چھا جائے تب بھی یاد رکھنا کہ اندھیروں پر غالب بھی وہی رب ہے۔ ❤
Wishing all American friends a Happy 4th of July! 🇺🇸
May this Independence Day bring peace, unity, and continued progress.
#4thofJuly#IndependenceDayUSA#PakistanUSA
نبی کریم ﷺ نے معاذ ؓ کو جب حاکم بنا کریمن بھیجا تو آپ ﷺ نے انہیں ہدایت فرمائی کہ:
"مظلوم کی بد دعا سے ڈرتے رہنا، کہ اس (دعا) کے اور الله تعالیٰ کے درمیان کوئی پردہ نہیں ہوتا."
بخاری 2448
آمد آمد برکتوں والا مہینہ ✨❤️
اللہ ہم سب کو عافیت والی دین اسلام والی سکون والی زندگئ عطا کرئے۔ پورے کے پورے دین اسلام پر چلنے کی توفیق عطا کرئے۔ آمین ثم آمین
ارکان کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے مجھے ایوان کا اپوزیشن لیڈر منتخب کیا ہے۔ شہباز شریف😂
جعلی مینڈیٹ والا شہباز شریف خود اپنے منہ سے تسلیم کر گیا کہ اسے لیڈر آف اپوزیشن منتخب کیا گیا ہے مگر مسلط کرنے والے اسے وزیراعظم کی گدی پہ بٹھانے کو تلے ہیں۔