ستم ظریفی یہ ہے کہ وزیرتعلیم پنجاب ایک استاد کے لیے 20 ہزار کی تنخواہ اور وزیراعلی کے لیے 11 ارب کے طیارے کو بیک وقت ڈیفنڈ کررہے ہیں اگر وزیراعلی کے لیے امریکی صدر والی سہولیات ہیں تو پنجاب کے استاد کے لیے امریکی ٹیچرز والی تنخواہ اور سہولیات کیوں نہیں؟سوال کرنے پر الجھ پڑے۔۔۔
ن لیگ کی ایک خاتون وزیر پر لندن میں فلیٹس خریدنے کی خبریں آ رہی ہیں اور ایک خاتون وزیر کے بارے میں نجم سیٹھی کہہ رہے ہیں کہ ان کی وزارت کو پیسہ کھلایا گیا ہے اور وہ پیسہ کھلانے والوں کے لیے قانون سازی کروا رہی ہیں ،
اس سے پہلے فیصل ووڈا ایک حکومتی سیاستدان کے بیٹے کے متعلق کہہ رہے ہیں کہ وہ ایک ملک میں نہیں جا سکتا
اچانک حکومتی شخصیات کے اسکینڈلز کیوں نکلنا شروع ہو گئے ہیں ؟؟؟
بیوی شادی سے پہلے حاملہ ہوی میں نے اس کو گھر بھیج دیا کیا میں نے ٹھیک کیا ۔۔ میری شادی کو چار ہفتے ہوے ہیں جبکہ ڈاکٹر کہتے میری بیوی کا حمل چھ ہفتے پرانا ہے ۔
انتہائ اہم اور سنجیدہ مسئلہ جسکا جواب عالم دین کے پاس بھی نہی تھا ۔
اک شوہر نے لائیو کال کر کے بلال قطب صاحب کے پروگرام میں یہ سوال پوچھا ۔
ساتھ بیٹھے مولوی نے کہا اپ نے غلط کیا اب وہ اپکے نکاح میں ہے اسے معاف کر دیں اگے بڑھ جائیں ۔
بلال قطب نے کہا مولوی صاحب دلیل دیں ۔۔ مولوی صاحب ادھر ادھر دیکھنے لگ گے ۔ میرے لیے حیرانگی کی بات تھی کہ اک عالم دین کے پاس دلیل نہی تھی اس نے بھی لڑکی کے کردار کو مشکوک سمجھ لیا تو شوہر نے تو ایسا کرنا تھا ۔
اس پر قطب صاحب بولے اپکی حالت دیکھ کر مجھے غامدی صاحب کی وہ بات یاد ا گی جو وہ کہتے ہیں اپنے بچوں کو ایف ایس سی کرا کے مدرسے میں داخل کرایا کریں ۔۔
اب اس پر بلال قطب نے جو وضاحت دی وہ کمال کی دی اس نے کہا کہ یہ ممکن ہے بچہ اپکا ہے۔
ہمیشہ ایسی صورت حال تب واقع ہوتی ہے جب لڑکی شب عروسی والی رات پریگنینٹ ہو جاے ۔
پھر یہی ایشو بنتا ہے لڑکی کے کردار پر انگلی اٹھتی ہے ۔ کئی بہنیں بیٹیاں قران پر حلف دے کر بھی کردار کی گواہی دیتی رہتی ہیں مگر کوی ماننے کو تیار ہی نہی ہوتے ۔۔
ہمیشہ حمل کا دورانیہ جس دن پریڈ ختم ہوتے ہیں وہاں سے کاونٹ ہوتا مطلب چار ہفتے اپکی شادی کو ہو گے دو ہفتے وہ شامل ہیں جب بچی کا پریڈ ختم ہوا ٹوٹل چھ ہفتے بن گے ۔
جتنے بھی گائناکالوجسٹ ہیں وہ اسی بنیاد پر کاونٹنگ کرتے ہیں ۔مگر اس نے گائنکالوجسٹ سے وضاحت مانگنے کی بجاے کہ کیسے چار ہفتوں کی شادی کو چھ ہفتے کہ رہے ہیں اس نے اپنی بیوی کو ہی چھوڑ دیا ۔
بلال قطب کو خود سمجھ نہیں آئی کے وہ عورت کو کیا جواب دیں نیشنل ٹی وی پر کم از کم اُن لوگوں کو بیٹھائیں جنکو دین اور قانون دونوں کی سمجھ ہو جو سوال کرنے والے کو مطمئن کر سکیں بے عزت نہیں
🚨🚨یہ حقیقت بہت بھیانک حقیقت ہے
50 سال حکومت کرنے والوں نے صرف پنجاب نہیں پورے ملک عوام کو تباہ و برباد کر رکھا ہوا ہے
کراچی کے علاقے کیماڑی میں گٹر صاف کرنیوالا یہ شخص انگریزی میں بتا رہا ہے کہ اُس نے پشاور یونیورسٹی سے پولیٹیکل سائنس اور انٹرنیشنل ریلیشنز میں ماسٹر کیا ہوا ہےنوازشریف کا دور تھاملازمت کےلئے اپلائی کیا 70 سیٹیں تھی اُن کی قیمت تھی 🤲👍❤️
Mardin'de adeta savaş alanına dönen kavganın görüntüleri ortaya çıktı!
Derik ilçesine bağlı Kuşçu Mahallesi'nde iki aile arasında çıkan silahlı çatışmada 5 kişi yaralanırken, olayın güvenlik kamerası görüntüleri dehşetin boyutunu gözler önüne serdi.
Olay 15 Haziran'da yaşandı.
Taraflar arasında henüz bilinmeyen bir nedenle başlayan husumet, kısa sürede silahların çekildiği çatışmaya dönüştü.
Peş peşe ateş açıldı.
Tekme ve yumruklar havada uçuştu.
Film sahnelerini aratmayan görüntülerde, çatışmanın ortasında kalan bir kişinin yere düştüğü ve uzun süre darbedildiği anlar da kameralara yansıdı.
Olayla bağlantılı 5 kişi tutuklanarak cezaevine gönderildi.
#Mardin #Kavga #GüvenlikKamerası #Tutuklama #showhaber
یہ پاکستان ھے جہاں مہنگی بجلی سے جان چھڑانے کے لیے لوگ خود ھی انجنئیر بن کر ونڈ ٹربائن بنا کر لگا رہے ہیں حکومت کو فوری طور پر ان پر ٹیکس لگانے کی طرف توجہ دینی چاہیے تاکہ آئی پی پیز کو موٹی رقم ادا کرتے رہیں
ہائیڈروجن سولر پینل
وہ انقلاب جس سے دن رات بجلی پیدا کی جا سکتی ہے ۔
دنیا دیکھ رہی ہے کہ توانائی کا ایک نیا باب لکھا جا رہا ہے اور اس باب کا عنوان ہے ہائیڈروجن سولر پینل یعنی وہ پینل جو دن میں سورج سے بجلی بناتا ہے اور رات کو ذخیرہ شدہ ہائیڈروجن سے بجلی دیتا ہے بغیر کسی مہنگی بیٹری کے
یہ ٹیکنالوجی کام کیسے کرتی ہے
بیلجیم کی کے یو لیوون یونیورسٹی نے ایک ایسا ہائیڈروجن پینل تیار کیا ہے جو ہوا میں موجود پانی کے بخارات کو سورج کی روشنی سے ہائیڈروجن گیس میں تبدیل کر دیتا ہے یہ پینل روزانہ 250 لیٹر ہائیڈروجن پیدا کرتا ہے اور اس کی کارکردگی پندرہ فیصد ہے جو اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ ہے یہ عام سولر پینل جیسا دکھتا ہے فرق صرف اتنا ہے کہ اس میں تاروں کی جگہ گیس پائپ لگی ہوتی ہیں 
دن میں پینل بجلی بناتا ہے اور وہ بجلی پانی کو توڑ کر ہائیڈروجن اور آکسیجن الگ کر دیتی ہے ہائیڈروجن محفوظ کر لی جاتی ہے پھر جب سورج ڈوب جائے تو وہی ہائیڈروجن فیول سیل کے ذریعے واپس بجلی میں بدل جاتی ہے نتیجہ یہ کہ گھر چوبیس گھنٹے روشن رہتا ہے 
ہائیڈروجن میں ایک خاص خوبی ہے کہ اسے بیٹری کے برعکس بغیر توانائی ضائع کیے بہت دیر تک محفوظ رکھا جا سکتا ہے اور اسے گیس پائپ کے ذریعے ایک جگہ سے دوسری جگہ بھیجا جا سکتا ہے 
کیا یہ مارکیٹ میں آ چکا ہے
ابھی تک یہ پینل عام مارکیٹ میں دستیاب نہیں ہے لیکن لانچ بالکل قریب ہے کے یو لیوون کے اسپن آف Solhyd نے 60 لاکھ یورو کی سرمایہ کاری حاصل کر لی ہے اور 2026 تک میگاواٹ اسکیل پر پیداوار شروع کرنے کا ہدف طے کر لیا ہے  2026 تک ہر سال پانچ ہزار پینل بنانے کا منصوبہ ہے اور کمپنی کے بانی جان رونج کے مطابق یہ پینل 2026 سے تجارتی طور پر دستیاب ہو گا 
ابھی یہ پینل عام صارفین کے لیے اتنا تیار نہیں ہوا کہ بازار میں فروخت ہو تاہم Solhyd کے علاوہ امریکی کمپنی SunHydrogen بھی 2009 سے اس میدان میں کام کر رہی ہے 
قیمت کیا ہو گی
Solhyd کا موقف ہے کہ کسی بھی جدید ٹیکنالوجی کی طرح شروع میں قیمت زیادہ ہو گی لیکن جیسے سولر پینل نے پانچ سال میں اپنی قیمت آدھی کر لی ویسے ہی ہائیڈروجن پینل کی قیمت بھی آنے والے سالوں میں عام سولر پینل کے برابر آ جائے گی  ماہرین کا اندازہ ہے کہ 2030 کے بعد عام استعمال کے قابل قیمت پر یہ دستیاب ہو سکتا ہے
گاڑیاں اور ایل پی جی کا متبادل
یہ ٹیکنالوجی گاڑیوں پر بھی لاگو ہو سکتی ہے خاص طور پر چھوٹے اور درمیانے کاروبار اپنی مال بردار گاڑیاں تیل اور گیس کی بجائے ہائیڈروجن پر چلا سکتے ہیں اور بڑی صنعتیں جیسے سٹیل اور کیمیکل بھی ہائیڈروجن کی طرف منتقل ہو سکتی ہیں 
Toyota Mirai جیسی گاڑیاں ہائیڈروجن فیول سیل پر چل رہی ہیں اور 400 میل تک کا فاصلہ طے کرتی ہیں Hyundai نے ہائیڈروجن ٹرک اور بس بھی متعارف کرائے ہیں یورپ اپنا ہائیڈروجن ایندھن کا ڈھانچہ تیزی سے پھیلا رہا ہے 
لیکن گاڑیوں میں ہائیڈروجن کا استعمال ابھی پاکستان کے لیے ایل پی جی کا فوری متبادل نہیں بن سکتا کیونکہ پاکستان میں ہائیڈروجن فیولنگ اسٹیشن نہیں ہیں پیداواری پلانٹ نہیں ہیں اور تقسیم کا نظام بھی موجود نہیں اس لیے بڑے پیمانے پر اپنانا فی الحال مشکل ہے 
پاکستان کے لیے کتنا فائدہ مند ہے
پاکستان میں اس وقت جو صورتحال ہے وہ اس ٹیکنالوجی کو خاص طور پر ضروری بنا دیتی ہے لوڈشیڈنگ دیہی علاقوں میں آٹھ سے بارہ گھنٹے تک پہنچ گئی ہے اور بجلی کے بلوں نے زیادہ تر DISCO زونز میں ساٹھ روپے فی یونٹ کی حد عبور کر لی ہے اسی لیے پاکستانی گھرانے تیزی سے سولر کی طرف آ رہے ہیں 
ہائیڈروجن سولر پینل اس صورت میں بیٹری کے اخراجات بچا سکتا ہے اور رات کو بھی بلا تعطل بجلی دے سکتا ہے سندھ میں ایک بڑا منصوبہ پہلے سے موجود ہے ایک منصوبے میں 260 میگاواٹ بیٹری اسٹوریج اور ہائیڈروجن پیداوار کی سہولت شامل ہے جو روزانہ ڈیڑھ لاکھ کلوگرام ہائیڈروجن پیدا کرے گی یہ منصوبہ Oracle Energy اور چین کی CET کمپنی نے مل کر تیار کیا اور SEPA نے 2024 میں اسے منظور کیا 
پاکستان میں یہ پینل کب آئے گا
سچ یہ ہے کہ پاکستانی گھروں کی چھتوں تک آنے میں ابھی وقت لگے گا کیونکہ پہلے یورپ اور جاپان کی صنعتی منڈیوں میں داخلہ ہو گا پھر قیمت نیچے آئے گی اور تب تیسری دنیا کے ممالک تک رسائی ممکن ہو گی 2030 سے 2035 کا عرصہ وہ وقت ہو سکتا ہے جب پاکستان میں کوئی امپورٹر یہ ٹیکنالوجی لاۓ گا ۔
یہ ٹیکنالوجی حقیقی ہے اور انقلابی ہے لیکن ابھی لیبارٹری سے نکل کر فیکٹری میں داخل ہوئی ہے رات کو اور ابر آلود دنوں میں ذخیرہ شدہ ہائیڈروجن سے بجلی پیدا ہوتی ہے مہنگی بیٹری کی ضرورت نہیں رہتی اور نظام ماحول دوست ہے  پاکستان کے لیے یہ سنہری موقع ہے کہ ابھی سے اس ٹیکنالوجی کی نگرانی کریں ۔