پی ٹی آئی والے تو ایسے رولا ڈال رہے ہیں جیسے یہ یونیورسٹی میں کوئی پہلا واقعہ پیش آیا ہو،
اس سے پہلے بھی ایک بندے کا حلیہ بگاڑ دیا تھا، کپڑے تک پھاڑ دیے تھے اس کے۔
یہ شخص کس طرح بھرے میدان میں باہر سے آکر ایک طالب علم کو مارتا ہیں اسکو بے عیزت کرتا ہیں؟ کس نے اسکو تعلیمی ادارے میں داخل ہو کر اسی ادارے کے طالب علم پر تشدد کی اجازت دی ہیں؟اسکو سخت سزا دی جائے اور اسی طالب علم سے معافی مانگنے پر مجبور کیا جائے تاکہ یہ آیندہ کے لیے سبق ہو!
پاکستان بننے سے پہلے اور پاکستان بننے کے بعد یعنی آج تک خدائی خدمتگاروں نے قربانیاں دی ہیں اور دے رہے ہیں لیکن اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹیں
سپین تنگی سے لیکر مولاناخانزیب شہید تک یہ تسلسل صرف اسی وجہ سے چل رہا ہے کہ یہ لوگ اس مٹی کے حقیقی وارث ہیں
#SpeenTangiMassacre1930
تھریڈ- ۱
خیبر پختونخوا کا ہزارہ ڈویژن یا ہزارہ صوبہ؟
نوٹ: یہ تحریر میرے طویل مضمون "پختونخوا کو تقسیم کرنے کی کوششیں: تاریخ اور مقاصد" کا ایک مختصر حصہ ہے، جو ماہنامہ "پختون" کے آئندہ شمارے کے لیے لکھا گیا ہے۔ یہاں اسے اردو میں پیش کیا جا رہا ہے۔
اگر خیبر پختونخوا کے ہزارہ ڈویژن سے ایک الگ صوبہ بنانے کے ڈسکورس کا تجزیہ کیا جائے تو چھوٹے صوبے بنانے کا بیانیہ اور اغراض و مقاصد کافی حد تک واضح ہو جاتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ مرکزی دھارے کے میڈیا میں پختونخوا کو توڑ کر ہزارہ ڈویژن کو الگ صوبہ بنانے کے مسلسل بیانیے کی بنیاد کیا ہے؟ مرکزی دھارے کا میڈیا یہ مؤقف پیش کرتا ہے کہ بہتر انتظام و انصرام کے لیے چھوٹے صوبے بنانا ضروری ہے، لہٰذا ہزارہ ڈویژن کو بھی صوبہ بنایا جانا چاہیے۔ لیکن یہ مؤقف نہ کسی مضبوط سیاسی دلیل پر قائم ہے، نہ اسے ثقافتی شناخت کی بنیاد پر واضح جواز حاصل ہے اور نہ ہی اس کے حق میں کوئی مضبوط معاشی دلیل موجود ہے۔
اگر دنیا اور خطے کے ترقی یافتہ یا بڑے ممالک کی مثال سامنے رکھی جائے تو پاکستان کے ہمسایہ ملک ہندوستان میں راجستھان، مدھیہ پردیش، مہاراشٹرا اور اتر پردیش جیسے بڑے صوبے/ریاستیں موجود ہیں، جن میں سے بعض کا حجم اس قدر بڑا ہے کہ پورا پاکستان ان میں سما سکتا ہے۔ اسی طرح امریکہ کی ریاستوں الاسکا اور ٹیکساس کا رقبہ بھی بہت وسیع ہے۔ طرفہ تماشا یہ ہے کہ انیس سو پچاس کی دہائی میں ہمیں طاقت و اختیار کے انہی مراکز سے یہ باور کرانے کی کوشش کی جاتی رہی ہے کہ پاکستان کی ترقی و بقا کیلئے دو بڑے صوبوں۔۔مغربی پاکستان اور مشرقی پاکستان۔۔کا وجود بہت ضروری ہے۔ پہلے بھی انکا ہدف مرکزیت پسند بیانئے کے ذریعے قومی وحدوں کی شناختوں کو توڑ کر وسائل و حکمرانی پر قبضہ کرنا تھا اور آج چھوٹے صوبوں کا ڈسکورس بھی اسی مقصد کیلئے ہے۔ پہلے بھی عوامی جمہوری حکمرانی پر ضرب لگانا تھا اور آج بھی ہے۔ پہلے بھی اس سے معاشی بدحالی، غربت و افلاس، نابرابری اور قرضوں کا بوجھ بڑھ گیا تھا اور آج بھی بعینہہ ایسا ہی ہوگا۔ پہلے بھی اشرافیہ ہی مضبوط ہوئی تھی اور آج بھی وہی ہوگا۔ اسٹیبلشمنٹ کے اس ڈسکورس کو آگے بڑھانے والے یہ بنیادی حقیقت فراموش کر دیتے ہیں کہ پاکستان نے صوبے نہیں بنائے بلکہ صوبوں نے مل کر پاکستان بنایا ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ اگر ہزارہ کے ان علاقوں کو الگ دیکھا جائے جہاں پشتو، شینا اور انڈس کوہستانی زبانیں بولی جاتی ہیں، تو جن چند اضلاع اور تحصیلوں میں "ہزارہ صوبہ" بنانے کا مطالبہ زیادہ زور و شور سے کیا جاتا ہے، وہاں گورننس کا مسئلہ بھی نسبتاً کم ہے۔ ایبٹ آباد نہ سڑکوں کے حوالے سے پسماندہ ہے، نہ ہسپتالوں کے معاملے میں محروم، نہ تعلیمی اداروں کے اعتبار سے کمزور ہے اور نہ ہی روزگار یا امن و امان کے حوالے سے وہاں کوئی ایسا غیر معمولی بحران موجود ہے جو الگ صوبے کے قیام کو ناگزیر بناتا ہو۔
چونکہ اسٹیبلشمنٹ کا انتظامی یا گورننس کا استدلال زیادہ وزن نہیں رکھتا، اس لیے وہاں بعض لوگوں کو اس بنیاد پر متحرک کیا گیا ہے کہ ہزارہ ڈویژن کی زبان، ثقافت اور نسل پختونخوا کے دیگر علاقوں سے مختلف ہے، لہٰذا اسے الگ صوبہ ہونا چاہیے۔ چونکہ ہزارہ کا رخ ایک طویل عرصے سے پختونخوا سے ہٹانے کی کوششیں کی جاتی رہی ہیں، اس لیے بعض لوگ اس قسم کے نعروں سے متاثر بھی ہو جاتے ہیں۔ نسلی اور مذہبی بنیادوں پر قائم پروپیگنڈا لوگوں کو جذباتی طور پر زیادہ تیزی سے اپنی طرف کھینچتا ہے، اسی لیے نسلی اور لسانی بیانیے پر زیادہ زور دیا جاتا ہے۔
اگرچہ ہندکو زبان کو پختونخوا میں قانونی طور پر تعلیم کی زبان کا درجہ بھی دیا گیا ہے، اس کے باوجود بعض حلقے اسٹیبلشمنٹ کی پشت پناہی سے ہندکو کی بنیاد پر نسلی سیاست کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن اگر ہزارہ ڈویژن میں زبانوں کی حقیقی تقسیم کا جائزہ لیا جائے تو صورتِ حال کہیں زیادہ پیچیدہ اور متنوع نظر آتی ہے۔
ہزارہ ڈویژن کے کوہستان کے تین اضلاع میں زیادہ تر آبادی کوہستانی شینا اور انڈس کوہستانی زبانیں بولتی ہے۔ بعض لوگ چِلیسو، گاؤرو، بٹیری اور پشتو بھی بولتے ہیں۔ دو دیگر اضلاع، تورغر اور بٹگرام میں تقریباً مکمل طور پر پشتو بولی جاتی ہے۔ ضلع مانسہرہ کے اوگی اور دربند تحصیلوں میں بھی تقریباً تمام آبادی پشتو بولتی ہے، جبکہ ضلع کے دیگر علاقوں میں گوجری اور پشتو دونوں زبانیں بولی جاتی ہیں۔ بڑی تعداد میں لوگ دو لسانی بھی ہیں۔
پاکستان میں اگر آپ وردی میں اپنی کسی بہن، بیٹی کو اوباش نوجوانوں سے بچاتے ہیں تو گرفتار ہونا پڑتا ہے۔
یہ واقعہ سرحد یونیورسٹی کے اسلام آباد کیمپس میں پیش آیا۔ ویڈیو بتا رہی ہے کہ قصوروار کون ہے، لیکن گرفتار پھر بھی وہی ہوا جس نے وردی پہن رکھی تھی۔
ANP U.C Tirat Madyan cabinet elected. Councillors elected Atiqu as President,Salahuddin as G.S & others office bearers. Ex MPA Jafar Shah,Member district org committe Tariq,Tehsil Presdnt Raza khan & others specially attended the event.
بونیر !
لوگ توقع کر رھے تھے کہ وزیر آعلی صاحب بونیر میں میڈیکل یونیورسٹی کا اعلان کر ینگے اور اعلان ھوا بھی لیکن اُلٹا بونیر والوں سے چندے کا اعلان کر دیا۔ 🤮۔