غائب ہوا کہاں کہ وہ بے خواب ہی نہیں
تاروں کے اس غبار میں مہتاب ہی نہیں
توفیقِ اضطراب ترا ارمغان ہے
تجھ بِن جہاں کو نوح کا سیلاب ہی نہیں
زنداں میں بھی خمار دکھات�� ہے شش جہت
رنداں تو شہ نشین سے بے تاب ہی نہیں
قنوطؔ لاہوری
روز، ای روز دلارا
داده ات خورشید رخشان
این چنین رخسار زیبا
ورنه بودی زشت و بیجان
این درختان
با همه سبزی و خوبی
گو چه می بودند جز پاهای چوبی
گر نبودی مهر رخشان
اردو ہے جس کا نام ہمیں جانتے ہیں داغؔ
سارے جہاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے
18世紀の北インドのウルドゥー語詩人、Daagh Dihlaviのガザルにある一句ですね。下半句saare jahaanは当初Hindustaanと書かれていたようですが、現在世界各地にいるウルドゥー語話者を鑑みれば「世界中」もしっくりくる
دشتِ تنہائی میں، اے جانِ جہاں لرزاں ہیں
تیری آواز کے ��ائے، ترے ہونٹوں کے سراب
دشتِ تنہائی میں، دوری کے خس و خاک تلے
کھل رہے ہیں، ترے پہلو کے سمن اور گلاب
فیض احمد فیضؔ
بول زباں اب تک تیری ہے
تیرا ستواں جسم ہے تیرا
بول کہ جاں اب تک تیری ہے
دیکھ کہ آہن گر کی دکاں میں
تند ہیں شعلے سرخ ہے آہن
کھلنے لگے قفلوں کے دہانے
پھیلا ہر اک زنجیر کا دامن
بول یہ تھوڑا وقت بہت ہے
جسم و زباں کی موت سے پہلے
بول کہ سچ زندہ ہے اب تک
بول جو کچھ کہنا ہے کہہ لے