فیملی کیس کے دوران عدالتی تاریخ میں نیا موڑ
تین سالہ قانون جنگ کے بعد جسٹس محسن اختر کیانی نے میاں بیوی کے درمیان صلح کرا دی
جسٹس محسن اختر کیانی کے کمرہ عدالت میں جذباتی منظر
اسلام آباد کے رہائشی میاں بیوی اکٹھے رہنے پر راضی ہو گئے
عدالت نے گزشتہ جمعہ سے آج تک میاں بیوی کو سوچنے کا وقت دیا تھا
جسٹس محسن اختر کیانی دونوں میاں بیوی کو اکٹھے رہنے پر قائل کرنے میں کامیاب
عدالتی حکم نامے پر میاں بیوی نے اکٹھے رہنے کی رضامندی کے دستخط کر دئیے
بیوی کو تاحیات الگ پورشن میں رکھیں گے ، عدالت کا خاوند کو حکم
سمعیہ قمر راجہ ایڈوکیٹ و دیگر وکلا نے کیس کی پیروی کی
چار بچے جسٹس محسن اختر کیانی کی عدالت پیش
چاروں بچے سے والدین کی کمرہ عدالت میں ملاقات کرا گئی
بچوں کو روسٹرم پر بلا کر جسٹس محسن اختر کیانی نے انٹرویو کئے
ماما آپ گھر آجائیں ، بچوں کا عدالت کے سامنے بیان
تینوں بچوں کو جسٹس محسن اختر کیانی نے تحائف بھی دئیے
بچوں کا بٹوارا نہیں ہو سکتا بچے پراپرٹی نہیں ہوتے ، جسٹس محسن اختر کیانی کے ریمارکس
یہ مرد کا ہی کام ہے کہ عورت کو منا کے رکھے ، جسٹس محسن اختر کیانی
مردوں کا تربیتی فقدان ہے ، جسٹس محسن اختر کیانی کے ریمارکس
ایک عورت جو اپنے والدین کا گھر چھوڑ کے آتی ہے اس کو محبت اور احترام ملنا چاہیے، جسٹس محسن اختر کیانی
مرد ذرا بیوی کے گھر رہ کر دیکھائے نا ، جسٹس محسن اختر کیانی
مرد کا کام ہے کہ عورت کو الگ رہائش مہیا کرے ، جسٹس محسن اختر کیانی
اس کیس میں ایسے معلوم ہوتا ہے کہ میاں بیوی سے زیادہ خاندان کا مسئلہ ہے ، جسٹس محسن اختر کیانی
عدالت اس کیس میں تحریری آرڈر پاس کرے گی ، عدالت
بچوں کے انٹرویو ریکارڈنگ کرنے پر ایک شخص سے موبائل فون لے لیا گیا
آپ نے کیوں ریکارڈنگ کی ؟ جسٹس محسن اختر کیانی کا ویڈیو ریکارڈ کرنے والے سے استفسار
میں نے یہ ریکارڈنگ اس لئے کی تاکہ گھر والوں کو دیکھاؤ ،ویڈیو ریکارڈ کرنے والا سائل
میں نے گھر والوں کو بتانا تھا کہ یہاں اس قسم کے کیسز بھی ہوتے ہیں ، سائل
تاریخی سماعت تھی اس سے قبل میں نے ایک کیس میں دیکھا تھا لاہور ہائیکورٹ نے بچوں کو کمرہ عدالت سے باہر نکال دیا ، سائل
آج خوشی ہوئی بچوں کو آپ نے سنا ، سائل
While others flee under the pretext of illness, the true son of the soil, Imran Khan, refuses any relief despite his suffering. Imran Khan, we owe you more than words can express.
پہلے خان صاحب بولتے تھے کہ میرے پاکستانیوں
اب کتنے دکھ اور افسوس کی بات ہے کہ آج وہ کہہ رہا ہے کہ مجھے اپنی سسٹرز اور بچوں سے ملاقات کرائی جائے باقی کچھ نہیں چاہیئے
اس کا مطلب ہم سب بخوبی جان سکتے ہیں کہ وہ کتنی تکلیف میں ہونگے
⚠️ Testimony from aboard the Global Sumud Flotilla:
“They dragged Greta by her hair, beat her, and forced her to kiss the Israeli flag — all in front of us. They wanted to make an example,” recounts Turkish activist Ersin Çelik.
The world must not stay silent. Demand answers. Demand accountability. Demand justice.